Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

اسلام آبادہائیکورٹ کا ایک ہفتے میں الیکشن کمیشن کوتبادلے کے نوٹیفکیشن میں ترمیم کی ہدایت

اسلام آباد ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو تبادلے کے نوٹیفکیشن میں ایک ہفتے میں ترمیم کی ہدایت کردی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں الیکشن کمیشن کے حکم پرسی ڈی اے میں تعینات ڈیپوٹیشن افسران کے تبادلے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔

الیکشن کمیشن کی غلطی تسلیم کرتے ہوئے نوٹیفکیشن میں ترمیم کی یقین دہانی کرائی گئی جس کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو تبادلے کے نوٹیفکیشن میں ایک ہفتے میں ترمیم کی ہدایت کردی۔

جسٹس میاں گل نے کہا کہ جو لوگ وائٹل رول ادا کر رہے ہیں وہ پچھلی حکومت میں بھی تھے، اب اِس نگران حکومت میں اُنکی لائن پر ہیں۔ دوران سماعت انھوں نے الیکشن کمیشن حکام سے استفسارکیا کہ کیوں پِک اینڈ چوزکیا جارہا ہے۔

درخواست گزار ممبرسی ڈی اے وسیم حیات باجوہ کو دی گئی سہولیات واپس نہ لینے کا حکم دیتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ نے درخواست گزار کو گھر خالی کرنے سے روک دیا۔ عدالت نے کہا کہ بادی النظر میں درخواست گزار کو سی ڈی اے نے انتقام کا نشانہ بنایا، الیکشن کمیشن کو موقع دیا جا رہے کہ اس نوٹیفکیشن میں ترمیم کی جائے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو تعصب پر مبنی فیصلوں پر نظر ثانی کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کو آگاہ کریں کہ جو نوٹیفکیشن جاری ہو رہے ہیں ان کودیکھیں۔

عدالت نے کہا کہ ایک ہفتے کے بعد فریقین سے دلائل طلب اورسب کو سنا جائے گا۔

ڈی جی الیکشن کمیشن عدالتی حکم پر پیش نہ ہوئے جس پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے الیکشن کمیشن حکام پر برہمی کا اظہارکیا۔

وکیل الیکشن کمیشن نے بتایا کہ ڈی جی صاحب کی بیٹی کی شادی ہے اس لیے نہیں آئے، جس پر جسٹس میاں گل نے کہا کہ آپ تبادلے کے نوٹیفکیشن کی زبان دیکھیں ایسے ٹرانسفر کیا جاتا ہے؟ آپ اپنا اسٹیٹس خراب کر رہے ہیں تبھی ڈی جی کو بلایا تاکہ نوٹیفکیشن ان کی نظرسے گزرسکے، کہا گیا اس غلط آدمی کو ہٹا کر اچھے آدمی کو لگایا جائے، اس نوٹیفکیشن میں ترمیم کریں نوٹ کریں اور بتائیں چیف الیکشن کمشنر اور ممبران کو۔

وکیل وسیم حیات باجوہ نے بتایا کہ پوسٹنگ پراتنا کرتے ہیں تو الیکشن کیسے کروائیں گے، ہم گھرگئے تو سی ڈی اے والے باہر کھڑے تھے کہ گھر خالی کریں۔

جسٹس میاں گل نے کہا کہ اس نوٹیفکیشن میں کب کرینگے ترمیم بتائیں، وکیل الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ سی ڈے اے کا بھی لیٹر آیا ہوا تھا ہم نے اس پر ٹرانسفر کیا، وسیم حیات باجوہ کے خلاف کوئی انکوائری التوا میں نہیں تھی۔

عدالت نے کہا کہ سی ڈی اے ایک خودمختار ادارہ ہے۔

وکیل درخواست گزارراجہ انعام امین منہاس نے کہا کہ اگر یہ قانون جو یہ بتا رہے ہیں اس پر تو چیئرمین سی ڈی اے کو بھی تبدیل ہونا چاہیے۔

وکیل وسیم حیات نے  کہا کہ صرف پروپوزل کا لیٹر لکھا ہوا تھا انھوں نے اٹھا کر ٹرانسفر کردیا۔

عدالت نے کیس کی سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی کردی۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔

ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔

متعلقہ خبریں