سابق وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈارکیخلاف کرپشن کےثبوت نہ ہونے پرنیب نے احتساب عدالت میں جواب جمع کرادیا۔
تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت اسلام آباد میں اسحاق ڈار کیخلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات کا کیس میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، نیب کی جانب سے عدالت میں تحریری جواب جمع کرایا گیا کہ اسحاق ڈار کیخلاف کرپشن ثبوت نہیں کیس مزید نہیں چلایا جاسکتا۔
سماعت کے دوران جج محمد بشیرنے کہا کہ نیب پراسکیوٹر جنرل اس نکتے پر تحریری طور پر وضاحت دیں، اسحاق ڈار سمیت دیگر ملزمان کی بریت پر اعتراض نہیں تو لکھ کر دیں، کل کو نیب کہے کہ ہم نے تو ایسا کچھ نہیں کہا تھا۔
نیب پراسکیوٹر افضل قریشی نے کہا کہ ہم نے میرٹ پر دلائل دیے ہیں عدالت فیصلہ سنا دے جس پرعدالت نے کہا کہ آپ تحریری طور پر لکھ کردیں دن ایک بجے فیصلہ سنائیں گے۔ اس کے بعد احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے فیصلہ سنا دیا۔
اسحاق ڈار کے خلاف کرپشن کے ثبوت نہیں
نیب نے احتساب عدالت میں جواب جمع کرادیا #NAB #IshaqDar pic.twitter.com/GLQJXDaCuR— BOL Network (@BOLNETWORK) October 23, 2023
اسحاق ڈارکی جانب سے وکیل قاضی مصباح عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔
نیب پراسکیوٹر افضل قریشی نے دوران سماعت بتایایا کہ پراسکیوٹر جنرل نیب سید احتشام قادر شاہ نے مجھے احتساب عدالت میں بیان دینے کی ہدایت کی جس کے بعد عدالت نے نیب آرڈیننس کی سیکشن 31 بی پڑھنے کی ہدایت کی۔
قاضی مصباح ایڈووکیٹ نے کہا کہ اس کیس میں فرد جرم عائد ہوچکا ہے، یہاں پر دو طرح کی صورتحال کا سامنا ہے، عدالت نے اپنے گزشتہ فیصلے میں لکھا کہ اس کیس میں شواہد موجود نہیں ہے اس لیے کیس بند کیا جارہا ہے، الزام ثابت نہ ہونے کی صورت میں بری کرنا چاہیے تھا۔ اسحاق ڈار کیخلاف نیب کے پاس کوئی شواہد نہیں اس لیے بریت ہونی چاہیے۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔




















