Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

تاحیات نااہلی کا فیصلہ اعمال نہیں انسان کو برا کہ رہا ہے، یہ اسلامی اصولوں کیخلاف ہے، چیف جسٹس

سپریم کورٹ میں تاحیات نااہلی کی مدت کے تعین کے لیے کیس کی سماعت ہوئی جس کے دوران چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ تاحیات نااہلی کا فیصلہ اعمال نہیں انسان کو برا کہ رہا ہے، یہ اسلامی اصولوں کیخلاف ہے۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 7 رکنی لارجر بینچ نے آرٹیکل 62 وین ایف کے تحت تاحیات نااہلی پر سماعت کی، جس میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی شامل ہیں۔

کیس کی سماعت کل نو بجے تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

سماعت کے آغازمیں اٹارنی جنرل روسٹرم پر آئے، عدالت نے عدالتی معاونین کو روسٹرم پر طلب کرتے ہوئے پوچھا کہ عزیر بھنڈاری کہاں ہیں؟ اس کے بعد عزیر بھنڈاری اورسجاد الحسن کے وکیل خرم رضا روسٹرم پر آئے۔

چیف جسٹس پاکستان نے پوچھا ہم نے تین عدالتی معاونین مقرر کیے تھے، ریما عمرنے اپنا تحریری جواب بھیجوایا ہے۔

وکیل خرم رضا کے دلائل

فیاض احمد غوری اور سجاد الحسن کے وکیل خرم رضا نے بتایا کہ میری درخواست پراعتراض عائد کیا گیا تھا۔ میری درخواست عوامی نمائندگی ایکٹ کے تحت تھی۔ اب سپریم کورٹ بتائے کہ وہ کس دائرہ اختیار کے تحت سماعت کررہی ہے۔ میری درخواست پر اعتراض تھا اب بنچ میں لگادی گئی۔ سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار پر دلائل دونگا۔

چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ گزشتہ سماعت پر ہم نے ریما عمر، عزیزبھنڈاری اور فیصل صدیقی کو عدالتی معاون مقرر کیا تھا۔

گزشتہ سماعت پر خرم رضا نے تاحیات نااہلی کے حق میں اپنی رائے دی تھی، وکیل نے دلائل دیے کہ یہ اپیلیں کس قانون کے تحت چل رہی ہیں، کیا آرٹیکل 187 کے تحت اپیلیں ایک ساتھ سماعت کیلئے مقررکی گئیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ اپنی درخواست تک محدود رہیں، سپریم کورٹ کے دائرہ اختیارسے متعلق متعدد آرٹیکل موجود پے۔ کچھ میں براہ راست سپریم کورٹ کو دائرہ اختیار تفویض کیا گیا ہے۔ آرٹیکل 184 براہ راست سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار سے متعلق ہے۔ کیا آرٹیکل 62 ون ایف سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار پر بات کرتا ہے۔ 62 ون ایف میں صرف کورٹ آف لا کا ذکر ہے۔

وکیل خرم رضا نے کہا کہ کورٹ آف لا ہائیکورٹ اورسپریم کورٹ ہوسکتی ہے۔

’’کیا آرٹیکل 62ون ایف سپریم کورٹ کو کوئی اختیار دیتا ہے؟‘‘

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آرٹیکل 62 ون ایف کورٹ آف لا کی بات کرتا ہے، آرٹیکل 99 ہائیکورٹ کو آرٹیکل 184(3) سپریم کورٹ کو ایک اختیار دیتا ہے، سوال یہ ہے کیا آرٹیکل 62ون ایف سپریم کورٹ کو کوئی اختیار دیتا ہے؟

وکیل نے جواب دیا کہ ٹریبونل سے آنے والے فیصلے کیخلاف کیس سپریم کورٹ اپیل کے دائرہ اختیار میں سنتی ہے، جس پرچیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ بالکل درست، کیا 62ون ایف ٹریبونل کو بھی تاحیات نااہلی کا اختیار دیتا ہے؟ یا تاحیات نااہلی کا یہ اختیار سیدھا سپریم کورٹ کے پاس ہے؟

وکیل خرم رضا نے کہا کہ 62 ون ایف کا دائرہ اختیار براہ راست سپریم کورٹ نہیں بلکہ ٹریبونل ہے۔ روپا ایکٹ کے تحت یہ اختیار ٹربونیل کے پاس ہے۔ ٹربونیل کے بعد یہ معاملہ سپریم کورٹ کے پاس آتا ہے۔

جسٹس محمد علی مظہرنے کہا کہ کیا سپریم کورٹ کے پاس یہ براہ راست معاملہ نہیں آسکتا۔ وکیل نے جواب دیا کہ ٹریبونل سے ہوکر ہی سپریم کورٹ کے پاس آئے گا۔

جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ یہاں تو آپ 62 ون ایف کے دائرہ اختیار کو محدود کررہے ہیں۔ یہاں پرمعاملہ دائر اختیار کا نہیں بلکہ 62 ون ایف کے تحت دی گئی سزا کا ہے۔ 62 ون ایف کے تحت سزا تاحیات نااہل کئی گئی۔ ہم اس سزا کے معاملے کو دیکھ رہے ہیں کہ کیا معمولی نوعیت کے جرم پر کوئی تاحیات عوامی نمائندگی سے محروم ہوسکتا ہے۔

وکیل نے جواب دیا کہ آرٹیکل 62 ون ایف کی ڈکلئیریشن دینے کا اختیار الیکشن ٹریبونل کا ہے، آرٹیکل 62 ون ایف میں کورٹ آف لاء درج ہے، سپریم کورٹ نہیں۔ چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے وکیل سے کہا کہ بہترہوگا ہمیں الیکشن ٹریبونل کے اختیارات کی طرف نا لے کر جائیں، آرٹیکل 62 ون ایف کورٹ آف لا کی بات کرتا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آئینی عدالت اور سول کورٹ میں فرق کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔  سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ آئینی عدالتیں ہیں جہاں آئینی درخواستیں دائر ہوتی ہیں، الیکشن کمیشن قانون کے تحت اختیارات استعمال کرتا ہے، اگر الیکشن کمیشن تاحیات نااہل کرسکتا ہے تو اختیار سپریم کورٹ کے پاس بھی ہوگا۔

وکیل خرم رضا نے عوامی نمائندگی ایکٹ کا حوالہ دیا جس پرعدالت نے کہا کہ آپ اپنی ہی معروضات کی نفی کرنے والی بات کر رہے ہیں، جب62ون ایف کے تحت کوئی ٹریبونل تاحیات نااہل نہیں کرتا تو سپریم کورٹ کیسے کرسکتی ہے؟ کیا سپریم کورٹ الیکشن معاملے میں اپیلٹ فورم کے طور پر کام نہیں کرتی؟ اضافی اختیار تاحیات نااہلی والا یہ کہاں لکھا ہے؟

وکیل خرم رضا نے جواب دیا کہ سپریم کورٹ ڈیکلیریشن دے سکتی ہے، جن کیسز میں شواہد ریکارڈ ہوئے ہوں وہاں سپریم کورٹ ڈیکلیریشن دے سکتی ہے۔ اس پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ پھر تو آپ سمیع اللہ بلوچ کیس کی حمایت نہیں کر رہے۔

وکیل نے جواب دیا کہ میں ایک حد تک ہی اس کیس کی حمایت کر رہا ہوں۔

چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ ایک الیکشن میں کوئی گریجویٹ نہ ہونے پر نااہل ہوا اور اگلی بار گریجویشن کی شرط ہی نہیں تو اگلی بار نااہل کیسے ہو گا؟ ایک شخص دیانتداری سے کہتا ہے وہ میٹرک پاس ہے اس پر وہ اگلے الیکشن میں بھی نااہل کیسے ہے؟  آپ نے جو تفریق بتائی اس سے متفق نہیں، ایسے تو کوئی غیرملکی بھی الیکشن لڑ کر منتخب ہو سکتا ہے۔

جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ آپ آرٹیکل 62 اور 63 کی پہلی پہلی سطر پڑھیں جس پروکیل نے جواب دیا کہ عدالت نے صرف 62ون ایف کی تشریح کرنی ہے۔

’’جرائم غداری، قتل، ریپ وغیرہ میں سزا صرف ایک ٹرم کی بنتی ہے‘‘

جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ آپ کہتے ہیں ہم آرٹیکل 62 اور 63 کو ملا کر نہیں تشریح کر سکتے، آپ کسی حد تک سمیع الله بلوچ کی حمایت کررہے ہیں کہ 62 ون ایف کے تحت سزا تاحیات ہے۔ بڑے جرائم غداری، قتل، ریپ وغیرہ میں سزا صرف ایک ٹرم کی بنتی ہے۔ ایسے جرائم کا مرتکب پھرسے انتخاب کا اہل ہو جاتا ہے۔  کاغذات نامزدگی میں غلطی، کوئی خانہ پر نہ کرنے یا بنک اکاؤنٹ کی غلط معلومات پر سزا عمر بھر کی ہوجاتی ہے۔ یہ تضاد نہیں، بھلا معمولی نوعیت کے جرم پر کیسے کسی کو عمر بھر کی سزا دے دی جائے۔

وکیل نے جواب دیا کہ یہاں پر اسلامی اقدار آتی ہیں اس وجہ سے۔

جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ قتل اور اغوا جیسے کیسز میں تو بندہ دوبارہ الیکشن کا اہل ہو جاتا ہے۔

وکیل خرم رضا نے اسلامی اصولوں کا حوالہ دیا، اس پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آپ اسلام کی بات کرتے ہیں تو پھر اس کی سپورٹ میں کوئی دلیل بھی دیں، توبہ اور راہ راست، صراط المستقیم پر واپس آنے کا اصول اسلام میں ہے۔ جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ چلیں موضوع بدل دیتے ہیں۔

چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ شروع میں تو مسلمان صرف دو چار ہی تھے، اسلام میں توبہ کا تصور موجود ہے۔ اسلامی احکامات کے خلاف تو کوئی استدعا یا دلیل نہیں سنیں گے۔

جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم سے آئین میں کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں ہوئی، الیکشن ایکٹ میں ترمیم سے صرف قانون کو واضح کیا گیا ہے۔

’’بندوق کی نوک پر بھی ترامیم ہوئی ہیں‘‘

چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں چھوٹی چیزوں کی بجائے بڑے منظر نامے کو سامنے رکھنا چاہیے۔ ہم بھی عجیب ہیں آمروں کی گئی ترامیم کو سپورٹ کررہے ہیں جو خود آئین شکنی میں ملوث تھے۔ یہاں پر بندوق کی نوک پر بھی ترامیم ہوئی ہیں۔ منافق کافر سے زیادہ خطرناک ہے، آمروں نے صادق اور امین کی شرط اپنے لیے کیوں نہیں ڈالی، پارلیمنٹرینزنےآٸین بنایا، ڈکٹیٹروں نے آکرسیاست دانوں، آٸین کو باہر پھینک دیا، آپ نے جو تفریق بتائی اس سے متفق نہیں۔

وکیل نے کہا کہ پارلیمانی بحث میں تسلیم کیا گیا 62 ون ایف مدت پر خاموش ہے، جس پرچیف جسٹس نے کہا کہ نااہلی کی یہ شقیں ایک ڈکٹیٹرنے شامل کیں درست یا غلط؟ یا تو ہم پھر ڈکٹیٹر شپ کو ٹھیک مان لیں، ایک ڈکٹیٹر آیا، دوسرا آیا، تیسرا آیا سب کو اٹھا کر پھینک دیا، کافر کو پتہ نہیں ہوتا، منافق سب جان کر کررہا ہوتاہے، پارلیمنٹ نے ایک قانون کتاب بنا کر ہمیں دی، ایک شخص ٹہلتا ہوا آتا ہے کہتاہے نہیں یہ سب ختم،  کچھ لوگوں نے کہا چلو آدھی جمہوریت بھی آمریت سے بہتر ہے۔

وکیل خرم رضا نے آئینی ترامیم کا حوالہ دیا اس پر چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ رہنے دیں، ترامیم بھی گن پوائنٹ پرآئیں۔  آئین کا تقدس تب ہو گا جب اسے ہم مانیں گے، یا تو ہم کہہ لیتے ہیں کہ بندوق کا تقدس مانیں گے، یہاں بیٹھے پانچ ججز کی دانش ساتھ پارلیمنٹ میں بیٹھے لوگوں سے زیادہ کیسے ہوسکتی ہے؟

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ جب تک کوئی جھوٹا ثابت نہیں ہوتا ہم کیوں فرض کریں وہ جھوٹا ہے۔

وکیل نے کہا کہ پارلیمان نے تسلیم کرلیا کہ آئین خاموش ہے تو بھی آئینی ترمیم ضروری تھی، جس پرچیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آپ کہنا چاہتے ہیں کہ 326 ارکان کی دانش کم اور پانچ ججز کی زیادہ ہے۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پارلیمان نے سزا دینی ہوتی تو آرٹیکل 63 کی طرح 62 میں بھی شامل کر دیتی، وکیل خرم رضا نے دلیل دی کہ پارلیمان نے نااہلی برقراررکھی ہے لیکن اس کی مدت کا تعین نہیں کیا، چیف جسٹس نے کہا کہ اگر فیصلے میں لکھا جاتا کہ نااہلی کی مدت مقررنہیں اس لیے نااہلی دوسال ہوگی تو کیا ہوتا؟ فیصلے کی کوئی نہ کوئی منطق ہونی چاہیے۔

وکیل نے جواب دیا کہ دو سال نااہلی کا آئین میں کہیں نہیں لکھا ہوا، اس پرعدالت نے کہا کہ ایسے تو تاحیات نااہلی کا بھی کہیں نہیں لکھا ہوا۔

وکیل خرم رضا نے دلائل دیے کہ اگرعدالت 187 کا اختیار استعمال کرے تو الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے غیر آئینی ہونے پر دلائل دوں گا۔ جسٹس محمدعلی مظہرنے کہا کہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم کسی نے چیلنج نہیں کی۔

خرم رضا نے کہا کہ لاہورہائی کورٹ میں الیکشن ایکٹ میں ترمیم چیلنج کی گئی ہے۔

’’کیا پارلیمان کی تشریح عدالت سے کم ترہے؟‘‘

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ نااہلی کی مدت کی تشریح پہلے سپریم کورٹ نے کی پھر پارلیمان نے، کیا پارلیمان کی تشریح عدالت سے کم ترہے؟

وکیل خرم رضا نے کہا کہ پارلیمان کا کام قانون سازی اورعدالت کا کام تشریح کرنا ہے۔

چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ میرے والد سمیت کئی لوگوں کو جنرل ایوب نے الیکشن کیلئے نااہل قرار دیا تھا، ڈکٹیٹرز کی جانب سے لائی گئی ترامیم کی حمایت کیوں کی جا رہی ہے؟

جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ صادق اور امین کی کیا تعریف ہوگی، کوئی قتل کرکے آجائے۔

وکیل عثمان کریم نے کہا کہ نان مسلم بھی صادق اورامین لگایا گیا ہے، یہاں امین کا مطلب اسلام والا نہیں لیا جائے گا، اس پرعدالت نے کہا کہ آئین تو انگلش میں تھا کیا ائین سازوں کو صادق اور امین کا انگریزی معلوم نہیں تھی۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کون تعین کرے گا کس کا کرداراچھا کس کا نہیں۔ وکیل نے جواب دیا کہ حتمی طور پو تعین اللہ ہی کرسکتا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ تاحیات نااہلی کا فیصلہ تحریرکرنے والا جج نے فیصل واوڈا کیس کا فیصلہ بھی دیا، کیا دونوں فیصلوں کو ایک ساتھ دیکھا جا سکتا ہے؟ غیر مسلم بھی صادق و امین ہو سکتے ہیں، وکیل خرم رضا سمیت جو تاحیات نااہلی کی حمایت کر رہے وہ اپنے نکات بتا دیں، تین وکلا نے تاحیات نااہلی کی حمایت کی تھی، عثمان کریم صاحب اوراصغر سبزواری صاحب کیا آپ خرم رضا کے دلائل اپنا رہے ہیں؟

وکیل اصغرسبزواری نے جواب دیا کہ تاحیات نااہلی اگر ڈکٹیٹر نے شامل کی تو اس کے بعد منتخب حکومتیں بھی آئیں، سمیع اللہ بلوچ کیس میں تاحیات نااہلی “جج میڈ لاء” ہے، جہانگیز ترین جیسے کیسز کی انکوائری ہونا چاہئے جہاں ٹرائل کے بغیر تاحیات نااہل کر دیا گیا۔

جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ جب قانون آچکا ہے اور نااہلی پانچ سال کی ہوچکی تو تاحیات والی بات کیسے قائم رہے گی۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ سیاست دان عوام کے منتخب نمائندے ہوتے ہیں، آمروں اور سیاست دانوں کوایک ساتھ نہیں پرکھا جاسکتا، آمرآئین توڑ کر حکومت میں آتا ہے منتخب ہو کر نہیں آتا، سیاست دانوں کو ایسے برا نہ بولیں وہ عوامی رائے سے منتخب ہوتے ہیں۔

جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ آئین میں 62 اور 63 دونوں آرٹیکلز کو ایک ساتھ کیسے شامل کرلیا گیا۔  وکیل عثمان کلیم اللہ نے جواب دیا کہ آرٹیکل 62 میں اہلیت کی بات کی گئی ہے۔ آرٹیکل 63 نااہلیت سے متعلق ہے۔ دونوں ایک ہی ہیں اورمقصد ایک جیسا ہے۔

’’الیکشن سر پر ہیں ہم اس معاملے پرجلد فیصلہ کرنا چاہتے ہیں‘‘

وکیل عثمان نے دلائل دیے کہ لیکن پانامہ کیس میں نااہل کرتے وقت 62 ون ایف کا ذکر کیا گیا۔ چیف جسٹس پاکستان نے جواب دیا کہ  یہاں ہم سزا کے تعین کی کوشش کررہے ہیں، اس معاملے کو رہنے دیں۔ الیکشن سر پر ہیں ہم اس معاملے پرجلد فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔  نااہلی ون ٹرم کا بھی کہا گیا ہے۔ کیا نااہلی 3 سال کی ہوسکتی ہے۔ کوئی اگر نااہل ہوا ہے تو کیا ضمنی انتخابات یا مڈٹرم انتخابات میں حصہ لے سکتا ہے۔

وکیل نے جواب دیا کہ نااہلی میں 5 سال کا بھی تعین نہیں ہے۔ نااہلی 3 سال کے لیے بھی ہوسکتی ہے۔

جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ جب قانون آچکا ہے اورنااہلی پانچ سال کی ہوچکی توتاحیات والی بات کیسے قائم رہے گی۔

وکیل عثمان نے دلائل میں کہا کہ سپریم کورٹ نے 2013 کے اللہ دینو بھائیو کیس کے فیصلے میں 62 ون ایف کی نااہلی دی، سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے اللہ دینو بھائیو فیصلے پرانحصارکرکے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی متعارف کرائی، سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے 2020 میں اللہ دینو بھائیو نظر ثانی کیس میں نااہلی کالعدم قراردے دی، جسٹس بندیال نے 2020 کے اللہ دینو بھائیو فیصلے پرانحصارکرکے فیصل واوڈا کیس کا فیصلہ دیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ یعنی آپ کے مطابق جسٹس بندیال نے اس فیصلے کو بنیاد بنا کر اپنے ہی مؤقف کی نفی کی؟ وکیل نے جواب دیا کہ سپریم کورٹ کا 62 ون ایف کا سمیع اللہ بلوچ کا فیصلہ اس لیے چلے گا کیونکہ پانچ رکنی بنچ کا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ اچھی تیاری کرکے آئے ہیں، اوربھی معاونت کریں۔ الیکشن سر پر ہیں ہم نے یہ مسئلہ حل کرنا ہے۔

’’سپریم کورٹ اپنی غلطی کی تصحیح کرسکتی ہے‘‘

وکیل عثمان کریم نے دلائل دیے کہ سپریم کورٹ قرار دے چکی ہے کہ ریٹرننگ افسرعدالت نہیں جو ڈیکلریشن دے سکے، سپریم کورٹ تاحیات نااہلی کے فیصلے کا دوبارہ جائزہ لے، سپریم کورٹ نے نااہلی کی مدت کے تعین کی درست تشریح نہیں کی، سپریم کورٹ اپنی غلطی کی تصحیح کرسکتی ہے۔

وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو عزیربھنڈاری نے کہا کہ 62 ون‌ایف کے تحت تاحیات نااہلی کی سزائیں دی گئی ہیں۔

جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ تاحیات نااہلی کی سزا اٹھارویں ترمیم سے قبل دی گئی یا بعد میں۔ عزیربھنڈاری نے جواب دیا کہ  2007 میں تاحیات نااہلی کی سزا دی گئی، آٹھارویں ترمیم سے قبل سزائیں دی گئیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آرٹیکل 63 میں سزاؤں کا ذکر کیا گیا ہے لیکن 62 ون ایف میں نہیں۔ عدالتی معاون عزیربھنڈاری نے جواب دیا کہ  62 ون ایف کی سزا کا تعین عدالتوں نے کیا ہے۔ 62 ون‌ ایف کے تحت تاحیات نااہلی کی سزائیں دی گئی ہیں۔

جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ تاحیات نااہلی کی سزا اٹھارہویں ترمیم سے قبل دی گئی یا بعد میں؟ عدالتی معاون نے جواب دیا کہ  2007 میں تاحیات نااہلی کی سزا دی گئی، اٹھارہویں ترمیم سے قبل سزائیں دی گئیں۔ 62 ون ایف کی سزا کا تعین عدالتوں نے کیا ہے،  پارلیمنٹ نے کبھی آرٹیکل 62 اور 63 کی لینگویج تبدیل کرنے کی کبھی کوشش نہیں کی۔

چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ ایک مرتبہ حلف کی لینگویج تبدیل ہوئی تو پورا ملک بند کر دیا گیا، شاید اس لیے اس معاملے کو چھوڑ دیا گیا ہو، ریاست نے سوچا ہوگا ان لوگوں سے کون ڈیل کرے گا۔

عدالتی معاون عزیربھنڈاری کے دلائل

عزیربھنڈاری نے کہا کہ یہ غالب جیسی بات ہے کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا، تاحیات نااہلی کیس میں جسٹس (ر) عظمت سعید نے اضافی نوٹ میں لکھا مدت کا تعین پارلیمنٹ کو کرنا چاہیے، سمیع اللہ بلوچ کیس میں سپریم کورٹ نے مکمل تفصیلی وجوہات نہیں دیں، سمیع اللہ بلوچ کیس کو چھیڑے بغیر بھی سپریم کورٹ تعین کرسکتی ہے، سپریم کورٹ یہ اصول طے کر سکتی ہے کہ آرٹیکل 62 ون ایف کو 63 ایچ کے تناظرمیں لیا جائے، 62 ون‌ایف کے تحت تاحیات نااہلی کی سزائیں دی گئی ہیں۔

جسٹس محمدعلی مظہرنے کہا کہ سمیع اللہ بلوچ کیس میں جوڈیشل میکانزم کیا دیا گیا۔ جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ ڈیکلریشن کہاں سے آئے گی، آرٹیکل 199میں تو پبلک آفس کیلئے ڈیکلریشن دیا جا سکتا ہے، پرائیوٹ فرد کیلئے ڈیکلریشن کہاں سے آئے گا، کیا ہر کو وارنٹو میں ہائیکورٹ یہ کہہ سکتی ہے کہ فلاں امانت دار نہیں ہے، ماضی کے کسی عمل کو بنیاد بنا کر ڈیکلریشن آئے گا کہاں سے؟

عزیربھنڈاری نے جواب دیا کہ میں عدالتی معاون ہوں، کراس سوال نہ کریں جس پر ججز مسکراتے رہے۔

عدالتی معاون نے کہا کہ اگرآپ کہیں تو میں اپنے سوالات واپس لے لیتا ہوں، تسلیم شدہ حقائق پر سپریم کورٹ بھی ڈیکلریشن دے سکتی ہے، سول کورٹ بھی ڈیکلریشن دے سکتی ہے۔

چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ ہم نے چیزوں کو آسان بنانا ہے مشکل بنانا نہیں، ہم نے آر او کیلئے آسانی لانی ہے مشکل نہیں لانی، ہمیں صرف بتائیں سزا تاحیات ہوگی یا پانچ سال، آپ نے تو ریٹرننگ افسر کو کورٹ آف لا بنا دیا، اگر کوئی شخص صادق و امین نہ ہونے کی وجہ سے تاحیات نااہل ہوجاتا ہے۔ کیا وہ عدالت میں سوٹ کرسکتا ہے کہ اب میں اچھا ہوگیا ہوں صادق و امین ہوں، مجھے اہل کردیا جائے۔ کیا یہ سوٹ داخل ہوسکتا ہے۔

عدالتی معاون عزیربھنڈاری نے جواب دیا کہ جی بالکل وہ عدلیہ سے رجوع کرسکتا ہے۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ایک شخص کوالیفائی کرکے رکن بن گیا اور بعد میں وہ خراب ہو گیا تو کیسے نکالیں گے؟  نااہل کرنے والے آرٹیکل 63 میں تو 62 ون ایف کا ذکر نہیں۔

عزیربھنڈاری نے جواب دیا کہ ایسی صورت میں تو وارنٹو کی رٹ لائی جائے گی جس پرچیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ بھنڈاری صاحب میں بات نہیں سمجھ پا رہا۔

عدالتی معاون نے جواب دیا کہ میں پھر معذرت کر لیتا ہوں، ڈیکلیریشن کہاں سے آنا ہے اگر یہ سوال ہے ہی نہیں تو چھوڑ دیتے ہیں۔

جسٹس یحیٰی آفریدی نے کہا کہ آپ اپنے دلائل اپنی ترتیب سے جاری رکھیں، چیف جسٹس نے بھی کہا کہ ہم آپ کو سننا چاہتے ہیں مگر ہم نے کیس ختم بھی کرنا ہے، ہم نے اپنا آرڈر لکھنا بھی ہے، اس مقدمہ کو طول نہیں دے سکتے، انتخابات کا شیڈیول مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ بھی لکھنا ہے۔

عزیربھنڈاری نے کہا کہ ہائی کورٹ کو اختیارہے کہ منتخب نمائندے کیخلاف ڈیکلریشن جاری کرے، بے ایمانی کا فیصلہ تو عدالت کسی بھی کیس میں دے سکتی ہے، آرٹیکل 62 ون ایف کیلئے سول کورٹ سے ڈیکلریشن لینا لازمی ہے، ہرعدالتی فیصلہ منتخب نمائندے کیخلاف ڈیکلریشن نہیں ہوسکتا۔

چیف جسٹس نے استفسارکیا کہ جھوٹ بولنے والا تاحیات نااہل اوربغاوت کرنے والا پانچ سال نااہل کیسے ہوسکتا؟ اس نکتے کی طرف کسی کا دھیان نہیں گیا، پارلیمنٹ نے یہ ترامیم مرضی سے نہیں کیں، ان پر تھوپی گئی ہیں۔ عزیربھنڈاری نے جواب دیا کہ اٹھارہویں ترمیم کسی نے تھوپی نہیں ہے۔

’’پاکستان کو یرغمال بنانے والے دوبارہ الیکشن لڑ رہے ہیں‘‘

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ پورے پاکستان کو یرغمال بنانے والے دوبارہ الیکشن لڑ رہے ہیں، آئین میں یہ سب چیزیں کہاں سے آئیں یہ کوئی نہیں بتا رہا، کوئی وکیل بھی ڈکٹیٹر کیخلاف بات نہیں کرتا، ڈکٹیٹر کہتا ہے یہ ترامیم کرو نہیں تو میں پچیس سال بیٹھا رہوں گا، آمرکو ہٹانے کیلئے پارلیمان اس کی بات مان لیتی ہے، ہم ہوا میں باتیں کررہے ہیں، ایک سوال کا جواب دیں، ایک ڈیکلیریشن آنے کے بعد کوئی دوبارہ عدالت جا سکتا ہے؟ کیاکوئی جا کر کہہ سکتا ہے اب توبہ کرلی ڈیکلیئر کریں میں بہت اچھا مسلمان ہوں؟

جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ کیا ایسا کوئی فیصلہ موجود ہے جس میں ایسا فیصلہ دیا گیا ہو؟ عدالتی معاون نے جواب دیا کہ میں نے فیصل واوڈا کیس میں ایسا دیکھا ہے جس پرچیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کسی کو سب سے زیادہ ڈسکشن دینا بہت خطرناک ہوتا ہے، میں توقع رکھتا تھا کہ آپ آئینی معاونت کریں گے، یہ نہیں ہوسکتا فیصل واوڈا ندامت دکھائے تو معاملہ عدالتی موڈ پر چلا جائے، عدالت کا موڈ ہو تو تاحیات نااہلی کرے موڈہو تو چھوڑ دے ایسا نہیں ہوتا، کسی وکیل نے ڈکٹیٹر کیخلاف کبھی بات نہیں کی۔

عدالتی معاون نے جواب دیا کہ میں نے جتنا ڈکٹیٹر پر تنقید کی اتنی 18ویں ترمیم پر کی، اس پرچیف جسٹس نے کہا کہ ارکان پارلیمنٹ بیچاروں پر تو تنقید آسان ہے۔

عزیر بھنڈاری نے جواب دیا کہ میں بندوق والوں سے نہیں لڑسکتا جنہیں ووٹ دیا ان سے ہی پوچھ سکتا ہوں، میں کہہ رہا ہوں ڈیکلیریشن سوٹ فائل کرنے سے آسکتا ہے، میری یہ رائے ہے اسے آپ نے ماننا یا نہ ماننا ہے۔

عزیربھنڈاری نے جسٹس منصورعلی شاہ کے پرانے فیصلے کا حوالہ دیا جس پرجسٹس منصورعلی شاہ نے مسکراتے ہوئے استفسارکیا کہ آپ آج میرے پیچھے ہی کیوں پڑے ہیں؟

تاحیات نااہلی کیس کی وقفے کے بعد دوبارہ سماعت شروع توعدالتی معاون فیصل صدیقی نے دلائل کا آغازکرتے ہوئے کہا کہ تاحیات نااہلی کے فیصلے کی موجودگی میں الیکشن ایکٹ میں ترمیم بے سود ہے، عدالتی فیصلے کا اثرکسی سادہ قانون سازی سے ختم نہیں کیا جا سکتا، تاحیات نااہلی کا فیصلہ واپس لیے بغیر پانچ سال نااہلی کا قانون غیرآئینی ہوگا، سپریم کورٹ کو تاحیات نااہلی کا فیصلہ واپس لینا ہوگا۔

عدالتی معاون فیصل صدیقی نے کہا کہا سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی عدالتی ڈیکلریشن کی بنیاد پر دی تھی، لازمی نہیں کہ عدالتی ڈیکلریشن ہمیشہ کیلئے ہو، ڈیکلریشن ختم ہوتے ہی نااہلی کی معیار بھی ختم ہوسکتی ہے، سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی عدالتی ڈیکلریشن کی بنیاد پر دی تھی، لازمی نہیں کہ عدالتی ڈیکلریشن ہمیشہ کیلئے ہو، ڈیکلریشن ختم ہوتے ہی نااہلی کی معیار بھی ختم ہو سکتی ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے سوال کیا کہ کیا یہ بھی آپشن ہے کہ معاملہ آئینی ترمیم کیلئے پارلیمان کو بھجوا دیں؟ عدالتی فیصلے کیخلاف قانون سازی کیسے نہیں ہو سکتی یہ کہاں لکھا ہوا ہے، اگر کسی عدالتی فیصلے میں یہ بات ہے تو کس بنیاد پر ہے یہ بھی بتائیں۔

فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ پارلیمان نے کوئی خلاء چھوڑ دیا ہے تو اسے ہلکا نہیں لیا جا سکتا۔

چیف جسٹس نے سوال کیا کہ اگر عدالت اور پارلیمان ایک ہی کام کریں تو فوقیت کس کو دی جائے گی؟

فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ کسی سیاستدان کو انتخابی عمل سے باہر کرنا بہت بڑی سزا ہے، سیاستدان کے حوالے سے فیصلہ عوام کو کرنے دیا جائے، عدالتوں کو سیاستدانوں کی اہلیت کا فیصلہ کرنا بہت غلط بات ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ایکٹ آف پارلیمنٹ سے آئینی ترمیم کو ریگولیٹ نہیں کیا جا سکتا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ قانون ساز خلا اس لئے چھوڑتے ہیں کہ بعد میں اس پر قانون بن سکے، اس بنیاد پر الیکشن ایکٹ کا سیکشن 232 ختم نہیں کیا جا سکتا، کیا آئین قتل کی سزا کا تعین بھی کرتا ہے؟ اگر قانون سازوں نے کوئی خلا چھوڑا ہے اسے کیسے پر کیا جائے گا؟

وکیل فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ اگر قانون ساز خلا پر نہیں کرتے تو عدالت بھی کر سکتی ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ڈکلیریشن کی مدت پانچ سال تک رکھنا الگ بات ہے، قانونی ترمیم سے شاید وہ اس سے تھوڑا آگے چلے گئے، نااہلی کی مدت کو پانچ سال تک کرنا ایک آئینی چیز کو کنٹرول کرنے جیسا ہے، ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟

چیف جسٹس نے کہا کہ انسان نہیں اس کے اعمال برے ہوتے ہیں، آج میں شرابی اور زانی ہوں اور کل توبہ کر لیتا ہوں تو اللہ تعالیٰ معاف کر دے گا، توبہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے، تاحیات نااہلی کا فیصلہ اعمال نہیں انسان کو برا کہ رہا ہے، تاحیات نااہلی کا فیصلہ اسلامی اصولوں کیخلاف ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اس بات کا کیا ثبوت ہو گا کہ کس نے توبہ کی ہے کس نے نہیں؟

فیصل صدیقی نے استدعا کی کہ عدالت آئندہ انتخابات تک ہی نااہلی کو محدود رکھے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے سوال کیا کہ آئندہ انتخابات تک ڈیکلریشن ازخود کیسے ختم ہو جائے گا؟ کاغذات نامزدگی مسترد ہو جائیں تو ڈیکلریشن لیکر امیدوار کہاں جائے گا؟

فیصل صدیقی نے کہا کہ آرٹیکل 62 ون ایف میں ڈیکلریشن دینے کا کوئی طریقہ کار نہیں دیا گیا، بے ایمانی کا ڈیکلریشن آنے تک ہر شخص ایماندار تصور ہو گا، فیصل واووڈا اور تاحیات نااہلی کے فیصلوں میں کوئی تضاد نہیں ہے، فیصل واوڈا کیس میں نااہلی کا فیصلہ سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دیا تھا، عدالت نے قرار دیا تھا کہ الیکشن کمیشن عدالت نہیں ہے۔

چیف جسٹس نے تاحیات نااہلی کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ کل صبح نو بجے مزید سماعت ہو گی۔

وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کی دو سال کی سزا معطل کر رکھی ہے، ہائیکورٹ میں مرکزی اپیل ابھی زیر التوا ہے، ریٹرننگ افسر نے میرے موکل کے کاغذات مسترد کر دیے ہیں، میرے موکل نے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کا فیصلہ چیلنج کر رکھا ہے۔

متعلقہ خبریں