Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

پی ٹی آئی انتخابی نشان اورانٹرا پارٹی الیکشن کیخلاف درخواستوں پرفیصلہ محفوظ

لاہورہائی کورٹ نے پی ٹی آٸی کا انتخابی نشان بلا واپس لینے اورانٹرا پارٹی الیکشن کے خلاف درخواستوں پرفیصلہ محفوظ کر لیا ۔

وفاقی حکومت کے وکیل اسد باجوہ نے درخواست کی مخالف کی۔

جسٹس جواد نے ریمارکس دیے کہ یہ عدالت پشاورہائی کورٹ کے جج کے فیصلے کی پابند نہیں جو مجھ سے جونیئرہے۔ بادی النظر میں پی ٹی ائی کو ریسرچ ونگ بنانا چاہیے، سپریم کورٹ میں 6 درخواستیں زیر سماعت ہیں۔

عدالت نے استفسارکیا کہ آپ دوبارہ پشاورہائی کورٹ کیوں نہ گئے، کس قانون کی خلاف ورزی پر آپ یہاں آٸے۔ بادی النظر میں الیکشن کمیشن جو پارٹی سمبل کینسل کرنے کا اختیار ہے۔

وکیل درخواست گزارنے جواب دیا کہ انٹر پارٹی الیکشن کے نتیجے میں گوہر پارٹی چیئرمیں بن گئے، ہم نے الیکشن نتائج کا رزلٹ الیکشن کمیشن کو دیے۔ الیکشن کمیشن نے نتائج تسلیم نہ کیےاورانتخابی نشان’ بلا ‘واپس لے لیا۔ اس فیصلے کے خلاف ہم پشاور ہائی کورٹ گئے۔

وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کا آرڈر معطل کردیا۔ ہمیں آراو کو وضاحت دینا پڑتی ہے کہ ہم تحریک انصاف سے ہیں۔ ہم نے صوبائی الیکشن کمیشن سے رجوع کیا مگر دادرسی نہ کی گئی۔

جسٹس جواد حسن نے پی ٹی آئی کے عمرآفتاب ڈھلوں کی درخواست پر سماعت کی۔ عدالت نے کہا کہ چیف جسٹس پاکستان کہتے ہیں آئین اور قانون کو دیکھ کر فیصلہ کریں، فاضل چیف جسٹس کی منشا ہے کہ الیکشن میں التوا نہ ہو، آئین اورقانون کے مطابق فیصلہ کرنے سے منع نہیں کیا گیا۔

متعلقہ خبریں