Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

سپریم کورٹ نے ایک دن میں عام انتخابات کرانے کی درخواست خارج کردی

سپریم کورٹ نے ایک دن میں عام انتخابات کرانے کی درخواست خارج کردی، عدالتِ عظمٰی نے درخواست واپس لینے کی بنیاد پر کیس خارج کیا۔ 

سپریم کورٹ میں ملک بھر میں ایک ہی دن انتخابات کرانے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، دورانِ سماعت درخواست گزارسردار کاشت کے وکیل شاہ خاورنے درخواست واپس لینے کی استدعا کردی۔

وکیل شاہ خاور نے مؤقف اپنایا کہ اب اس درخواست کی ضرورت نہ رہے، کل عدالت پہلے ہی یہ معاملہ اٹھا چکی ہے، یہ اس وقت ہم نے ایک کوشش کی تھی، اس وقت عدالت نے چودہ مئی کو انتخابات کا آرڈر دیا تھا۔

جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آپ کو درخواست دینی چاہئے تھی کہ 90 دن میں الیکشن نہیں کرارہے ان کے خلاف کارروائی کریں،  اپ الیکشن التوا میں ڈالنے والوں کی معاونت کیوں کرتے رہے؟

چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ کیا ہم قانون کے مطابق ایسا کر سکتے ہیں جو آپ درخواست میں مانگ رہے ہیں، وکیل شاہ خوار نے جواب دیا کہ اس وقت ایک کوشش کی گئی کہ انتخابات کے حوالے سے اتفاق رائے پیدا ہو، اب عدالت پورے ملک کے انتخابات ہے حوالے سے مقدمہ سن رہی ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے وکیل شاہ خاورسے استفسارکیا کہ کیا مطلب؟ میں سمجھا نہیں، آپ کیا بات کرہے ہیں؟ وکیل نے جواب دیا کہ  اس وقت سپریم کورٹ نے 14 مئی کو پنجاب میں انتخابات کرانے کا حکم جاری کیا تھا، پھر ہم نے ملک بھی میں ایک ساتھ انتخابات کرانے کی درخواست دائر کی۔

چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ یہی تو سارا جھگڑا ہے، کیا اس وقت کوئی آڈر آف دی کورٹ جاری ہوا تھا؟ شاہ خاور نے جواب دیا کہ 4 آڈر آف دی کورٹ جاری ہوئے تھے۔

عدالت نے کہا کہ کسی مقدمے پرمختلف رائے ہو تو ایک آڈر آف دی کورٹ جاری ہوتا ہے، ہمارا کام تو ہے سوال پوچھنا، وکیل نے جواب دیا کہ اس طرح کا آڈر آف دی کورٹ نہیں تھا۔

جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آپ کو تو سپریم کورٹ کے آڈرکی خلاف ورزی کی درخواست دائر کرنا چاہیے تھی، آپ نے یہ درخواست دائر کرکے آئین کی خلاف ورزی کی کوشش نہیں کی؟

چیف جسٹس نے کہا کہ کیا عدالت کے پاس ایسا اختیار ہے کہ کوئی فیصلہ جاری کرسکے؟جس پروکیل نے جواب دیا کہ میں بالکل کہتا ہوں اسے سزا ملنی چاہیے۔

چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے سوال کیا کہ تو پھر کون ہے؟ الیکشن کا فیصلہ دینے والے بنچ کا آرڈر آف دی کورٹ کہاں ہے، آرڈر وہ ہوتا ہے جس پرسب ججزکے دستخط ہوں۔

فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ 14 مئی کے الیکشن کا فیصلہ دینے والا آرڈرآف دی کورٹ موجود ہی نہیں، 90 روزکی آئینی مدت کی خود عدالت نے بھی خلاف ورزی کی، عدالت نے 14 مئی کا آرڈر دیا وہ 90 دن سے باہرتھا۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ یہی تو سمجھ نہیں آرہی وہ کیا آرڈرتھا، یہ وہی کیس ہے نا جس میں بہت سے ججز نے اپنا اپنا آرڈر لکھا؟ آرڈر آف دی کورٹ کیا ہوتا ہے اسی کے لئے اپ 21 ویں آئینی ترمیم کا فیصلہ پڑھیں، اس فیصلے میں اختلاف موجود تھا مگر دستخط سب ججزنے کیے۔

چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ اگر4 سال بعد انتخابات کا حکم دیں تو کیا ایسا ہوسکتا ہے؟ قانون کے برخلاف تو کوئی فیصلہ نہیں کرسکتے۔

وکیل شاہ خاورنے جواب دیا  میرا مؤقف ہے کہ معاملہ ختم ہوگیا ہے جس پر جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ آپ کا کا مؤقف یہی تھا کہ ایک ساتھ انتخابات ہوں۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کل کو دوبارہ ایسی صورتحال پیدا ہو جائے تو پھر؟ وکیل نے جواب دیا کہ ہم پھر ایک درخواست دائر کردیں گے جس پرعدالت نے کہا کہ تو پھر اس معاملے پر ایک ہی بار فیصلہ نہ کردیں؟

چیف جسٹس قاضی فئزعیسٰی نے کہا کہ اگرآڈر آف دی کورٹ کی خلاف ورزی ہو تو توہین عدالت کی درخواست دائر کرسکتے ہیں،  آپ اکثریت کا فیصلہ چیلنج کریں، آڈرآف دی کورٹ کی اہمیت ہوتی ہے، ایک آڈر آف د کورٹ نہ ہو تو ہر جج کہے گا یہ آڈر آف دی کورٹ ہیں، انتخابات کے معاملے پر4 آڈر آف دی کورٹ تھے یا پانچ؟

پیپلزپارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا اس کیس میں مذاکراتی کمیٹی بات چیت کیلئے بنی تھی جس پرچیف جسٹس نے فاروق ایچ نائیک سے مکالمہ کیا کہ آپ سینئر وکیل ہیں، آڈر آف دی کورٹ سے اکثریت واضح ہوجاتی ہے، آڈر آف دی کورٹ سے فیصلے کا نتیجہ مل جاتا ہے۔

فاروق نائیک نے مؤقف اپنایا کہ نگراں حکومت آئین کے دیباچے کے خلاف ہیں، 6 ماہ کیلئے نگران سیٹ اپ کیسے ہوسکتا ہے؟ جس پرعدالت نے وکیل سے استفسار کیا کہ نگران حکومت کا مقصد کیا ہے، فاروق ایچ نائیک نے جواب دیا کہ نگران حکومت کا مقصد صاف اور شفاف انتخابات ہیں، آج تک صاف شفاف انتخابات نگران حکومت نہیں کراسکی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کرانا تو الیکشن کمیشن کا کام ہے۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے عام انتخابات ایک تاریخ کو کرانے کی درخواست خارج کردی۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔

ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔

متعلقہ خبریں