وزارت دفاع، بلوچستان حکومت اوروزارتِ قانون و انصاف نے فوجی عدالتوں میں سویلنز کا ٹرائل روکنے کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا۔
تفصیلات کے مطابق وزارتِ دفاع کی جانب سے عدالتِ عظمٰی میں دائر درخواست میں آرمی تنصیبات پرحملوں کے ملزمان کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں نہ کرنے کا فیصلہ کالعدم قراردینے کی استدعا کی گئی اوروزارت دفاع نے آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی کالعدم قراردی گئی دفعات بھی بحال کرنے کی استدعا کی۔
فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل روکنے کے فیصلے کیخلاف اپیل دائر#BOLNews #MilitaryCourts pic.twitter.com/NFXvS1HDum
— BOL Network (@BOLNETWORK) November 17, 2023
درخواست میں آرمی ایکٹ کی کالعدم قراردی گئی سیکشن 59(4) بھی بحال کرنے اوراپیلوں پر حتمی فیصلے تک فوجی عدالتوں میں ٹرائل روکنے کیخلاف حکم امتناع کی بھی استدعا کی گئی۔
وزارتِ دفاع کی جانب سے اپیل میں مؤقف اختیارکیا گیا کہ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے جن درخواستوں پر فیصلہ دیا وہ ناقابل سماعت تھیں، آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی دفعات کالعدم ہونے سے ملک کو ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔
سپریم کورٹ ملٹری کورٹس کو بحال کرے، بلوچستان حکومت
ادھربلوچستان حکومت نے بھی فوجی عدالتوں میں سویلنز کا ٹرائل کالعدم قراردینے کا فیصلہ چیلنج کردیا اورسپریم کورٹ سے آرمی ایکٹ اورآفیشل سیکریٹ ایکٹ کی کالعدم دفعات بحال کرنے کی استدعا کی گئی۔
سپریم کورٹ ملٹری کورٹس کو بحال کرے، بلوچستان حکومت
بلوچستان حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں درخواست دائر#BOLNews #MilitaryCourts pic.twitter.com/4I6vPtenXI— BOL Network (@BOLNETWORK) November 17, 2023
بلوچستان حکومت نے اپیلوں پر فیصلے تک پانچ رکنی بنچ کا فیصلہ معطل کرنے کی بھی استدعا کی، مؤقف اپنایا کہ سپریم کورٹ نے ناقابل سماعت درخواستوں پر حکم جاری کیا، سپریم کورٹ کا فیصلہ آئین اورقانون سے متصادم ہے۔
وزارت قانون و انصاف کی اپیل
وزارت قانون و انصاف کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر اپیل میں سپریم کورٹ کے فوجی عدالتوں کے خلاف فیصلے کو کالعدم قراردینے کی استدعا کی گئی۔
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ سپریم کورٹ کا 23 اکتوبرکا فیصلہ برخلاف آئین و قانون ہے، آرمی ایکٹ کی طرح مختلف ٹریبونلز اوردیگر فورمزبھی ایکٹ کے تحت بنائے گئے ہیں۔
درخواست میں یہ بھی مؤقف اختیارکیا گیا کہ آرمی ایکٹ اورآرمی رولز تمام آئینی حقوق کا تحفظ کرتے ہیں، کورٹ مارشل اور دیگر عدالتیں پاکستان میں 1947 سے کام کررہی ہیں، فوجی عدالتوں میں بھی ٹرائل کے دوران وکلا فراہم کرنے کی اجازت ہے۔
اگرآپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کولائک کریں۔
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔




















