چیف جسٹس پاکستان قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ ماضی کو دیکھیں، ایک شخص آتا ہے اور پارلیمنٹ کو ربر اسٹیمپ کردیتا ہے، امریکہ میں یہ سب نہیں ہوتا، ہمارا ماضی بہت بوسیدہ ہے۔
سپریم کورٹ میں پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس کی سماعت جاری ہے، چیف جسٹس پاکستان جسٹس قاضی فائزعیسی کی سربراہی میں فل کورٹ کیس کی سماعت کررہا ہے۔
جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین خان، جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ اے ملک، جسٹس اطہر من اللّٰہ، جسٹس سید حسن اظہر رضوی، جسٹس شاہد وحید اور جسٹس مسرت ہلالی فل کورٹ میں شامل ہیں۔
صدرسپریم کورٹ بارعابد زبیری کے دلائل
سماعت کے آغاز میں صدر سپریم کورٹ بارعابد زبیری روسٹرم پرآئے جس پرچیف جسٹس نے ان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ چلیں شروع کریں۔
وکیل عابد زبیری نے جواب دیا کہ میں سب سے پہلے قانون کی تمہید پڑھنا چاہونگا۔
جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ پارلیمنٹ رولزنہیں بنا سکتی نا ہی رولز بنانے کے لیے قانون سازی کرسکتی ہے، موجودہ قانون کے دائرہ کار میں رہ کر رولز میں رد و بدل کرنے کا اختیار صرف سپریم کورٹ کے پاس ہے۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہا کہ آئین کہتا ہے کہ سپریم کورٹ اپنے پریکٹس اینڈ پروسیجر کے رولز بنانے کے لیے بااختیار ہے، اگرسپریم کورٹ آئین سے بالا رولز بناتا ہے تو کوئی تو یاد دلائے گا کہ آئین کے دائرے میں رہیں جس پرجسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ آئین تو پہلے ہی سپریم کورٹ کو پابند کرتا ہے کہ آئین و قانون کے مطابق رولز بنائے۔
اسلام آباد: سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس کی سماعت#BOLNews #SupremeCourt pic.twitter.com/4Y06POi6VA
— BOL Network (@BOLNETWORK) October 9, 2023
’’اگرسبجیکٹ ٹو لا کو نکال دیں تو رولز بنانے کے اختیار پر کیا فرق پڑے گا؟‘‘
چیف جسٹس پاکستان نے عابد زبیری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ میرے سوال کا جواب دے دیں کہ اگرسبجیکٹ ٹو لا کو نکال دیں تو رولز بنانے کے اختیار پر کیا فرق پڑے گا؟ وقت کم ہے جواب جلدی دیں۔
وکیل عابد زبیری نے دلائل دیے کہ اگرآئین سے آئین و قانون کے مطابق رولز بنانے کے الفاظ ہٹا دیے جائیں تو بھی فرق نہیں پڑے گا۔ جس پرچیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ بس ٹھیک ہے جواب آ گیا اگلے نکتے پر جائیں۔
جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ آئین میں سپریم کورٹ رولز بنانے کا اختیار کہاں اورکس کو دیا گیا ہے؟ آئین کے مطابق رولز بنانے کا اختیار سپریم کورٹ کے پاس ہے؟ سپریم کورٹ کے رولز بنانے کا اختیار آئین کے مطابق ہی ہے۔
جسٹس منیب اخترنے کہا کہ ہر چیز آئین کے ہی مطابق ہو سکتی ہے سب کو معلوم ہے۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آج اس مقدمہ کی سماعت کا آخری دن ہے، ہم وکلا کو سننا چاہتے ہیں، وکلا جو بھی کہیں گے وہ ہم اس سے اپنے فیصلے میں اتفاق یا اختلاف کریں گے، اپنے اگلے نکتے پر دلائل دیں۔
وکیل عابد زبیری نے کہا کہ میں نے اپنے تحریری نکات بھی تیار کیے ہیں۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہا کہ دلائل جمع کروانے کیلئے ہم نے مہلت دی تھی، باقی دنیا کی تاریخ ہم بتاتے ہیں، ایسے جب مرضی کاغذات فائل کریں امریکا میں۔
جسٹس محمد علی مظہرنے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175 کے مطابق کوئی بھی عدالت کو وہی اختیار ہے جو آئین دیتا ہے جس پرچیف جسٹس نے کہا کہ آئین کے الفاظ کا حوالہ دیں۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ آئین کے صرف ایک آرٹیکل کو نہیں اٹھا سکتے۔
عابد زبیری نے دلائل دیے کہ نیوجرسی کی عدالت میں کہا گیا کہ قانون سازی کرنے اور رولز بنانے میں فرق ہے۔
جسٹس محمد علی مظہرنے کہا کہ آرٹیکل 175 ٹو کو آرٹیکل 191 کے ساتھ ملا کر پڑھیں، آرٹیکل 175 ٹو کسی بھی عدالت کے مقدمات کو سننے کا اختیار بتایا گیا ہے۔
صدرسپریم کورٹ بار نے دلائل دیے کہ سپریم کورٹ کے رولز سے متعلق آرٹیکل 142 اے اور اینٹری 55 کو ملا کر پڑھنا ہوگا، سپریم کورٹ کے رولزبنانے کے اختیارسے متعلق آئینی شق کو تنہا نہیں پڑھا جا سکتا۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ فل کورٹ یہ مقدمہ سن رہی ہے تا کہ وکلاء سے کچھ سمجھ اور سیکھ سکیں، آئینی شقوں پر دلائل دیں۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آئینی شقوں کو ملا کر پڑھنا ہوتا ہے، آئین کے کچھ آرٹیکل اختیارات اور کچھ ان اختیارات کی حدود واضح کرتے ہیں۔
وکیل عابد زبیری نے کہا کہ یہ تو معززسپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے، جس پرچیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ معززسپریم کورٹ نہیں ہوتی، معززججز ہوتے ہیں، اصطلاحات ٹھیک استعمال کریں۔
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ہم یہاں آئین اور قانون سازوں کی نیت دیکھ رہے ہیں، اگر آئین سازوں کی نیت دیکھنی ہے تو آرٹیکل 175 دیکھیں، اگر آئین سازوں نے مکمل اختیار سپریم کورٹ کو دینا ہوتا تو واضح طورپرلکھ دیتے، اگر کوئی بھی ضابطہ قانون یا آئین سے متصادم ہو گا تو وہ خود ہی کالعدم ہو جائے گا۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ میں سوال واضح کر دیتا ہوں، جوڈیشل کمیشن اور سپریم جوڈیشل کونسل کے رولزسے متعلق آئین میں لکھا ہے کہ آئینی باڈیزخود قانون بنائیں گی، جب سپریم کورٹ کے ضابطوں سے متعلق آرٹیکل 191 میں لکھا ہے کہ قانون سے بھی بن سکتے ہیں، سوال یہ ہے کہ آئین سازوں نے خود آئین کے ساتھ قانون کا آپشن دیا۔
وکیل عابد زبیری نے دلائل دیے کہ اگرآج بھی سپریم کورٹ اپنے رولز خود بنا لے تو کوئی اعتراض نہیں اٹھا سکتا، آئین کہتا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل اپنے قوانین خود بنائے گی جن کی وقعت آئینی ضوابط کے برابر ہو گی۔
وکیل عابد زبیری نے دلائل دیے کہ اگرآج بھی سپریم کورٹ اپنے رولز خود بنا لے تو کوئی اعتراض نہیں اٹھا سکتا، آئین کہتا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل اپنے قوانین خود بنائے گی جن کی وقعت آئینی ضوابط کے برابر ہو گی۔
جسٹس منیب اخترنے کہا کہ کیا وفاقی شرعی عدالت اپنے رولز بنانے کے اختیار میں سپریم کورٹ سے بھی اونچی سطح پر ہے؟ وکیل عابد زبیری نے جواب دیا کہ سپریم کورٹ اگراپنے رولز خود بنائے تو وہ تمام رولز سے اونچی سطح پر ہوں گے۔
’’پاکستان میں 184 تین کا استعمال کیسے ہوا؟‘‘
چیف جسٹس پاکستان نے استفسارکیا کہ پاکستان میں 184 تین کا استعمال کیسے ہوا؟ کیا ہیومن رائٹس سیل کا تذکرہ آئین یا سپریم کورٹ رولز میں تذکرہ ہے؟ آرٹیکل 184 تھری سے متعلق ماضی کیا رہا ؟ یا تو کہہ دیتے کہ 184 تین میں ہیومن رائٹس سیل بن سکتا تھا، اس بات پر تو آپ آنکھیں بند کرکے بیٹھ گئے ہیں۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہا کہ اس سے پہلے کہ دنیا مجھ پر انگلی اٹھائے میں خود اپنے اوپر انگلی اٹھا رہا ہوں، آپ یہ تو کہہ دیں کہ سپریم کورٹ کے ایک چیف جسٹس نے اگرغلطی کی تو پارلیمنٹ اس کو درست کر سکتی ہے یا نہیں؟ نیو جرسی نا جائیں، پاکستان کی ہی مثال دے دیں، سپریم کورٹ غلطی کر دے تو کیا پارلیمنٹ اس کو درست کر سکتی ہے؟ آپ پی ٹی آئی کی نمائندگی نہیں کر رہے؟
صدرسپریم کورٹ بار نے جواب دیا کہ نہیں میں سپریم کورٹ بار کی نمائندگی کر رہا ہوں، آپ کی رائے سن چکا ہوں، ابھی آرٹیکل 184 تین پر آ رہا تھا، میں آپ سے متفق ہوں کہ آرٹیکل 184 تین کا غلط استعمال ہوتا رہا۔
جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجرسے زیادہ بڑا مسئلہ جبری گمشدگیوں کا ہے، چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اگر چیف جسٹس یہ کیس پہلے مقرر کر رہے ہیں اور جبری گمشدگیوں سے متعلق نہیں تو پارلیمنٹ قانون سازی نہیں کرسکتی؟
جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے رولز پر پارلیمنٹ نے پابندی لگائی لیکن ہائیکورٹ اور شرعی عدالت کے ضابطوں پر کیوں نہیں؟ جبکہ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ ہائیکورٹس اپنے پریکٹس اینڈ پروسیجر بنانے کے لیے خود بااختیار ہے۔
وکیل عابد زبیری نے دلائل دیے کہ اگرآج بھی سپریم کورٹ اپنے رولز خود بنا لے تو کوئی اعتراض نہیں اٹھا سکتا، آئین کہتا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل اپنے قوانین خود بنائے گی جن کی وقعت آئینی ضوابط کے برابر ہو گی۔
جسٹس منیب اخترنے کہا کہ کیا وفاقی شرعی عدالت اپنے رولز بنانے کے اختیار میں سپریم کورٹ سے بھی اونچی سطح پر ہے؟ وکیل عاب زبیری نے جواب دیا کہ سپریم کورٹ اگراپنے رولز خود بنائے تو وہ تمام رولز سے اونچی سطح پر ہوں گے۔
صدرسپریم کورٹ بار نے جواب دیا کہ نہیں میں سپریم کورٹ بار کی نمائندگی کر رہا ہوں، آپ کی رائے سن چکا ہوں، ابھی آرٹیکل 184 تین پر آ رہا تھا، میں آپ سے متفق ہوں کہ آرٹیکل 184 تین کا غلط استعمال ہوتا رہا۔
جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجرسے زیادہ بڑا مسئلہ جبری گمشدگیوں کا ہے، اگرچیف جسٹس یہ کیس پہلے مقرر کر رہے ہیں اور جبری گمشدگیوں سے متعلق نہیں تو پارلیمنٹ قانون سازی نہیں کرسکتی؟ پارلیمنٹ کے پاس ویسے بھی اختیار ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار کو بڑھا یا کم کر سکتا ہے، کیا پارلیمنٹ بنیادی حقوق سے متعلق قانون سازی نہیں کر سکتا ؟
جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ اس کیس میں اچھے برے یا صحیح غلط کا سوال نہیں، اختیارکا سوال ہے، یہ بتائیں کہ قانون جتنا بھی اچھا ہو، سپریم کورٹ کے رولز بنانے کا اختیار پارلیمنٹ کے پاس ہے یا نہیں۔
جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اگرانصاف تک رسائی کے حق کی سپریم کورٹ خلاف ورزی کر رہی ہو تو کیا پارلیمنٹ مداخلت نہیں کر سکتی ؟ آپ اس کیس کے قابل سماعت ہونے پر دلیل نہیں دے سکے۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ماضی میں آرٹیکل 184 تھری کا استعمال صحیح ہوا یا غلط ؟ میرے سوال کا جواب دیں کہ بطور سپریم کورٹ بار آپ کی کیا رائے ہے؟ اگرمگر نہیں سیدھا جواب دیں جس پروکیل عابدزبیری نے جواب دیا کہ آرٹیکل 184 تین کا غلط استعمال ہوا اور اس کے خلاف اپیل ہونی چاہیے۔
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ سے کون سے بنیادی حقوق متاثر ہوئے یہ بتا دیں، وکیل جواب دیا کہ سپریم کورٹ میں اپیل کا حق صرف آرٹیکل 185 کے تحت ہے۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہا کہ اس مقدمے کو بھی ہم آرٹیکل 184 تھری کے تحت سن رہے ہیں، آپ کے مطابق آرٹیکل 184 تھری کا دائرہ اختیار نا پارلیمنٹ بڑھا سکتا ہے نا سپریم کورٹ، پھر ہم یہ کیس کیوں سن رہے ہیں؟ سپریم کورٹ خود مقدمات میں آرٹیکل 184 تھری کا دائرہ بڑھائے تو ٹھیک، پارلیمنٹ بڑھائے تو غلط ہے، اگر انکم ٹیکس آرڈیننس یا فیملی رائٹس میں ترمیم ہو تو کیا براہ راست سپریم کورٹ میں درخواست آ سکتی ہے؟
وکیل نے جواب دیا کہ بالکل آ سکتی ہے، جس پرچیف جسٹس نے کہا کہ آپ کا جواب نوٹ کررہا ہوں کہ بنیادی حقوق کے علاوہ بھی قانون سازی براہ راست سپریم کورٹ میں چیلنج ہو سکتی ہے۔
عابد زبیری نے کہا کہ آئین کے اصل دائرہ اختیار 184 تھری میں اپیل کا حق نہیں دیا گیا، چیف جسٹس نے کہا کہ اس کی جوابی دلیل میں یہ دے سکتا ہوں کہ آرٹیکل 184 تھری کا استعمال کیسے ہوا، کسی سیاسی جماعت پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ ہو جائے تو کیا اس کے خلاف اپیل نہیں ہونی چاہیے، اگر کوئی مریض کہیں مر رہا ہو اور کوئی میڈیکل کی ذرا سی سمجھ رکھتا ہو تو وہ اس لیے مرنے دے کہ وہ ڈاکٹر نہیں ہے؟ پارلیمنٹ نے اچھی نیت سے قانون سازی کی۔
جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ کے لیے دروازہ کھول دیتے ہیں کہ وہ سپریم کورٹ کے ہر معاملے میں مداخلت کرے گی، ایک بار دروازہ کھل گیا تو اس کا کوئی سرا نہیں ہوگا، قانون سازی اچھی یا بری بھی ہوسکتی ہے، یہ نہیں ہو سکتا کہ قانون سازی درست ہے تو ٹھیک ہے یا ورنہ اس کو کالعدم قرار دے دیں، آئین اس طرح سے نہیں چل سکتا۔
چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسٰی نے کہا کہ ماضی کو دیکھیں، ایک شخص آتا ہے اور پارلیمنٹ کو ربر اسٹیمپ کردیتا ہے، امریکہ میں یہ سب نہیں ہوتا، ہمارا ماضی بہت بوسیدہ ہے۔
جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ ایکٹ میں آئین کی کون سے شق کا حوالہ دیا گیا ہے؟ ایسے تو سادہ اکثریت سے قانون سازی کا دروازہ کھولا جا رہا ہے جب کہ جسٹس منیب اخترنے کہا کہ آئین میں سادہ اکثریت سے بالواسطہ ترمیم کر کے دروازہ کھولا جا رہا ہے۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کل کی باتیں نا کریں آج کی صورتحال بتائیں، ہم بھی مانتے ہیں کہ صوبائی اسمبلیوں کو ایسی قانون سازی کا اختیار نہیں ہے، بس اب دلائل ختم کریں، یہ تاثر مت دیں کہ آپ یہ کیس ختم کرنا نہیں چاہتے۔
جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اگرکسی نے 188 کے تحت نظر ثانی ایک بار دائر کر دی تو وہ اپیل نہیں کرسکتا، ایکٹ کے تحت نظر ثانی کے خلاف تو اپیل کا حق نہیں دیا گیا۔
انھوں نے وکیل عابد زبیری نے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ بوجھ سپریم کورٹ پر پڑے گا تو گھبراہٹ آپ کو کیوں ہو رہی ہے؟ آپ کے دلائل مکمل ہو گئے اور اگلے فریق کو 20 منٹ سنیں گے، پارلیمنٹ کو تو کہتے ہیں نمبر گیم پوری ہونی چاہیے لیکن فرد واحد آ کر آئینی ترمیم کرے تو وہ ٹھیک ہے، پارلیمنٹ کچھ اچھا کرنا چاہتی ہے تواس کو کچلنا کیوں چاہتے ہیں؟
جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار بڑھانے سے متعلق دلائل دیں۔
وکیل عدنان خان کے دلائل
سپریم کورٹ میں پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف درخواستوں پر سماعت وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوئی تو درخواست گزار عامرصادق کے وکیل عدنان خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کو ایکٹ کے ذریعے سپریم کورٹ کے رولز بنانے کا اختیار حاصل نہیں، آئین سازوں نے دانستہ طورپرپارلیمنٹ کو سپریم کورٹ کے ضابطوں میں رد و بدل کا اختیار نہیں دیا، پارلیمنٹ کو ایکٹ کے ذریعے سپریم کورٹ کے رولز بنانے کا اختیار حاصل نہیں، آئین سازوں نے دانستہ طور پر پارلیمنٹ کو سپریم کورٹ کے ضابطوں میں رد و بدل کا اختیار نہیں دیا، چیف جسٹس کے آفس کو پارلیمنٹ نے بےکار کر دیا، سپریم کورٹ دو بنیادوں پر کھڑا ہے، ایک چیف جسٹس اور دوسرا باقی ججز۔
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ایسے تو فل کورٹ بلانے کی کیا ضرورت ہے صرف چیف جسٹس کیس سن لیتا، جبکہ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ چیف جسٹس کو جہاں اختیارات دیے گئے وہ آئین میں درج ہیں، چیف جسٹس کو سپریم کورٹ کے سوا کہاں تنہا اختیارات دیے گئے؟
وکیل عدنان خان نے جواب دیا کہ آئین کہتا ہے چیف جسٹس خود بغیر کسی مشاورت کے بنچز بنا سکتا ہے، چیف جسٹس اور دیگر ججز میں فرق انتظامی اختیارات ہیں۔ اگر دو ججز کہتے ہیں کہ اگلے ہفتے سے بنچ نہیں بنانے صرف چیمبر ورک کرنا ہے تو چیف جسٹس کے اختیارات بےکار ہوں گے جس پرجسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آپ ابھی تک مستقبل کا بتا رہے ہیں، ابھی اس قانون سے آپ کا کون سا بنیادی حق متاثر ہوا ہے؟ آپ ہمارے سامنے اپنے کون سے بنیادی حق کا دفاع کر رہے ہیں؟
وکیل عدنان خان نے جواب دیا کہ پارلیمنٹ کو قانون سازی کا کوئی اختیار نہیں ہے اور اس سے تمام بنیادی حق متاثر ہوتے ہیں، سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ سے انصاف تک رسائی کے آرٹیکل 4 کی خلاف ورزی ہوئی، ایکٹ میں فوری مقرر ہونے والے مقدمات کا طریقہ کار دے کر سپریم کورٹ کی تضحیک کی گئی۔
چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ ہم پہلے بھی کیس مقرر کرنے کے لیے اپنا دماغ استعمال کیا کرتے تھے، میں نے تو پہلے ہی کیس منیجمنٹ کمیٹی کو کیسزکے تقرر کا اختیار دیا ہے، کیا میں نے کیس منیجمنٹ کمیٹی بنا کر آئینی خلاف ورزی کی؟
جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ پشاور ہائیکورٹ کے حراستی مراکزسے متعلق فیصلے کے خلاف اپیل 4 سال سے سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے، اہم کیسز کے مقررنا ہونے پر قانون سازی کیوں نہیں ہوسکتی؟
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اگر میں حراستی مراکز سے متعلق کیس مقرر نہیں کرتا تو آپ کے پاس کیا حل ہوگا؟ وکیل عدنان خن نے جواب دیا کہ مشاورت اچھی چیزہے اور چیف جسٹس اپنے ساتھیوں میں سے کسی سے بھی مشاورت کر سکتے ہیں، اس قانون میں کہیں مشاورت کا درج نہیں ہے۔
’’قانون یا شرع کی رو میں کہاں درج ہے کہ قاضی کا فیصلہ آخری ہوگا؟‘‘
چیف جسٹس نے استفسارکیا کہ کوئی ایسا قانون یا شرعی قانون ہے کہ اپیل کا کوئی حق نہیں ہے؟ قانون یا شرع کی رو میں کہاں درج ہے کہ قاضی کا فیصلہ آخری ہوگا؟ کوئی حوالہ دے دیجیے جس پروکیل عدنان نے جواب دیا کہ میں ریفرنس جمع کرا دوں گا، اس کے ساتھ ہی انھوں نے دلائل بھی مکمل کرلیے۔
درخواست گزار محمد شاہد رانا ایڈووکیٹ کی جانب سے وکیل امتیازراشد صدیقی نے چیف جسٹس سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے کہا تھا کہ اٹارنی جنرل سے پہلے ہمیں سنیں گے۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کب کہا تھا آرڈر شیٹ دیکھ لیں، جس پروکیل امتیاز صدیقی نے کہا کہ آپ اپنے اسلوب دیکھیں۔ خواجہ طارق رحیم نے اسی وجہ سے عدالت آنے سے انکار کردیا۔
بات کرنے کی کوئی تمیز بھی ہوتی ہے، آپ اپنی نشست پر بیٹھ جائیے
پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیس؛ چیف جسٹس اور وکیل امتیاز صدیقی کے درمیان تلخی#BOLNews #SupremeCourt #QaziFaezIsa pic.twitter.com/d4NK1dATe9— BOL Network (@BOLNETWORK) October 9, 2023
چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ آپ تمیز سے بات کریں، اس کے بعد انھوں نے گزشتہ سماعت کا آرڈر پڑھ کے سنا دیا۔ انھوں نے وکیل امتیاز صدیقی کو تنبیہ کی کہ اب آپ آرام سے بیٹھ جائیں اس پہلے ہم کچھ اورکریں۔ ان کے بعد مسلم لیگ ق کے وکیل زاہد ابراہیم نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے حق میں دلائل شروع کیے۔
وکیل شاہد رانا نے دلائل دیے کہ اگر 15 ججز فیصلہ کریں گے تو اپیل کس کے پاس جائے گی؟ جس پرعدالت نے کہا کہ 15 ججز فیصلہ کریں گے تو نہیں ہوگی اپیل یہاں اللہ کے پاس جائے گی۔
وکیل نے کہا کہ ہائیکورٹ میں فیصلہ دینے والے جج سے انٹراکورٹ اپیل میں مختلف ججز کیس سنتے ہیں، سپریم کورٹ میں اپیلیں آرٹیکل 185 کے تحت ہوتی ہیں، آرٹیکل 185 کے تحت اپیل اب آرٹیکل 184 میں تو نہیں ہو سکتی۔
سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیس کی سماعت جاری آرٹیکل 142 پارلیمنٹ کو قانون سازی کے اختیارات دیتا ہے، ایکٹ کے ذریعے سپریم کورٹ کے اختیار کو بڑھایا گیا، وکیل ق لیگ زاہد ابراہیم#BOLNews #SupremeCourt pic.twitter.com/1sFrnGfjwl
— BOL Network (@BOLNETWORK) October 9, 2023
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہم آپ کو اس بات کا جواب فیصلے میں دے دیں گے، یہ معاملہ پہلے کبھی کیوں نہیں اٹھایا گیا؟ کیا پتا سپریم کورٹ نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہو، سپریم کورٹ اپنے اختیارات سے تجاوز کرے تو قانون سازی سے اس کو درست نہیں کیا جا سکتا، یہاں بار کے انتخابات جیتنا مشکل ہے وہاں دو تہائی اکثریت کے لیے نمبرز پورے کرنا کتنا مشکل ہوتا ہے، سپریم کورٹ کے آرٹیکل 184 تھری کے دائرہ کار میں کیے گئے تمام فیصلے درست ہیں؟
چیف جسٹس اور وکیل امتیاز صدیقی کے درمیان تلخ کلامی
وکیل شاہد رانا نے جواب دیا کہ سپریم کورٹ کو آرٹیکل 184 تھری کے تحت مفاد عامہ کے کیسزسننے چاہیے مفاد خاصہ کے نہیں۔ اس کے ساتھ ہی چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے اٹارنی جنرل کو روسٹرم پر بلا لیا۔
وکیل امتیاز صدیقی نے دلائل کے لیے وقت نہ دینے پر اعتراض اٹھا دیا جس کے بعد چیف جسٹس پاکستان اور وکیل امتیاز صدیقی کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔
امتیازصدیقی نے کہا کہ آپ نے کہا تھا کہ پہلے ہمیں سنیں گے پھر اٹارنی جنرل کو سنیں گے، ہمیں نا سننا ناانصافی ہے، جس پرچیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ کہاں لکھا ہے حکم نامے میں کہ آپ کو ابھی سننا ہے؟
وکیل نے جواب دیا کہ آپ ہمارے ساتھ اپنا سلوک دیکھیں، جس پرچیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کوئی بات کرنے کی تمیز بھی ہوتی ہے۔
درخواست گزاروں کے دلائل مکمل ہونے کے بعد جسٹس اعجازاالاحسن نے کہا کہ اگر آپ این آر او فیصلہ پڑھیں تو وہاں رولز سے متعلق واضح کہہ دیا گیا ہے۔
چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے وکیل زاہد ابراہیم سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ پہلے آپ اپنے دلائل مکمل کرلیں، جوابات بعد میں دے دیں۔ سوالات نوٹ کرتے جائیں بعد میں جواب دے سکتے ہیں، میرا قلم ہوا میں رہ جاتا ہے آپ پہلے اپنا پوائنٹ پورا کردیں۔
جسٹس یحیٰی آفریدی نے کہا کہ آپ فل کورٹ کو اپنی رائے بتا دیں، وکیل زاہد ابرہیم نے کہا کہ یہ کیس خود تسلیم کر رہا ہے کہ پارلیمنٹ قانون سازی کرسکتی ہے۔
جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ کیسے ممکن ہے کہ “سبجیکٹ ٹو لا” لکھ کر پارلیمنٹ کو سپریم کورٹ کے رولز پر قانون سازی کا اختیار دے دیا گیا ہو؟ آرٹیکل 188 اور آرٹیکل 191 میں فرق ہے۔
جسٹس منیب اختر نے جسٹس اعجاز الاحسن کو ایک چٹ لکھ کے چیف جسٹس کو دینے کا کہا، جسٹس اعجازالاحسن نے چیف جسٹس کو چٹ دی تو چیف جسٹس نے سماعت میں وقفہ کردیا، کہا کہ وقفے کے بعد آپ دلائل دیں، ہم سماعت میں کچھ دیر کے لیے وقفہ کررہے ہیں۔
سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کے خلاف کیس پرپھر وقفے کے بعد سماعت شروع ہوئی تو وکیل زاہد ابراہیم نے کہا کہ منطقی نتائج مختلف لوگوں کے لیے مختلف ہوتے ہیں۔ وفاقی قانون سازی کی فہرست میں کچھ چیزوں کے بارے قانون سازی کا اختیار دیا گیا ہے. میں پارلیمنٹ کی قانون سازی کے اختیار پر فوکس رہوں گا۔ آپ پارلیمنٹ کی قانون سازی کے اختیار پر بات کرینگے۔
زاہد ابراہیم نے دلائل دیے کہ آرٹیکل 142 قانون سازی کے اختیارات دیتا ہے، ایکٹ کے ذریعے سپریم کورٹ کے اختیار کو بڑھایا گیا جس پرجسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ بڑھایا اسی چیز کو جاتا ہے جو پہلے سے موجود ہو، اپیل کا حق 184/3میں تو موجود ہی نہیں تھا، آئین کے مطابق پارلیمان سپریم ہے اختیارات بڑھا سکتی ہے۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کیا ہم اختیارات بڑھانے کے لفظ کو پابندی کیلئے استعمال کریں گے؟ جبکہ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اختیارات کو بڑھانے کو آرٹیکل 175(2) کے ساتھ ملا کر پڑھیں گے یا نہیں، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ پارلیمنٹ کی جب مرضی ہوگی قانون بنائے گی کیا یہ آپکی دلیل ہے؟
جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ کیا یہ کوئی طریقہ کار کا معاملہ ہے یا خاص؟
چیف جسٹس نے کہا کہ زاہد صاحب برائے مہربانی اپنے دلائل تو بتائیں پہلے، جس کے بعد وکیل زاہد ابراہیم نے عدلیہ آزادی سے متعلق بیرونی ممالک کی نظیروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدلیہ کی آزادی کی مختلف ممالک سے مختلف مثالیں ملتی ہیں۔ عدلیہ پر باہر سے دباؤ نہیں آنا چاہیے، باہر سے آنے والا دباؤ عدلیہ آزادی کے خلاف تصور ہوتا ہے۔ لیکن یہاں پارلیمان کا معاملہ ہے، پارلیمان عدلیہ سے متعلق قانون سازی کرسکتی ہے۔
چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے کہا کہ میرے خیال میں چیف جسٹس اورعدلیہ میں فرق ہے۔ چیف جسٹس کے اختیارات کو عدالتی اختیارات تصور نہیں کیا جاسکتا۔ چیف جسٹس کے اختیارات کی تقسیم عدلیہ آزدی سے انحراف کیسے ہوسکتا ہے۔ جب میں چیف جسٹس بنا تو میں نے پہلے سے موجود رولز دیکھے۔ ان میں بنچز کی تشکیل کا اختیارچیف جسٹس کے پاس ہے۔ حقیقت یہ ہے ذیادہ تر اختیار کاز لسٹ وغیرہ کے رجسٹرار آفس کے ہیں۔ مجھے ماسٹر آف دی روسٹر کا کہیں ذکر نہیں ملا۔
جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ ماسٹر آف دی روسٹر شاید کہیں استعمال نہیں ہوتا اور نہ اسکا کوئی ذکر ہے، جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ آئین کے مطابق پارلیمان سپریم کورٹ ہے اختیارات بڑھا سکتی ہے۔
’’ماسٹر آف روسٹر کون ہے؟‘‘
وکیل زاہد ابراہیم نے کہا کہ درخواست گزاروں سے سوال کیا گیا ہے کونسا بنیادی حق اس ایکٹ سے متاثر ہوا ہے، جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ کوشش کی گئی ہے کہ سپریم کورٹ کے کام کے طریقہ کار کو ریگولیٹ کیا جائے، عدلیہ کی مائیکرو مینجمنٹ مداخلت نہیں تو پھر کیا مداخلت ہوگی۔
جسٹس منیب اخترنے کہا کہ اس قانون کے بعد ماسٹر آف روسٹر کون ہے؟جس پروکیل نے جواب دیا کہ کمیٹی فیصلہ کرے گی، جسٹس منیب اخترنے کہا کہ کمیٹی نے پارلیمان ماسٹر آف روسٹر ہوگی، نکتہ یہ ہے کہ موجودہ سمیت کسی بھی صورتحال میں پارلیمان ماسٹر آف روسٹربن جائے گی۔
چیف جسٹس نے استفسارکیا کہ کیا ماسٹر آف روسٹر کا لفظ ہے؟ رولز میں چیف جسٹس کے بینچ مقرر کرنے کا ہے، مقدمات کا مقرر کرنے چیف جسٹس نے رجسڑار کا اختیار ہے، ماسٹر آف روسٹر کا لفظ کس قانون میں ہے؟
جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ دنیا میں اب کہیں بھی ماسٹرزنہیں، اگر ایک شخص کے پاس بینچز کی تشکیل کا اختیار ہے تو اس سے کیس کا نتیجہ متاثر کرسکتا ہے۔
’’میں ماسٹر نہیں آئین کے ماتحت ہوں۔‘‘
جسٹس منیب اخترنے کہا کہ اگرایک شخص نتائج پر اثرانداز کرسکتا ہے تو تین بھی ہو سکتے ہیں، چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ یہ پیغام اس عدالت سے نہیں جانا چاہیے کہ آئین و قانون کا انحصار چیف جسٹس کی خواہشات پر ہے، جو قانون ہے آئین ہے وہ چیف جسٹس کی خواہشات پر نہیں۔ یہ عدلیہ کی آزادی اور قانون کے منافی ہے۔ میں ماسٹر نہیں آئین کے ماتحت ہوں۔
وکیل صلاح الدین نے دلائل دیے کہ چیف جسٹس کے اختیارات سے متعلق سپریم کورٹ کے ججز کے حوالے سے بہت آرا آئی ہیں، جس پرجسٹس مظاہرنقوی نے کہا کہ اپ اپنے دلائل شخصیت کو مدنظر رکھ کر دے رہے ہیں۔
جسٹس منیب اختر نے کہا کہ جو آرا دی گئی وہ ان کی آرا ہوں گی، کسی کا ایک مؤقف ہوتا ہے دوسرے کا دوسرا مؤقف، بہتر ہو گا کہ پارلیمان کے اختیار پر دلائل دیں۔
چیف جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ میں آپکو سننا چاہتا ہوں اپنے دلائل دیں، جب کہ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ کیس میں پارلیمان کے اختیار اورایکٹ کے آئین سے متصادم پونے یا نہ ہونے کا نکتہ ہے جس کے بعد صلاح الدین نےجسٹس ر آصف سعید کھوسہ کے ارٹیکل کا حوالہ دیا۔ کہا کہ موجودہ بنچ کے 10 ممبران بھی چیف جسٹس کے اختیارات پر آواز اٹھا چکے۔
جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کیا اس کا یہ مطلب ہے پارلیمنٹ کو اختیار مل گیا؟ کیا پارلیمنٹ ماسٹر آف روسٹر ہے اس نکتے پرآئیں، کس کی کیا رائے ہے وہ الگ بات ہے، جسٹس مظاہرنقوی نے کہا کہ صلاح الدین آپ اس نکتے پر آئیں جو ہمارےسامنے ہے، آپ جو دلائل دے رہے ہیں وہ کیا شخصیات کی حد تک ہیں؟
وکیل صلاح الدین نے کہا کہ بنچ تشکیل کرنے کی پاور کوئی آئینی پاور نہیں ہے، جس پرجسٹس منیب اخترنے کہا کہ آپ نے 1861 کا انڈیا ایکٹ دیکھا؟ جس پربیرسٹر صلاح الدین نے جواب دیا کہ نو سر!
جسٹس منیب اخترنے کہا کہ میں آپ کو بتاتا ہوں اس پاور کا آغاز وہیں سے ہوتا ہے، برطانوی راج کا آغاز ہونے کے بعد 1861 میں پہلا قانون بنایا گیا، آئینی تاریخ دیکھیں تو ماسٹر آف روسٹر کے معاملے میں مداخلت پر واٹر مارک ہے۔
جسٹس مظاہرنے پوچھا کہ ایکٹ میں جو اپیل کا حق دیا گیا اس پر آپ کیا کہیں گے؟ بیرسٹرصلاح الدین نے جواب دیا کہ قانون سازی سے اپیل کاحق دیا جا سکتا ہے۔
جسٹس مظاہرنے کہا کہ آپ کیمطابق کیا یہ قانون سازی دو تہائی سے ہونی ہے؟ وکیل نے جواب دیا کہ سادہ قانون سازی سے ہی یہ ممکن ہے۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کیا پھرسادہ قانون سے عدالتی فیصلوں کی تشریحات بھی بدلی جا سکتی ہیں؟ بیرسٹر صلاح الدین نے جواب دیا کہ نہیں انہیں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ آپ پھرآرٹیکل 191 کے ایک پارٹ بلکہ پارٹ کو بے کار کر رہے ہیں، آرٹیکل 191 صاف کہتاہے رولز سپریم کورٹ بنائے گی، یہ ایکٹ سپریم کورٹ کو ڈکٹیشن دے رہا ہے، ایکٹ کہتا ہے اتنے رکنی کمیٹی ہو اتنا رکنی بنچ بنائے، سپریم کورٹ کو ڈکٹیٹ کرنا کہ بزنس کیسے چلاؤ یہ عدلیہ میں مداخلت نہیں تو کیا ہے؟
جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا پارلیمنٹ قانون سازی کی مجاز ہے یا نہیں؟ اگر پارلیمنٹ مجاز ہے تو پھر اسے ڈکٹیشن نہ کہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ایکٹ کے ذریعے چیف جسٹس کے ساتھ دو کو پائلٹ ہی لگائے گئے، ہم اپنے سائے اور کو پائلٹس سے گھبراتے کیوں ہیں؟ سوال یہی ہے پارلیمنٹ اس قانون سازی کی مجازہے یا نہیں۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔




















