Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

جس کے بھی کاغذات نامزدگی مسترد ہوئے وہ اپیل کرے گا بات ختم، چیف جسٹس پاکستان

لیول پلیئنگ فیلڈ سے متعلق کیس میں چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ جس کے بھی کاغذات نامزدگی مسترد ہوئے وہ اپیل کرے گا بات ختم، آپ چاہتے ہیں ہم الیکشن کمیشن کا کام کریں؟

سپریم کورٹ میں لیول پلیئنگ فیلڈ سے متعلق توہین عدالت کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی بنچ میں شامل تھے۔

چیف جسٹس پاکستان کا اظہار برہمی

سماعت کے آغاز میں سردار لطیف کھوسہ روسٹرم پر آ گئے، لطیف کھوسہ کے ساتھ سردارکا نام ہونے پر چیف جسٹس نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ سرداری نظام ختم ہو چکا ہے، یہ سردارنواب عدالت میں نہیں چلے گا، آپ کی حکومت نے ہی سرداری نظام ختم کرنے کا قانون بنایا اب تو آپ کے بیٹے بھی سردارہوگئے ہیں۔

لطیف کھوسہ ایڈووکیٹ نے جواب دیا کہ یہ اسٹینونے نام کے ساتھ لکھ دیا آئندہ احتیاط کروں گا، اس کے ساتھ ہی لطیف کھوسہ نے دلائل کا آغازکرتے ہوئے کہا کہ لیول پلیئنگ فلیڈ صحت مندانہ مقابلے کے لیے ضروری ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے پوچھا کہ آپ کی اب درخواست کیا ہے؟ جبکہ جسٹس محمدعلی مظہرنے کہا کہ کیا آپ نے سپریم کورٹ کے حکم پرالیکشن کمیشن سے رجوع کیا؟ یہ توہین عدالت کی درخواست ہے کوئی نیا کیس نہیں، مرکزی کیس 22 دسمبر کو نمٹایا جا چکا،  آپ نے درخواست میں بہت سارے توہین عدالت کرنے والوں کے نام شامل کرلیے، الیکشن کمیشن نے کیا توہین عدالت کی؟ کیا الیکشن کمیشن نے آپ کے بارے کوئی فیصلہ دیا یا صوبائی الیکشن کمیشن کو احکامات دیے؟

وکیل لطیف کھوسہ نے جواب دیا کہ ہمیں الیکشن کمیشن نے کچھ آرڈر نہیں دیا، اس پر جسٹس محمدعلی مظہرنے کہا کہ آپ نے اتنے لوگوں کو توہین عدالت کیس میں فریق بنایا، آپ بتائیں کس نے کیا توہین کی ہے؟

چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ آپ ہمیں بتائیں آپ ہم سے چاہتے کیا ہیں، اب آپ تقریرنہ شروع کر دیجیے گا، آئینی اور قانونی بات بتائیں ہر کوئی یہاں آ کرسیاسی بیان شروع کر دیتا ہے، آئی جی اور چیف سیکریٹریز کا الیکشن کمیشن سے کیا تعلق ہے؟

وکیل لطیف کھوسہ نے جواب دیا کہ ہمارے امیدواروں کی راہ میں رکاوٹ ڈالی گئی۔

چیف جسٹس پاکستان نے پوچھا کہ ثبوت کیا ہیں ہمیں کچھ دکھائیں، وکیل لطیف کھوسہ نے جواب دیا کہ میں نے ساری تفصیل درخواست میں لگائی ہے، اس پرچیف جسٹس نے کہا کہ توہین عدالت کیس میں آپ صرف الیکشن کمیشن کو فریق بنا سکتے تھے، آئی جی اور چیف سیکریٹریزکو نوٹس بھیجا وہ کہیں گے ہمارا تعلق نہیں، آپ انفرادی طورپرلوگوں کے خلاف کارروائی چاہتے ہیں تو الگ درخواست دائر کریں، کسی کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوئے ہیں تو اپیل دائرکریں۔

وکیل لطیف کھوسہ نے جواب دیا کہ ہمیں اپیل کرنے کے لیے آراو آرڈرز کی نقل تک نہیں مل رہی۔ جسٹس محمد علی مظہرنے پوچھا  آپ کے کتنے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظورہوئے، آپ نے لکھا سارا ڈیٹا سوشل میڈیا سے لیا۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ جس کے بھی کاغذات نامزدگی مسترد ہوئے وہ اپیل کرے گا بات ختم۔ آپ چاہتے ہیں ہم الیکشن کمیشن کا کام کریں۔ وکیل لطیف کھوسہ نے جواب دیا کہ تین دن تک آرڈرکی کاپی نہیں ملی، اپیل کہاں کریں؟

’’عدالتیں الیکشن کیلئے ہرسیاسی جماعت کے پیچھے کھڑی ہیں‘‘

چیف جسٹس قاضی فائزنے کہا کہ آر او کے فیصلے کی کاپی نہیں ملتی تو کاپی کے بغیر ٹربیونل میں درخواست دیں، ہم کیسے دوسرے فریق کو سنیں بغیر آپ کی اپیل منظورکرلیں، ہم کیسے کہہ دیں کہ فلاں پارٹی کے کاغذات منظور کریں اور فلاں کے مسترد؟ آپ بتائیں ہم کیا آڈر پاس کریں، عدالتیں الیکشن کیلئے ہرسیاسی جماعت کے پیچھے کھڑی ہیں، آپ ٹربیونل میں اپیلیں دائر کریں اس کے بعد ہمارے پاس آئیں تو سن لیں گے۔

عدالت نے الیکشن کمیشن حکام کو روسٹرم پر بلا لیا اور پوچھا کہ ٹربیونل میں اپیل دائر کرنے کا وقت کب تک ہے، ڈی جی لا الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ آج آخری دن ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کھوسہ صاحب ٹربیونل جائیں پھر یہاں کیا کر رہے ہیں، لطیف کھوسہ نے جواب دیا کہ ہماری شکایت پر الیکشن کمیشن نے تمام صوبوں کے آئی جیز کو ہدایات دیں، سارے آئی جیز کا اس لیے اس کیس سے تعلق ہے۔

چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ آپ کی شکایات کی کاپی کہاں ہے؟ وکیل نے جواب دیا کہ میں نے شکایات کی کاپی ساتھ نہیں لگائی، اس پرعدالت نے کہا کہ پھر الیکشن گزرجائیں گے تو کاپی لگا لیجیے گا۔

لطیف کھوسہ نے جواب دیا کہ الیکشن کمیشن نے ہماری شکایت پر صرف صوبوں کو ایک خط لکھ دیا، کیا الیکشن کمیشن صرف ایک خط لکھ کر ذمہ داریوں سے مبرا ہو گیا؟ عدالت نے کہا کہ آپ توہین عدالت کے سکوپ تک رہیں، یہ بتائیں ہمارے 22 دسمبر کے حکمنامے پر کہاں عملدرآمد نہیں ہوا؟ الیکشن کمیشن نے تو 26 دسمبر کو عملدرآمد رپورٹ ہمیں بھیج دی۔

وکیل لطیف کھوسہ نے سماعت کل تک ملتوی کرنے کی استدعا کردی اس پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہم روز آپ کیلئے نہیں بیٹھ سکتے، آپ کو عملدرآمد رپورٹ مل گئی اس پر جواب دے دیں۔ وکیل نے جواب دیا کہ میں زیادہ وقت آپ کا ضائع نہیں کروں گا۔

چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ آپ وقت ضائع کریں ہم رات تک بیٹھیں ہیں، الیکشن کمیشن نے 26 دسمبر کو آپ کے تحفظات دور کرنے کا آڈر جاری کیا 26 دسمبر کے بعد کہاں کیا ہوا وہ بتائیں، وکیل لطیف کھوسہ نے جواب دیا کہ میڈیا میں سب کچھ آچکا ہے دنیا نے سب کچھ دیکھا۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ میں تو میڈیا دیکھتا ہی نہیں، وکیل نے کہا کہ صرف کاسمیٹک عملدرآمد نہیں آپ بنیادی حقوق کے محافظ ہیں آپ نے شفاف الیکشن یقینی بنانے ہیں۔

آئی جی پنجاب، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری

سپریم کورٹ نے آئی جی پنجاب، چیف سیکریٹری پنجاب اورایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے حکم دیا کہ بتایا جائے صوبائی الیکشن کمشنرپنجاب کے 24 دسمبرکے خط پرعملدرآمد کیوں نہ ہوا؟

 جسٹس میاں محمد علی مظہرنے الیکشن کمیشن حکام سے استفسارکیا کہ کیا آپ انھیں لیول پلیئنگ فلیڈ دے رہے ہیں؟ ڈی جی لا نے جواب دیا کہ ان کی ہر شکایات کو ہم نے متعلقہ اتھارٹی کو بھیجا جہاں قانون کے مطابق اس پر فیصلے ہوئے۔

لطیف کھوسہ نے کہا کہ تاریخ کی بدترین پری پول دھاندلی ہو رہی ہے آر اوز دفتر کے باہر سے لوگوں کو اٹھا لیا جاتا ہے اس معاملے پر آنکھیں بند نہیں کی جا سکتی، میرے اپنے بیٹے کو گرفتار کیا گیا۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آپ کا بنیادی الزام کس پر ہے صرف پنجاب کا مسئلہ ہے، کیا پنجاب کا ایڈووکیٹ جنرل موجود ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب موجود نہیں ہیں۔

چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ آپ نے آئی جی کے خلاف الیکشن کمیشن کو کارروائی کے لیے لکھا، اس پروکیل نے جواب دیا کہ ہم نے نہیں ان کے اپنے صوبائی الیکشن کمیشن نے خط لکھا کہ عمل نہیں ہو رہا۔

جسٹس میاں محمد علی مظہرنے ریمارکس دیے کہ آپ کا اپنا صوبائی الیکشن کمیشن لکھ رہا اس پرآپ کو ایکشن نہیں لینا چاہیے تھا۔

سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت 8 جنوری تک ملتوی کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔

پی ٹی آئی کی جانب سے لیول پلیئنگ فیلڈ فراہمی کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے پر 26 دسمبر کو درخواست دائر کی گئی تھی۔  درخواست میں چاروں چیف سیکرٹریز، آئی جیز، سیکریٹری داخلہ، سیکریٹری الیکشن کمیشن کو فریق بنایا گیا۔

پی ٹی آئی کی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ سیکریٹری الیکشن کمیشن نے 22 دسمبر کے حکم کے باوجود پی ٹی آئی کی شکایات کا ازالہ نہیں کیا، سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود پی ٹی آئی امیدواروں کو ہراساں اورگرفتارکیا گیا، عدالتی حکم عدولی کرنے والوں کیخلاف سخت کارروائی کی جائے۔

پی ٹی آئی نے درخواست میں اپنے امیدواروں کو ریلیوں اور جلسوں کی اجازت دینے کی بھی استدعا کر رکھی ہے۔

متعلقہ خبریں