سندھ ہائیکورٹ نے ضیاالحق کالونی میں غیرقانونی تعمیرات کے خلاف درخواست کی سماعت کرتے ہوئے درخواست گزارسے بلڈنگ اپروو پلان اور نقشہ طلب کرلیا۔
دوران سماعت عدالت نے کہا کہ عمارت کو ایسے کیسے مسمار کرنے کا حکم دے دیں، کیا عدالت سے پہلے ایس بی سی اے سے رجوع کیا تھا؟
وکیل درخواست گزارنے جواب دیا کہ ایس بی سی اے کو درخواست دی تھی مگر تعاون نہیں کیا، جس پرعدالت نے کہا کہ ایس بی سی اے نے بلڈنگ پلان تو اپروو کیا ہوگا وہ کہاں ہے؟
وکیل درخواست گزارنے کہا کہ ایس بی سی اے نے بلڈنگ اپروو پلان بھی نہیں دیا، عدالت نے کہا کہ جب ہمارے سامنے بلڈنگ اپروو پلان نہیں ہوگا کارروائی کا حکم کیسے دے سکتے ہیں؟
شہری محمد وقاص کی درخواست میں مؤقف تھا کہ ضیاالحق کالونی میں بلڈرغیر قانونی تعمیرات کررہا ہے، گراؤنڈ پلس ٹو کی اجازت لے کر 3 منزلہ عمارت تعمیر کرچکا ہے، بلڈر نے پارکنگ ایریا کو بھی عمارت کی تعمیرات میں شامل کرلیا ہے، غیر قانونی تعمیرات مسمار کرنے کا حکم دیا جائے۔
اگرآپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔




















