اٹارنی جنرل آف پاکستان نے صدرِمملکت عارف علوی کی طرف سے انتخابات کی تاریخ کی دستخط شدہ کاپی سپریم کورٹ میں پیش کردی۔
چیف جسٹس پاکستان جسٹس قاضی فائزعیسٰی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سپریم کورٹ میں عام انتخابات 90 روز میں کرانے کے کیس کی سماعت کی۔
سماعت کے آغازمیں اٹارنی جنرل سپریم کورٹ میں پیش ہوئے اورعدالت کو بتایا کہ الیکشن کمیشن کے اجلاس کے میٹنگ منٹس کا انتظار ہے، جس پرچیف جسٹس نے کہا کہ میٹنگ منٹس آنے تک ہم دیگر مقدمات سن لیتے ہیں جس کے بعدسماعت میں وقفہ کیا گیا۔
سپریم کورٹ میں سماعت میں وقفہ
براہ راست دیکھیں:https://t.co/kGi5LWBrA5#BOLNews #SupremeCourt pic.twitter.com/7YnNZQJgNj— BOL Network (@BOLNETWORK) November 3, 2023
صدراورالیکشن کمیشن کےدرمیان ملاقات کےمیٹنگ مینٹس پیش
سپریم کورٹ میں انتخابات کیس کی وقفے کے بعد دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو اٹارنی جنرل نے صدراورالیکشن کمیشن کے درمیان ملاقات کے میٹنگ مینٹس پیش کردیے۔ انتخابات کی تاریخ کے حوالے سے جاری کردہ نوٹیفکیشن بھی عدالت میں پیش کیا گیا۔
اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ دستاویزات پرتمام ممبران الیکشن کمیشن کے دستخط ہیں، جس پر چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے استفسارکیا کہ صدرمملکت کے دستخط کیوں نہیں ہیں؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ صدر مملکت نے دستخط نہیں کیے، ان کی توثیق کا لیٹر کچھ دیرتک آ جائے گا۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آپ پر یقین ہے لیکن صدر کل انکار کردیں تو کیا ہوگا؟ صدرکی جانب سے توثیق کی دستاویز آنے تک سماعت میں وقفہ کردیں؟
اٹارنی جنرل نے کہا کہ مناسب ہوگا کہ کچھ دیرکا وقفہ کرلیں، آرٹیکل 48(5) کی تشریح کی جانب عدالت نہ جائے جس پرجسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ تشریح کی ضرورت نہیں آئین واضح ہے۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 48(5) کا اطلاق صرف قومی اسمبلی پر ہوتا ہے۔
چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے سماعت میں وقفہ کرتے ہوئے کہا کہ ایوان صدر تو قریب ہی ہیں کسی کو بھیجیں اور منگوا لیں، اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ صدرسے رابطہ ہوا ہے کچھ دیر میں ان کی جانب سے توثیق پر مبنی خط مل جائے گا۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ مناسب ہوگا کہ چیزوں کو مثبت انداز میں لیں، معاملات کا خوش اسلوبی سے طے پانا اچھی بات ہے، کسی کو موقع نہیں دینا چاہتے کہ کل کوئی وکیل قانونی نکتہ نکال کر کیس کردے۔
صدر مملکت کا خط اورانتخابات کی تاریخ مقررکرنے کا نوٹیفکیشن بھی عدالت میں پیش
سپریم کورٹ میں انتخابات کیس میں تیسری باروقفے کے بعد دوبارہ سماعت ہوئی تو اٹارنی جنرل نے صدرمملکت کا خط عدالت میں پیش کردیا۔
اٹارنی جنرل نے صدرکا خط عدالت میں پڑھتے ہوئے کہا کہ خط پرصدرکے پرنسپل سیکرٹری کے دستخط ہیں، صدرمملکت نے 8 فروری کی تاریخ کی توثیق کی ہے۔
اٹارنی جنرل نے الیکشن کمیشن کا انتخابات کی تاریخ مقررکرنے کا نوٹیفکیشن بھی عدالت میں پیش کیا جس میں بتایا گیا کہ قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات 8 فروری کو ہوں گے۔
چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ کیا کسی فریق کو کوئی اعتراض ہے؟ عدالت میں انتخابات کی تاریخ پرکسی فریق نےاعتراض نہیں کیا جس کے بعد عدالت نے انتخابات کیس کا حکم نامہ لکھوانا شروع کردیا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ کسی نے آئین کی شق 48(5) کا حوالہ نہیں دیا، انتخابات کی تاریخ دینا کس کا اختیار ہے یہ پھر کسی وقت طے کرینگے جس پراٹارنی جنرل نے کہا کہ اللہ کرے آئندہ ایسی نوبت نہ آئے۔
نوے روزمیں انتخابات کے انعقاد سے متعلق سماعت کا حکم نامہ
اگرآپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔
ٹوئٹر پرہمیں فالوکریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اورحالات سے باخبررہیں۔




















