لاپتا جاوید حسین کے اہلخانہ کی درخواست پرسندھ ہائی کورٹ نے برہمی کا اظہارکرتے ہوئےڈی ایس پی انویسٹی گیشن سمیت دیگر کو جھاڑ پلادی۔
سندھ ہائی کورٹ میں لاپتا افراد کے کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے استفسارکیا کہ ہم نے آج متعلقہ ایس پی انویسٹی گیشن کو طلب کیا تھا وہ کہاں ہیں؟ ڈی ایس پی انویسٹی گیشن نے جواب دیا کہ وہ بیمار ہونے کی وجہ سے عدالت میں پیش ہونے سے قاصر ہیں۔
جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹونے کہا کہ انھیں آج کا دن ہی ملا تھا بیمارہونے کےلیے، ایسی کیا بیماری ہوگئی ایس پی کو؟ آئندہ سماعت پر متعلقہ انویسٹی گیشن خود پیش ہوکر پیش رفت رپورٹ پیش کریں۔
عدالت نے کہا کہ ایس پی انویسٹی گیشن اپنی بیماری کا میڈیکل سرٹیفیکٹ بھی ساتھ لائیں۔
جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹونے سیکریٹری داخلہ کو بھی آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے کہا کہ سیکریٹری داخلہ آئندہ سماعت پر پیش ہوکر مسنگ ہرسن کے اہلخانہ کو دی جانے والی رقم نہ ملنے پر وضاحت دیں۔
مدعی وکیل کا مؤقف تھا کہ یہ تفتیش کے تاخیری حربے ہیں انھیں لوگوں کی تکلیف کا بالکل بھی احساس نہیں جس پرعدالت نے کہا کہ جے آئی ٹی سیشن ہونے کے باوجود بھی لاپتہ شہری کی کوئی معلومات نہ ملنا تفتیش کی کارکردگی پرسوالیہ نشان ہے۔ ہم نے پہلے بھی یہ احکامات دیے تھے کہ لاپتہ شہری سے متعلق کوئی نہ کوئی معلومات سامنے لائی جائیں لیکن کوئی عملدرآمد نہیں ہوا۔
عدالت نےآئندہ سماعت سے قبل مسنگ پرسن کی دوبارہ جے آئی ٹی سیشن کرانےکے بعد رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 6 دسمبرتک ملتوی کردی۔
اگرآپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔
ٹوئٹر پرہمیں فالوکریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اورحالات سے باخبررہیں۔




















