اسلام آباد ہائی کورٹ نے نیب سزا یافتہ کیلئے 10 سالہ نااہلی کی مدت بحال کردی۔ سنگل بنچ نے نااہلی کی مدت 10 سال کے بجائے 5 سال کا فیصلہ دیا تھا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں نیب سزا یافتہ کی دس سالہ نااہلی کم کرکے پانچ سال کرنے کے فیصلے کے خلاف اپیل پرنیب کیسز میں سزا یافتہ ن لیگ کے ٹکٹ ہولڈر فائق جمالی کی اہلیت کیخلاف نیب کی درخواست پر سماعت ہوئی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے دو رکنی بنچ نے نااہلی کی مدت سے متعلق درخواست پر سماعت کی۔ نیب پراسیکیوٹرنے دوران سماعت کہا کہ سزا یافتہ شخص کے جیل سے رہا ہونے کے بعد اس کی نااہلی کی مدت شروع ہوگی، فائق جمالی کو سنائی گئی سزا میں دس سال کی نااہلی بھی شامل تھی۔
نیب سزا یافتہ کیلئے 10 سالہ نااہلی کی مدت بحال
سنگل بینچ کا فیصلہ ڈویژن بینچ نے معطل کر دیا
براہ راست دیکھیں:https://t.co/d9lAsOIKwT#BOLNews #IslamabadHighCourt pic.twitter.com/3M6bRNV1uS— BOL Network (@BOLNETWORK) January 4, 2024
نیب پراسکیوٹررافع مقصود نے کہا کہ سپریم کورٹ تک فائق جمالی کی سزا برقرار رہی جس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ یہ سوال ہی نہیں ہے جس پر آپ دلائل دے رہے ہیں، سزا تو متنازع نہیں ہے، آئین میں ذیلی قانون سازی کیا آئین میں دی گئی تشریح سے مختلف ہوسکتی ہے؟
پراسیکیوٹرنیب نے جواب دیا کہ آئین کے آرٹیکل تریسٹھ ون ایچ میں جنرل بات کی گئی ہے، نیب آرڈیننس ایک اسپیشل لا ہے ،اس میں دس سال کی نااہلی کی سزا موجود ہے، خالد لانگو کیس میں سپریم کورٹ نے نااہلی کی سزا برقرار رکھی۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ 63 ون ایچ کے تحت نااہلی صرف مجلس شوریٰ کیلئے ہے، صوبائی اسمبلی کیلئے نہیں؟ جس پر نیب کےپراسیکیوٹرنے جواب دیا کہ جی، تریسٹھ ون ایچ کے تحت نااہلی صوبائی اسمبلی کیلئے نہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے نیب ریفرنس میں سزا یافتہ مجرم فائق علی جمالی کی نا اہلی کی مدت سے متعلق سنگل بینچ کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کردیا۔
سنگل بنچ نے نااہلی کی مدت 10 دال کے بجائے 5 سال کا فیصلہ دیا تھا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اخترکیانی اورجسٹس ثمن رفعت امتیازنے حکم امتناع جاری کیا۔




















