نومئی کےواقعات کی تحقیقات انکوائری کمیشن سے کرانے کی درخواست پرعدالت نےدرخواست کے قابل سماعت ہونے یانہ ہونے سے متعلق مزید دلائل طلب کرلیے۔
لاہورہائی کورٹ کےجسٹس شہرام سرورچوہدری نے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزارمسرت بانو کےوکیل سید علی حسین بخاری نے دلائل دیے، انہوں نےکہاکہ نومئی کےواقعات کےبعد جیوفینسگ کے بغیرشہریوں کو حراست میں لیاگیا۔
وکیل درخواست گزارنے دلائل میں کہا کہ گرفتاری سے قبل سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج سے جانچ بھی نہیں کی گئی۔ سی سی ٹی وی کیمروں کا ڈیٹا حاصل نہ کرنا آئین کےآرٹیکل دس اے کی خلاف ورزی ہے۔آئین کےآرٹیکل دس اے کےتحت شفاف ٹرائل ہر شہری کابنیادی حق ہے۔
وکیل درخواست گزارنے عدالت سے کہا کہ استدعاہے کہ عدالت شفاف تحقیقات کےلئے انکوائری کمیشن تشکیل دینے کے احکامات صادرکرے۔ جس پرلاہور ہائی کورٹ نے درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے سے متعلق مزید دلائل طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کولائک کریں۔ ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔




















