سپریم کورٹ نے پشاورہائی کورٹ کے فیصلےکیخلاف الیکشن کمیشن کی درخواست پرسماعت کل صبح دس بجے تک ملتوی کردی، حکم نامے میں چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارا ویک اینڈ برباد کرنے کا شکریہ۔
سپریم کورٹ میں پی ٹی آئی کو بلے کے انتخابی نشان دینے کیخلاف الیکشن کمشن کی اپیل پر سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس قاضی فائزعیسٰی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی۔ بنچ میں جسٹس محمدعلی مظہراور جسٹس مسرت ہلالی شامل تھے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے وکیل مخدوم علی عدالت میں پیش ہوئے۔
چیف جسٹس پاکستان نے پوچھا کہ کیا پشاور ہائی کورٹ کا تفصیلی فیصلہ آ گیا ہے؟ وکیل حامد خان نے جواب دیا کہ تفصیلی فیصلہ ابھی نہیں آیا۔
مخدوم علی خان نے بلے کا نشان واپس کرنے کا فیصلہ پڑھ کرسنا دیا۔ تحریک انصاف کے وکیل حامد خان کمرہ عدالت، علی ظفر لاہور رجسٹری سے ویڈیو لنک پر موجود ہیں۔
حامد خان نے عدالت سے کہا کہ ہمیں کوئی نوٹس موصول نہیں ہوا، جس پرعدالت نے کہا کہ کیس کی فائل میں نے بھی نہیں پڑھی۔ آپ مقدمہ کیلئے کب تیارہونگے؟
وکیل حامد خان نے جواب دیا کہ پیرکو سماعت رکھ لیں جب کہ وکیل الیکشن کمیشن نے مؤقف پیش کیا کہ کل امیدواروں کو انتخابی نشان الاٹ ہونے ہیں۔
’’سماعت ملتوی کرنے کیلئے ہائی کورٹ کا حکم معطل کرنا پڑے گا‘‘
چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ پیرتک سماعت ملتوی کرنے کیلئے ہائی کورٹ کا حکم معطل کرنا پڑے گا، ہم تو ہفتے اور اتوارکو بھی سماعت کیلئے تیار ہیں۔ اس پروکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ اس صورت میں تیاری کیلئے کل تک کا وقت دیں۔
اس کے ساتھ ہی تحریک انصاف کے وکیل حامد خان نے بلے کے انتخابی نشان سے متعلق کیس پیرتک ملتوی کرنے کی استدعا کردی۔ اس پرچیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ پیر تک ملتوی کرنا ہے تو ہمیں پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کرنا پڑے گا۔
وکیل حامد خان نے کیس کل تک ملتوی کرنے کی نئی استدعا کردی، اس پرچیف جسٹس قاضی فائزعیسی نے کہا کہ ہمیں وقت کا احساس ہے۔ لیکن آج تھوڑا سا کیس سن لیتے ہیں۔
وکیل الیکشن کمیشن نےدلائل دیے کہ تحریک انصاف کے گزشتہ پارٹی انتخابات 2017 میں ہوئے تھے، پارٹی آئین کے مطابق تحریک انصاف 2022 میں پارٹی انتخابات کرانے کی پابند تھی، الیکشن کمیشن نے پارٹی آئین کے مطابق انتخابات نہ کرانے پر پی ٹی آئی کو نوٹس جاری کیا۔
جسٹس محمدعلی مظہرنے کہا کہ پی ٹی آئی کے آئین میں الیکشن کمشنر کی تعیناتی کا طریقہ کار کہاں درج ہے؟ مخدوم علی خان نے جواب دیا کہ پہلے جمال انصاری بعد میں نیاز اللہ نیازی پی ٹی آئی کے چیف الیکشن کمشنر بنے۔
چیف جسٹس پاکستان نے پوچھا کہ پارٹی آئین کے مطابق الیکشن کمیشن کے باقی ارکان کون تھے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ چیف الیکشن کمشنر کے علاوہ کوئی اور ممبر تعینات نہیں تھا۔
چیف جسٹس نے وکیل پی ٹی آئی سے پوچھا کہ کیا یہ بات درست ہے؟ وکیل حامد خان نے جواب دیا کہ الیکشن کمیشن کے وکیل کی یہ بات درست نہیں۔ اس پرعدالت نے پوچھا کہ الیکشن کمیشن ارکان کی تقرری کی دستاویزات کہاں ہیں؟
وکیل حامد خان نے جواب دیا کہ کیس کی تیاری کیلئے وقت اسی لئے مانگا تھا، الیکشن کمیشن کی اپیل قابل سماعت اور حق دعوی نہ ہونے پر بھی دلائل دوں گا، مناسب ہوگا پہلے حق دعویٰ اور قابل سماعت ہونے کا نکتہ سن لیں۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو ریگولیٹ کرنا اور شفاف انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔
وکیل پی ٹی آئی نے دلائل دیے کہ سپریم کورٹ قرار دے چکی ہے کہ کوئی ادارہ اپنے فیصلے کے دفاع میں اپیل نہیں کرسکتا۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کسٹم کلیکٹر بھی اپنے فیصلے کیخلاف ہائی کورٹ میں اپیلیں کرتے ہیں، قابل سماعت ہونے کا سوال تو پھر پی ٹی آئی کی ہائی کورٹ اپیل پر بھی آئے گا، الیکشن کمیشن اپیل نہ کرے تو اس کے فیصلے بے معنی ہوجائیں گے۔
’’کیا الیکشن کمیشن اپنے خلاف فیصلہ آنے پرسرینڈر کر دے؟‘‘
وکیل حامد خان نے کہا کہ متاثرہ فریق اپیل کرسکتا ہے الیکشن کمیشن نہیں، کیا ڈسٹرکٹ جج خود اپنا فیصلہ کالعدم ہونے کی خلاف اپیل کر سکتا ہے؟ جس پرچیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ ڈسٹرکٹ جج عدلیہ کے ماتحت ہوتا ہے الیکشن کمیشن الگ آئینی ادارہ ہے، کیا الیکشن کمیشن اپنے خلاف فیصلہ آنے پرسرینڈر کر دے؟
وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ عدالت نے مسابقتی کمیشن اور وفاقی محتسب کے کیسز میں اداروں کو اپنے فیصلوں کیخلاف اپیلوں سے روکا تھا۔ جس پرچیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا آئینی اداروں پر ان فیصلوں کا اطلاق ہو سکتا ہے؟ قانون اورآئین کے تحت قائم ادارے ایک جیسے نہیں ہوسکتے، آئین کے تحت بنا الیکشن کمیشن آئین کے مطابق ہی اختیارات استعمال کرے گا، کوئی ایسا فیصلہ دکھائیں جہاں آئینی اداروں کو اپیلوں سے روکا گیا۔
’’پارٹی الیکشن کمیشن کی تقرری کی دستاویز کہاں ہے؟‘‘
وکیل حامد خان نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا انحصارآئین نہیں الیکشن ایکٹ پر ہے۔ چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ آپ کی بات مان لی تو یہ آئینی ادارے کو ختم کرنے والی بات ہوگی، کسی آئینی ادارے کا کام خود نہیں کرینگے، الیکشن کمیشن کے وکیل کو کیس کے حقائق سےآگاہ کرنے دیں، پارٹی الیکشن کمیشن کی تقرری کی دستاویز کہاں ہے؟
وکیل حامد خان نے جواب دیا کہ عدالت باضابطہ نوٹس جاری کرتی تو آج دستاویزات بھی لے آتے، اس پرچیف جسٹس نے کہا کہ پی ٹی آئی خود ہائی کورٹ گئی تھی انہیں تو اپیل دائر ہونے پر حیران نہیں ہونا چاہیے تھا، الیکشن کمیشن سے کارروائی کا مکمل ریکارڈ منگوا لیتے ہیں۔
وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ پی ٹی آٸی کے پارٹی الیکشن کیخلاف چودہ شکایات ملی، چیف جسٹس پاکستان نے پوچھا کہ یہ درخواستیں کس نے داٸر کیں؟ مخدوم علی خان نے جواب دیا کہ درخواستیں دینے والے تحریک انصاف کے لوگ تھے۔
اکبر ایس بابر کے وکیل روسٹرم پر آئے اورعدالت کے سامنے دلائل رکھےکہ ہماری درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا گیا، اکبر ایس بابر فاؤنڈر ممبر پی ٹی آئی ہے، اکبر ایس بابر پارٹی میں مختلف عہدوں پر تعینات رہے جس پرچیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے پوچھا کہ پھر وہ پی ٹی آئی کے ممبر کیوں نہیں؟
سپریم کورٹ نے حامد علی خان سے استفسار کیا کہ آپ نے اکبر ایس بابر کو پارٹی سے نکال دیا؟ کیا انہوں نے کسی اور جماعت میں شمولیت اختیار کی؟ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ فاؤنڈر ممبر تو میرے حساب سے کبھی ختم نہیں ہوتا۔
وکیل پی ٹی آئی نے جواب دیا کہ یہ تو ایک اور بحث ہے کہ کون فاؤنڈنگ ممبر ہے کون نہیں جس پرعدالت نے کہا کہ حامد خان صاحب کیا آپ تحریک انصاف کے فاؤنڈنگ ممبر نہیں؟ وکیل نے جواب دیا کہ جی میں پارٹی کا فاؤنڈنگ ممبر ہوں۔
اکبرایس بابر کی جانب سے ایڈووکیٹ احمد حسن عدالت میں پیش ہوئے اورمؤقف اختیارکیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ قراردے چکی ہے کہ اکبر ایس بابر پی ٹی آئی کے رکن ہیں۔ اس پرچیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا پی ٹی آئی کے انتخابات بلا مقابلہ ہوئے تھے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ پہلے تین پینل تھے پھر اعلان ہوا کہ سب لوگ دستبردار ہوگئے اور انتخاب بلا مقابلہ ہوا۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ سیاست میں تو مقابلے ہوتے ہیں لوگ ٹکٹ کیلئے لڑائیاں کرتے ہیں، وکیل الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ کسی عہدے پر کوئی مقابلہ نہیں ہوا۔
چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے پوچھا کہ نیاز اللہ نیازی کون ہیں کیا وہ عدالت آئے ہیں؟ نیازاللہ نیازی عدالت میں پیش ہوئے تو عدلات نے پوچھا کہ کیا آپ وکیل ہیں؟ سب کا بلا مقابلہ متفق ہونا کیا عجیب اتفاق نہیں؟
نیاز اللہ نیازی چیف الیکشن کمشنر پی ٹی آئی نے جواب دیا کہ تمام عہدیداربلامقابلہ منتخب ہوئے ہیں، جس پرعدالت نے پوچھا کہ الیکشن کمشن کو پارٹی انتخابات کیخلاف درخواست کس نے دی تھی؟
وکیل مخدوم علی خان نے جواب دیا کہ پی ٹی آئی کے ممبران نے پارٹی انتخابات چیلنج کیے تھے جبکہ وکیل پی ٹی آئی نے دلائل دیے کہ شکایت کنندگان پی ٹی آئی کے ارکان نہیں تھے۔
جسٹس محمدعلی مظہرنے کہا کہ اکبرایس بابر تحریک انصاف کے رکن کیسے ہیں؟ وکیل احمد حسن نے جواب دیا کہ پی ٹی آئی نے ہماری شکایت پر کوئی تحریری جواب نہیں دیا تھا۔
دوران سماعت پی ٹی آئی کے وکیل جذباتی ہوگئے
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اکبر ایس بابر نے خود کو پی ٹی آئی کا بانی رکن لکھا ہے، جس پروکیل پی ٹی آئی حامد خان جذباتی ہو گئے اور عدالت سے کہا کہ اکبر ایس بابراب پی ٹی آئی کے رکن نہیں ہیں، پارٹی کا بیان کسی انفرادی شخص کے بیان پر فوقیت رکھتا ہے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ جذباتی نہ ہوں، اکبر ایس بابر کے رکن نہ ہونے کی دستاویز دکھا دیں۔
حامد خان نے اعتراف کیا کہ اکبرایس بابر بانی رکن تھے، اس پرجسٹس محمدعلی مظہرنے کہا کہ بانی رکن تو میرے حساب سے ختم نہیں ہوسکتا، اگرنکالا ہے تو لیٹر دکھا دیں۔
عدالت نے حامد خان سے پوچھا کہ کیا آپ بھی پی ٹی آئی کے بانی رکن ہیں؟ وکیل پی ٹی آئی نے جواب دیا کہ میں بھی پی ٹی آئی کا بانی رکن ہوں، بانی ارکان آٹھ سے بارہ تھے، بانی ارکان اور بعد میں آنے والوں میں فرق کرنا ہوگا۔
چیف جسٹس فائزعیسی نے کہا کہ یہ جمہوریت تو نہیں ہے۔ اس پرمخدوم علی خان نے کہا کہ الیکشن کمشین کا بھی یہی مؤقف ہے۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ پی ٹی آئی آئین میں فیڈرل الیکشن کمشنر کو ذکر ہے جبکہ نتائج کا اعلان چیف الیکشن کمشنر نیاز اللہ نیازی نے کیا، انتخابی نتائج پر صرف چیف الیکشن کمشنر کے دستخط ہیں کسی صوبائی الیکشن کمشنر کے نہیں، کیا صوبوں کے انتخابات بھی پشاورمیں ہی ہوئے ہیں؟ حامد خان سے ان سوالات کے جواب لینگے، آج سپریم جوڈیشل کونسل کا بھی اجلاس ہے، ممکن ہے 1:30 بجے کے بعد دوبارہ سماعت کریں۔
سماعت میں وقفہ
اس کے ساتھ ہی سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سے انٹراپارٹی انتخابات کیس کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے سماعت میں دوپہرڈیڑھ بجے تک وقفہ کیا۔ وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو الیکشن کمیشن کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل کا دوبارہ آغاز کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے انٹراپارٹی انتخابات کیس میں 64 صفحات پر مشتمل فیصلہ دیا،الیکشن کمیشن کے پولیٹیکل فنانس ونگ نے بھی انٹراپارٹی انتخابات پر سوالات اٹھائے تھے، الیکشن کمیشن کے مطابق تحریک انصاف کے انتخابات قانون کے مطابق نہیں تھے۔ پی ٹی آئی کے انتخابات خفیہ اور پیش کی گئی دستاویزات حقائق کے مطابق نہیں تھے۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ تحریک انصاف نے آئین تو بہت اچھا بنایا ہے، جس پروکیل الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ الیکشن کمیشن کا کیس یہی ہے کہ انتخابات پارٹی آئین کے مطابق نہیں ہوئے۔
چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے پوچھا کہ پی ٹی آئی کا الیکشن کون کون لڑ سکتا ہے؟ وکیل مخدوم علی خان نے جواب دیا کہ پارٹی انتخابات صرف ممبران ہی لڑسکتے ہیں۔
عدالت نے پوچھا کہ تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل کون ہیں؟ مخدوم علی خان نے جواب دیا کہ پہلے اسد عمر تھے اب عمر ایوب سیکرٹری جنرل ہیں۔
’’کیا اسد عمر نے پی ٹی آئی چھوڑ دی ہے؟‘‘
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کیا اسد عمر نے پی ٹی آئی چھوڑ دی ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق اسدعمر تحریک انصاف چھوڑ چکے ہیں، اسد عمر سیکریٹری جنرل کیسے بنے الیکشن کمیشن ریکارڈ پر کچھ نہیں ہے۔
عدالت نے سوال کیا کہ پی ٹی آئی کے انتخابات کہاں ہوئے تھے؟ کسی ہوٹل میں ہوئے یا کسی دفتر یا گھر میں؟ پی ٹی آئی کے وکلا نے جواب دیا کہ چمکنی کے گراؤنڈ میں ہوئے تھے۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کیا کوئی نوٹیفیکیشن ہے جس میں بتایا گیا ہوکہ پارٹی الیکشن کس جگہ ہونگے؟ جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ چھوٹے سے گم نام گائوں میں انتخابات کیوں کرائے؟
چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ ریکارڈ پر تو کچھ نہیں ہے کہ پشاور میں جس جگہ پارٹی الیکشن ہوا، پارٹی ارکان کو کیسے معلوم ہوا کہ ووٹ ڈالنے کہاں جانا ہے؟ پی ٹی آئی وکلا جواب نہیں دینا چاہتے تو آگے چلتے ہیں، پارٹی ممبران کو تو معلوم ہونا چائیے کہ ووٹ ڈالنے کہاں جانا ہے۔
نیازاللہ نیازی نے کہا کہ واٹس ایپ پر لوگوں کو بتایا تھا اور لوگ پہنچے بھی، ویڈیو موجود ہے عدالت میں چلا لیں، جس پر چیف جسٹس پاکستان نے جواب دیا کہ ویڈیوزباہر جا کر چلا لیں ہم دستاویزات پر کیس چلاتے ہیں۔
وکیل مخدوم علی خان نے دلائل دیے کہ عمر ایوب سیکریٹری جنرل کیسے بنے الیکشن کمیشن ریکارڈ پر کچھ نہیں ہے۔
عدالت نے سوال کیا کہ پی ٹی آئی کے انتخابات کہاں ہوئے تھے؟ کسی ہوٹل میں ہوئے یا کسی دفتر یا گھر میں؟ پی ٹی آئی کے وکلاء نے جواب دیا کہ چمکنی کے گراؤنڈ میں ہوئے تھے۔
عدالت نے نیاز اللہ نیازی کو دلائل دینے سے روک دیا
چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے نیازاللہ نیازی کو دلائل دینے سے روکتے ہوئے کہا کہ آپ وکیل نہیں فریق ہیں۔ حامد خان سینئر وکیل ہیں ان سے اجازت لیکر بات کریں، دو دسمبر سے پہلے پی ٹی آئی کے انتخابات کب ہوئے تھے؟
وکیل مخدوم علی خان نے جواب دیا کہ پی ٹی آئی کے گزشتہ انتخابات آٹھ جون 2022 کو ہوئے تھے، الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے جون 2022میں ہونے والے انتخابات کالعدم قراردیے تھے جس پرچیف جسٹس پاکستان نے سوال کیا کہ کیا الیکشن کمیشن کا یہ حکم چیلنج ہوا تھا؟ وکیل الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ لاہورہائی کورٹ میں فیصلہ چیلنج ہوا تھا جو لارجربنچ کو ریفر کیا گیا لیکن فیصلہ نہ ہوسکا۔
جسٹس محمد علی مظہرنے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق کیس زیرالتواء ہونے کے دوران ہی دوبارہ پارٹی انتخابات ہوگئے تھے جبکہ چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا دونوں پارٹی انتخابات میں وہی عہدیداران منتخب ہوئے تھے؟ وکیل حامد خان نے جواب دیا کہ اس حوالے سے ہدایات اور ریکارڈ لیکر ہی آگاہ کر سکوں گا، الیکشن کمیشن نے 20 دن میں پارٹی الیکشن کرانے کا کہا تھا اس لئے دوبارہ کرائے۔
چیف جسٹس نے پوچھا کہ لاہور ہائی کورٹ میں زیرالتواء درخواست کیا واپس لے لی ہے؟ وکیل پی ٹی آئی نے جواب دیا کہ لاہور ہائی کورٹ کو درخواست غیرمؤثر ہونے سے آگاہ کر دیا ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہرنے کہا کہ الیکشن کمیشن نے چیئرمین پی ٹی آئی کو پارٹی عہدے کیلئے نااہل کرنے کیلئے کیس چلایا، پارٹی انتخابات اور چیئرمین پی ٹی آئی نااہلی کیسز ایک ساتھ چلانے کی درخواست کی تھی۔
چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ کیس لاہور ہائی کورٹ میں زیر التواء تھا تو پشاور ہائی کورٹ نے کیسے سن لیا؟ بیرسٹر گوہر نے جواب دیا کہ پارٹی انتخابات کی حد تک لاہور ہائیکورٹ والا کیس غیرمؤثرہوچکا ہے، انٹراپارٹی انتخابات پشاورمیں ہوئے تھے اس لئے پٹیشن بھی وہیں کیے گئے۔
’’آپ کس حیثیت میں دلائل دے رہے ہیں؟‘‘
چیف جسٹس پاکستان نے بیرسٹرگوہرسے سوال کیا کہ آپ کس حیثیت میں دلائل دے رہے ہیں؟ بیرسٹرگوہرنے جواب دیا کہ عدالت کی معاونت کررہا ہوں، جس پرعدالت نے کہا کہ حامد خان سینئر وکیل ہیں انہیں بات کرنے دیں، اگر آپ کا سمبل بنتا ہے تو فوری دے دیں، سپریم جوڈیشل کونسل اجلاس آپ کی وجہ سے ملتوی ہوا، یہاں سے ریلیف نہیں ملے تو وہاں چلے جاؤ، لاہور ہائیکورٹ چلے گئے تو وہاں ہی رہے، یا پھر اسلام آباد ہائیکورٹ چلے جاتے۔
وکیل حامد خان نے جواب دیا کہ آپ کے سامنے لیول پلیئنگ فیلڈ فراہم کرنے کا کیس زیرالتواء ہے، ان حالات میں اسلام آباد یا لاہور میں سیکیورٹی ممکن نہیں تھی، اسی وجہ سے پشاور میں انتخابات کروائے۔
عدالت نےکہا کہ الیکشن کیس کا فیصلہ ہم نے بارہ دنوں میں کردیا، انتخابات کے فیصلہ پر سب خوش تھے، توہین عدالت کیس میں بھی فوری حکم دیا، فوری رپورٹ منگوا لیں، بتائیں ہم نے کوئی کام نہیں کیا، لاہور کیس کو لٹکا کر کہیں اور کیسے چلے گئے۔
حامد خان نے جواب دیا کہ چھٹیوں کے بعد لاہور ہائیکورٹ میں کیس چلا نہیں تھا، جس پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ پی ٹی آئی کو لاہور ہائی کورٹ کیوں پسند نہیں آئی؟ وکیل حامد خان نے جواب دیا کہ پشاورکے علاوہ کہیں بھی سیکیورٹی نہیں مل رہی تھی۔
چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ سیکیورٹی کیلئے عدالت سے رجوع کیا جا سکتا تھا، من پسند عدالتوں سے رجوع کرنے سے سسٹم خراب ہوتا ہے، وکیل پی ٹی آئی نے جواب دیا کہ یول پلیئنگ فیلڈ کا مقدمہ عدالت میں زیر التواء ہے، ہر طرف گرفتاریوں کی وجہ سے پشاور میں سیکیورٹی ملنے پر وہاں انتخابات کرائے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ انٹرا پارٹی انتخابات کا ایک کیس لاہوردوسرا پشاور میں کیسے چل سکتا ہے؟ کیا پشاور ہائی کورٹ میں دائرہ اختیار کا نکتہ اٹھایا تھا؟ وکیل الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ پشاور ہائی کورٹ میں دائرہ اختیار سمیت دو ہائی کورٹس والا نکتہ بھی اٹھایا تھا۔ عمرایوب کو اختیار نہیں تھا کہ نیازاللہ نیازی کو چیف الیکشن کمشنر تعینات کرتے۔
چیف جسٹس قاضی فائزنے کہا کہ پی ٹی آئی کا پہلے مؤقف تھا کہ جون 2022 والے انتخابات درست تھے، دوبارہ الیکشن پر جو عہدیدار فارغ ہوئے کیا ان کے حقوق متاثر نہیں ہوئے؟ کیا پہلے والے انتخابات بھی بلامقابلہ تھے؟ لگتا ہے پارٹی انتخابات پر پی ٹی آئی اور الیکشن کمیشن کا پرانا جھگڑا چل رہا ہے۔
مخدوم علی خان نے کہا کہ سال 2021 میں انتخابات کا نوٹس جاری کیا تو جواب آیا کہ کرونا کی وجہ سے نہیں کرا سکتے۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ جب پی ٹی آئی حکومت میں تھی تو الیکشن کمیشن نے ریلیف دیدیا تھا۔
’’پی ٹی آئی کیساتھ رویہ اب سخت ہوگیا ہے یا پہلے سے تھا؟‘‘
وکیل مخدوم علی خان نے جواب دیا کہ پی ٹی آئی کو حکومت میں ہوتے ہوئے بھی شوکاز دیا تھا جس پرچیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آپ کہنا چاہ رہے ہیں نگران حکومت کے دباؤ میں کام نہیں کررہے۔ دیکھنا چاہتے ہیں کہ الیکشن کمیشن کا پی ٹی آئی کیساتھ رویہ اب سخت ہوگیا ہے یا پہلے سے تھا۔ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو وقت مانگنے پر ایک سال دیا پھر کہا انتخابات ٹھیک نہیں ہوئے، پہلے پی ٹی آئی سرکاری پارٹی تھی اب شاید نہیں ہے۔
وکیل الیکشن کمشن نے کہا کہ پی ٹی آئی آئین کے مطابق چیف الیکشن کمشنر کا انتخاب ہونا ضروری ہے، وکیل الیکشن کمشنر
نیاز اللہ نیازی کا تقرر کسی بھی انتخاب کے بغیر ہوا۔ بیرسٹرگوہرنے بطورچیف الیکشن کمشنراستعفی دیا جس پرنیاز اللہ نیازی کا تقرر ہوا، عمرایوب کے سیکریٹری جنرل ہونے کا بھی الیکشن کمیشن کو آگاہ نہیں کیا گیا۔
جسٹس محمدعلی مظہرنے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن کو سیکریٹری جنرل کی تبدیلی سے آگاہ کرنا ضروری ہے؟ مخدوم علی خان نے جواب دیا کہ الیکشن ایکٹ کے تحت آگاہ کرنا ضروری ہے۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کیا باقی جماعتوں کیساتھ بھی ایسا سلوک ہی کیا جا رہا ہے؟ پی ٹی آئی کےساتھ امتیازی سلوک تو نہیں ہو رہا؟ وکیل الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ تمام سیاسی جماعتوں کیساتھ یکساں رویہ ہے۔
عدالت نے کہا کہ الیکشن لڑنے کا بنیادی حق ہر شہری اور جماعت کا ہے، الیکشن لڑنے کا بنیادی حق چھین لیں تو آمریت قومی اور نجی سطح پر بھی آ جائے گی۔
جسٹس محمدعلی مظہرنے کہا کہ کیا دیگر جماعتوں کے آئین کو بھی اتنی باریکی سے دیکھا جاتا ہے؟ کیا باقی جماعتوں میں بھی بلامقابلہ انتخاب ہوتا ہے یا صرف پی ٹی آئی میں ہوا ہے؟ ڈی جی لاالیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ ریکارڈ دیکھ کر جواب دینگے، آج پارٹی انتخابات نہ کرانے پر 13 سیاسی جماعتوں کو ڈی لسٹ کیا ہے۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ یہ بات بہت وزن رکھتی ہے کہ حکومت میں ہوتے ہوئے بھی پی ٹی آئی کو نوٹس کیا گیا تھا، مخدوم علی خان نے جواب دیا کہ الیکشن کمیشن کے مطابق پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل آج بھی اسد عمر ہی ہیں۔
چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ سیکرٹری جنرل اگر الیکشن کمشنر کی نامزدگی کریں تو بھی ون مین شو نہیں ہوسکتا، کیا پشاور ہائی کورٹ نے پارٹی انتخابات پر کوئی رائے دی ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ مختصر فیصلے میں پارٹی انتخابات کا ذکر نہیں، جس پرعدالت نے کہا کہ بلے کا نشان تو پارٹی انتخابات درست ہونے کی صورت میں ہی مل سکتا، پشاور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا حکم دیا ہے۔
وکیل الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا حکم دینے کا مطلب ہے الیکشن کمیشن جائزہ نہیں لے سکتا۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ جمہوریت ملک اور سیاسی جماعت دونوں میں ہونی چاہیے، پشاورہائی کورٹ پارٹی انتخابات درست ہونے کا ڈیکلریشن تو دیا ہی نہیں۔ مخدوم علی خان نے جواب دیا کہ پی ٹی آئی کی پٹیشن میں بھی انٹرا پارٹی انتخابات درست قرار دینے کی استدعا نہیں تھی، استدعا انتخابات سرٹیفکیٹ جاری کرنے اور انتخابی نشان کی کی گئی تھی۔
عدالت نے کہا کہ اگر صرف پارٹی انتخابات درست قرار پاتے تو باقی کسی استدعا کی ضرورت نہیں تھی، لاہور ہائی کورٹ نے کہا تھا الیکشن ایکٹ کی دفعات کالعدم قراردیے بغیر الیکشن کمیشن کا دائرہ اختیار ختم نہیں ہوسکتا، کیا پی ٹی آئی کی ہائیکورٹ میں استدعائیں آئین کیخلاف نہیں تھیں؟ وکیل الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ میری نظر میں استدعا آئین کیخلاف تھیں۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ دھرنا کیس میں الیکشن کمیشن نے قانون کو کاسمیٹک کہا تھا، وکیل مخدوم علی خان نے جواب دیا کہ قانون پرعمل کرنے یا نہ کرنے کا آپشن نہیں ہوتا۔
عدالت نے پوچھا کہ پی ٹی آئی فنڈنگ کیس کا کیا بنا؟ حکام الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ پی ٹی آئی کو ممنوعہ فنڈنگ پر شوکاز کیا تھا، شوکاز نوٹس کے بعد کی کارروائی ابھی تک زیر التوا ہے۔
چیف جسٹس نے سوال کیا کہ ممنوعہ فنڈنگ کیس کب سے چل رہا ہے؟ حکام الیکشن کمیشن نے بتایا کہ سال 2014 سے فنڈنگ کیس چل رہا ہے، جس پرعدالت نے کہا کہ نو سال سے ممنوعہ فنڈنگ کیس ہی نہیں ہوسکا۔ حکام الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ ممنوعہ فنڈنگ کے حوالے سے قانونی چارہ جوئی چلتی رہی ہے۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ سپریم کورٹ نے 2018 میں الیکشن کمیشن کو کارروائی کا حکم دیا تھا۔ مخدوم علی خان نے کہا کہ پشاورہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کے اختیارات پر مبنی قانون غیرمؤثر کر دیا ہے۔
’’انٹراپارٹی انتخابات درست نہ ہوئے تو پی ٹی آئی کو نتائج کا سامنا کرنا ہوگا‘‘
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ انٹراپارٹی انتخابات درست نہ ہوئے تو پی ٹی آئی کو نتائج کا سامنا کرنا ہوگا، لاہوہائیکورٹ میں پانچ رکنی بنچ میں آج سماعت تھی علی ظفر نے التواء مانگا، پی ٹی آئی کو بتانا ہوگا کہ پشاور ہائیکورٹ کا ہی انتخاب کیوں کیا؟
وکیل الیکشن کمیشن نے دلائل دیے کہ پشاور ہائی کورٹ نے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری نہیں کیا تھا، مقدمہ میں وفاقی حکومت کو فریق ہی نہیں بنایا گیا تھا۔
عدالت نے کہا کہ الیکشن کمیشن تو ہائی کورٹ میں فریق تھا، یہ نکتہ مان لیا تو سپریم کورٹ کو بھی پانچ رکنی بنچ بنانا پڑے گا، وکیل نے جواب دیا کہ بعض فریقین کو تو نوٹس موصول بھی نہیں ہوئے تھے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ یہ تو بہت تکنیکی نوعیت کی بات ہے۔ مخدوم علی خان نے دلائل مکمل کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کی اپیل پراعتراضات بے بنیاد ہیں، الیکشن کمیشن فریق تھا کیسے ہو سکتا ہے اسے اپیل کا حق نہ ہو۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ سماعت کل صبح دس بجے ہوگی۔ آج آپ بھی تھکے ہوئے ہیں اور ہم بھی، جانے سے پہلے اکبر ایس بابر کے وکیل کو سن لیتے ہیں۔
وکیل اکبر ایس بابرنے دلائل دیے کہ پشاور ہائی کورٹ میں نوٹس کیا گیا نہ مؤقف سنا گیا جس پرچیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ میڈیا سے معلوم ہوا تھا تو پہنچ جاتے، حامد خان بھی آج خود پیش ہوئے ہی۔
وکیل احمد حسب نے جواب دیا کہ اکبر ایس بابر پی ٹی آئی کے ممبر ہیں، کاغذات نامزدگی لینے مرکزی سیکرٹریٹ گئے لیکن کچھ نہیں دیا گیا۔
چیف جسٹس پاکستان نے وکیل پی ٹی آئی سے پوچھا کہ حامد خان صاحب آپ آج دلائل دینا چاہیں گے یا کل؟ کیس جب تک ختم نہیں ہوگا تب تک سماعت چلے گی، ہم ملک میں عام انتخابات کا انعقاد چاہتے ہیں۔ وکیل حامد خان نے جواب دیا کہ کل ساڑھے نو بجے دلائل شروع کروں گا۔ جس پرچیف جسٹس قاضی فائزنے کہا کہ چلیں ہم سماعت کل دس بجے شروع کر لینگے۔
احمد حسن ایڈووکیٹ نے دلائل دیے کہ الیکشن سے پہلے پی ٹی آئی نے پریس ریلیز جاری کی تھی، ہر شہری کا حق ہے وہ کوئی بھی سیاسی جماعت جوائن کر سکتا ہے، اکبر ایس بابر پی ٹی آئی کے بانی رکن ہیں کبھی مستعفی ہوئے نہ کوئی اور جماعت جوائن کی، پشاور ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی نے کہا اکبر بابر پارٹی رکن نہیں ہیں۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ پی ٹی آئی کسی کو زبردستی تو الیکشن نہیں لڑوا سکتی، کیا صرف اس بنیاد پر انتخابات کالعدم قرار دے دیں، پی ٹی آئی کو انتخابی نشان نہ ملا تو کیا اکبر بابر کو نقصان نہیں ہوگا؟
وکیل احمد حسن نے کہا کہ اکبر بابر کا جرم قانون پرعملدرآمد کیلئے آواز اٹھانا ہے، جس پرعدالت نے کہا کہ قانون کہتا ہے پارٹی الیکشن کراؤ نشان تو بعد کی بات ہے، اکبر بابر اتنے عرصے سے پی ٹی آئی کو تنگ کیوں کررہے ہیں؟ وکیل احمد حسن نے جواب دیا کہ پی ٹی آئی شاید اکبر بابر کو تنگ کر رہی ہے، ممنوعہ فنڈنگ پر پارٹی سے اختلاف ہوا تھا۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اکبر ایس بابر خود پی ٹی آئی کےخلاف کھڑے ہیں یا انکے پیچھے کوئی کھڑا ہے؟
سپریم کورٹ نے کیس کی مزید سماعت کل صبح دس بجے تک ملتوی کردی۔
’’ہمارا ویک اینڈ برباد کرنے کا شکریہ‘‘
سپریم کورٹ نے حکم نامے میں کہا کہ پشاورہائی کورٹ کے حکم کے خلاف الیکشن کمیشن نے اپیل دائر کی، آگاہ کیا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کا تفصیلی فیصلہ ابھی نہیں آیا، آگاہ کیا گیا کہ عام انتخابات کی وجہ سے معاملہ فوری سماعت کا ہے۔
عدالتِ عظمٰی نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو بھی کل حاضر ہونے کی ہدایت کر دی، چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہوسکتا ہے آپ سے کل کچھ پوچھنا پڑجائے۔ ہمارا ویک اینڈ برباد کرنے کا شکریہ۔




















