سینیٹ میں انتخابات ملتوی کرانے کی قرادارمنظور کرنے کا معاملے پرسپریم کورٹ میں سینٹ کی منظور کردہ قراداد کے خلاف آئینی درخواست دائرکردی گئی۔
سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ سینیٹ میں انتخابات ملتوی کروانے کے لیے قرار داد پاس کی گئی، سینیٹ میں قرارداد پاس کرنا توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے، الیکشن وقت پرنہ ہونا آئین کی خلاف ورزی ہے، چیئرمین سینیٹ اورارکان کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی کا آغاز کیا جائے۔
درخواست گزاروکیل اشتیاق احمد مرزا کی جانب سے درخواست میں استدعا کی گئی کہ سینیٹ کی منظورکردہ قرارداد کو غیرقانونی و غیر آئینی قراردیا جائے، سینیٹ کے جن ممبران نے قرارداد پاس کرنے میں کردار ادا کیا ان کے خلاف آرٹیکل 6 کے مطابق کارروائی کی جائے۔
درخواست میں یہ بھی استدعا کی گئی کہ سپریم کورٹ کے 15 دسمبر کے احکامات پرعملدرآمد نہ کرنے پر توہین عدالت کی کاروائی شروع کی جائے، الیکشن کمیشن کو شیڈول کے مطابق عام انتخابات کرانے کی ہدایت کی جائے۔
رخواست میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی، سینیٹر دلاور خان، سینیٹر منظور احمد، سینیٹر احمد خان کے علاوہ سینیٹرگردیپ سنگھ، سینیٹر ہدایت اللہ، سینیٹ خلیل الرحمان، سینیٹر کامل علی آغا، سینیٹر کہدہ بابر، سینیٹرمحمد عبدالقادرکو فریق بنایا گیا۔
درخواست میں سینیٹر نصیب اللہ بازئی، سینیٹر پرنس احمد عمراحمد زئی، سینیٹرسیمی جمالی، الیکشن کمیشن، سینیٹ میں نمائندگی رکھنے والی سیاسی جماعتوں کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔




















