سندھ ہائی کورٹ نے حیدرآباد ،سکھر،لاڑکانہ، میرپورخاص، شہید بے نظیر آباد سمیت دیگر تعلیمی بورڈزمیں عارضی چارج دینے کا نوٹیفیکیشن معطل کردیا۔
تفصیلات کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں سندھ کے تعلیمی بورڈز میں من پسند افراد کی تعیناتی کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔
ہائیکورٹ نے حیدرآباد ،سکھر، لاڑکانہ، میرپورخاص، شہید بے نظیر آباد اوردیگرتعلیمی بورڈز میں عارضی چارج دینے کا نوٹیفیکیشن معطل کردیا۔
عدالت نے بورڈز اینڈ یونیورسٹیز کے سیکریٹریز کی تعیناتی 2021 میں دیے گئے اشتہار کے مطابق کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سیکریٹری بورڈز اینڈ یونیورسٹیز سے 3 نومبر تک عمل درآمد رپورٹ طلب کرلی۔
دورانِ سماعت عدالت نے کہا کہ سیکریٹری یونیورسٹیز اینڈ بورڈز نے خود اعتراف کیا ہے کہ کراچی کے سوائے تمام بورڈز میں چئیرمینز کو اضافی، ایکٹنگ چارج دیے گئے تھے۔
عدالت نے آبزرویشن دی کہ کچھ بورڈز کے چیئرمین تین سالہ مدت پوری ہونے کے باوجود عہدوں پر تعینات ہیں جو کہ قانون کی خلاف ورزی ہے۔ عدالت نے مارچ 2023 میں سیکریٹری بورڈز اینڈ یونیورسٹیز کو رولز بناکر نوٹیفائی کرنے کا حکم دیا تھا۔
سندھ ہائی کورٹ نے کہا کہ عدالت کے مارچ 2023 کے احکامات پر بھی عمل درآمد نہیں ہوا ہے۔
حفیظ اللہ عبدالرحمان درخواست گزارنے مؤقف اپنایا کہ سندھ حکومت من پسند افراد کو بورڈز میں تعینات کررہی ہے، حیدر آباد، میرپور خاص، لاڑکانہ، سکھر کے تعلیمی بورڈز میں چیئرمینز کو ایڈیشنل چارج دینے کا نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے، سیکریٹری یونیورسٹیز اینڈ بورڈز کی جانب سے اضافی اور ایکٹنگ چارج دینے کا نوٹیفیکیشن غیر قانونی ہے۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔




















