اسلام آباد ہائی کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف سائفر کیس کے ٹرائل پر حکمِ امتناع ختم کر دیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے بانی پی ٹی آئی کی سائفرکیس کے اِن کیمرہ ٹرائل کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔
دورانِ سماعت اٹارنی جنرل منصورعثمان اعوان نے دلائل دیے۔
بانی PTI کی سائفر کیس کے ان کیمرہ ٹرائل کیخلاف اپیل
14 دسمبر کے بعد جیل ٹرائل کی تمام کارروائی کالعدم قرار
براہ راست دیکھیں:https://t.co/d9lAsOIKwT#BOLNews #CipherCase pic.twitter.com/LQ5H145h6B— BOL Network (@BOLNETWORK) January 11, 2024
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ سائفر کیس سے متعلق دستاویزات طلب کی تھیں، وہ کدھر ہیں؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ریکارڈ آ چکا ہے، صرف نمبرنگ ہو رہی ہے، کچھ دیرمیں پیش کر دیں گے۔
اِن کیمرہ ٹرائل کے خلاف بانی تحریکِ انصاف کی درخواست پر سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیتے ہوئے استدعا کی کہ 14 دسمبر کے آرڈر کے بعد کی کارروائی کالعدم قرار دی جائے۔
وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ انہوں نے تسلیم کرلیا ہے کہ 14 دسمبر کا آرڈر درست نہیں تھا جس کے بعد جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب نے حکمِ امتناع خارج کر دیا۔
اٹارنی جنرل نےعدالت کو سائفر کیس میں 14 دسمبر کے بعد کی کارروائی ازسرِ نو کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
واضح رہے کہ 14 دسمبر کو ٹرائل کورٹ نے سائفر کیس میں اِن کیمرا ٹرائل کا حکم جاری کیا تھا۔




















