سپریم کورٹ نے بلوچستان کی مردم شماری کیخلاف اپیل پراٹارنی جنرل اورایڈووکیٹ جنرل بلوچستان کو نوٹس جاری کردیا۔
تفصیلات کے مطابق عدالتِ عظمٰی میں بلوچستان کی مردم شماری کیخلاف اپیل پرسماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل اورایڈووکیٹ جنرل بلوچستان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا کہ مردم شماری کا معاملہ کس آئینی شق یا قانون کے تحت مشترکہ مفادات کونسل میں جاتا ہے؟ مردم شماری سے متعلق قانونی معاملات پرعدالت کی معاونت کی جائے۔
بلوچستان کی مردم شماری کیخلاف اپیل پر سپریم کورٹ میں سماعت
اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان کو نوٹس جاری#BOLNews #SupremeCourt pic.twitter.com/BSGCD7yGjU— BOL Network (@BOLNETWORK) November 13, 2023
سپریم کورٹ نے قانونی سوالات پرمعاونت کیلئے وکیل کامران مرتضیٰ کو ایک ہفتے کی مہلت دیتے ہوئے کیس کی سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کردی۔
جسٹس اعجازالاحسن کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔
سماعت کے دوران جسٹس اعجازالاحسن نے وکیل سے پوچھا کہ بلوچستان کی آبادی 2017 کی مردم شماری کے مطابق کتنی تھی؟ جس پروکیل کامران مرتضٰی نے جواب دیا کہ بلوچستان میں امن و امان کی خراب صورتحال کی وجہ سے 2017 میں مردم شماری نہیں ہوئی، موجودہ مردم شماری میں بلوچستان کی آبادی سوا کروڑ ہے، ہمارے حساب سے بلوچستان کی اصل آبادی اس وقت 2 کروڑ سے زیادہ ہے۔
جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ آپ کے اس حساب کی بنیاد کیا ہے؟ وکیل نے جواب دیا کہ ادارہ شماریات کے اعداد و شمار پرانحصار کر رہا ہوں۔
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلے کو پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس دیکھ سکتا ہےعدالت نہیں، جبکہ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ حکومت نے مشترکہ مفادات کونسل کا فیصلہ چیلنج نہیں کیا انفرادی درخواستیں سننے سے تو پینڈورا باکس کھل جائے گا، مشترکہ مفادات کونسل خصوصی آئینی باڈی ہے جس میں پالیسی معاملات طے ہوتے ہیں، پالیسی معاملات میں مداخلت کوئی فرد کرسکتا ہے نہ ہی عدالت۔
وکیل کامران مرتضٰی نے کہا کہ میں صوبے کے شہری کی حیثیت سے غلط مردم شماری کو چیلنج کرنے کا حقدار ہوں، آبادی کے مطابق بلوچستان کی 10 نشستیں قومی اسمبلی میں بڑھنی چاہئیں، مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس اسمبلیوں کے تحلیل کے اعلان کے بعد ہوا، بہ طورسینیٹرمردم شماری کا معاملہ ایوان بالا میں بھی اٹھایا تھا۔
جسٹس اعجازالاحسن نے سماعت ملتوی کرتے ہوئے وکیل کو ہدایت کی کہ کچھ آئینی سوالات ہیں بہتر ہیں ان پر تیاری کرلیں۔
اگرآپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کولائک کریں۔
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔




















