اسلام آباد ہائی کورٹ نے سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل روکنے کا تحریری حکمنامہ جاری کردیا۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے تحریری حکمنامہ جاری کیا جس میں کہا گیا کہ بادی النظر میں چیئرمین پی ٹی آئی کے جیل ٹرائل کو اوپن ٹرائل نہیں کہا جا سکتا، جیل ٹرائل کیلئے پیشگی شرائط پوری کرنے کی کوئی دستاویز ریکارڈ پر نہیں لائی گئی۔
ہائیکورٹ نے حکمنامہ میں کہا کہ اگرایسی کوئی دستاویز موجود ہے تو آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش کی جائے، اٹارنی جنرل نے بتایا کہ وفاقی کابینہ نے چیئرمین پی ٹی آئی کے جیل ٹرائل کی منظوری دی ہے، اٹارنی جنرل وفاقی کابینہ کے فیصلے کی کاپی عدالت کے سامنے پیش نہ کر سکے۔
تحریری حکمنامہ میں یہ بھی کہا گیاکہ اٹارنی جنرل وہ سمری بھی پیش نہ کرسکے جس کی بنیاد پر کابینہ نے فیصلہ کیا، کیس کے انصاف پرمبنی فیصلے کیلئے مطلوبہ دستاویزات ریکارڈ پر لانا لازم ہے، انہی دستاویزات کی روشنی میں اپیل کنندہ کے بنیادی حقوق متاثر کرنے کے قانونی نکتے پربھی فیصلہ کرنا ہے۔
عدالت نے حکم نامے میں کہا کہ عدالت سائفر کیس کے ٹرائل پر آئندہ سماعت تک حکم امتناعی جاری کرتی ہے، فرض کریں کہ وفاقی کابینہ کی منظوری سے جیل ٹرائل کی قانونی ضروریات پوری ہو گئیں، پہلے سے ہوچکے جیل ٹرائل کے قانونی اسٹیٹس کا تعین ہونا پھربھی باقی ہے، تعین ہونا ہے کہ ٹرائل غلط تھا یا اسے محض بےضابطگی کہا جا سکتا ہے۔
اگرآپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کولائک کریں۔
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔




















