Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

تحریک انصاف انتخابی میدان سے باہر

پاکستان تحریک انصاف انتخابی میدان سے باہر ہو گئی۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے انٹرا پارٹی انتخابات اور بلے کے انتخابی نشان کے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے پی ٹی آئی سے بلا واپس لینے فیصلہ سنا دیا۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق پی ٹی آئی کے 8 جون کے انتخابات الیکشن کمیشن نے کالعدم قراردیے تھے، پی ٹی آئی کو دوبارہ پارٹی الیکشن کا حکم دیا گیا، پی ٹی آئی نے فیصلہ لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا، لاہور ہائیکورٹ میں درخواستیں زیر التوا ہوتے ہوئے دوبارہ الیکشن کرائے گئے، دوبارہ پارٹی انتخابات شکایات ملنے پر انتخابی نشان واپس لیا گیا۔

فیصلے کے مطابق الیکشن کمیشن نے قرار دیا تھا کہ انتخابات پارٹی آئین کے مطابق نہیں، الیکشن کمیشن کا فیصلہ پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا اور یہ فیصلہ پشاور ہائیکورٹ نے کالعدم قرار دیدیا، پشاور ہائیکورٹ میں درخواست ناقابل سماعت تھی، پی ٹی آئی کے انتخابات نہ پارٹی آئین اور نہ الیکشن ایکٹ کے تحت ہوۓ، الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کیساتھ جانبداری کا مظاہرہ نہیں کیا۔

ہفتےکے روز کی سماعت کا احوال

چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات اور بلے کے انتخابی نشان کے معاملے سے متعلق پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف الیکشن کمیشن کی اپیل پر سماعت کی۔

الیکشن کمیشن کی اپیل پر سماعت کے دوسرے روز جسٹس محمد علی مظہر نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ کیا عدالتی دائرہ اختیار تھا یا نہیں، کیا الیکشن کمیشن کے پاس انٹرا پارٹی الیکشن کی چھان بین کا اختیار ہے یا نہیں۔

الیکشن کمیشن نے بلے کا نشان چھین کر بظاہر بدنیتی کی ہے، بیرسٹرعلی ظفرکے دلائل

بیرسٹرعلی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آج پارٹی ٹکٹ جمع کرانے کا آخری دن ہے، وقت کی قلت ہے اس لئے جلدی دلائل مکمل کرنے کی کوشش کروں گا۔ چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ ہمارے پاس بھی وقت کم ہے کیونکہ فیصلہ بھی لکھنا ہے۔

علی ظفرنے دلائل دیے کہ آئین اور قانون الیکشن کمشن کو انٹراپارٹی انتخابات کی اسکروٹنی کا اختیار نہیں دیتا، الیکشن کمیشن پارٹی انتخابات بے ضابطگی کے الزام پرانتخابی نشان واپس نہیں لے سکتا، سپریم کورٹ نے کئی فیصلوں میں آئین کے آرٹیکل 17 کی تشریح کی ہے، ایک نشان پر انتخاب لڑنا ہر سیاسی جماعت کا حق ہے۔

وکیل پی ٹی آئی نے دلائل دیے کہ انتخابی نشان سے محروم کرنا سیاسی جماعت اورعوام کے بنیادی حق کی نفی کرنا ہے، الیکشن کمشین عدالت نہیں ہے، الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کیساتھ جانبدارانہ اور بدنیتی پر مبنی سلوک کیا، بنیادی سوال سیاسی جماعت اوراس کے ارکان ہے اس لیے شفاف ٹرائل کے بغیر کوئی فیصلہ ممکن نہیں۔

بیرسٹرعلی ظفرنے کہا کہ الیکشن کمیشن عدالت نہیں جو شفاف ٹرائل کا حق دے سکے، الیکشن کمیشن میں کوئی ٹرائل ہوا ہی نہیں، پی ٹی آئی کے کسی رکن نے انٹرپارٹی انتخابات چیلنج نہیں کیے، انٹراپارٹی انتخابات صرف سول کورٹ میں ہی چیلنج ہوسکتے تھے۔  الیکشن کمیشن کے پاس سوموٹو اختیار نہیں کہ خود فیصلہ بھی کرے اور اپیلیں بھی۔

وکیل پی ٹی آئی نے دلائل دیے کہ انٹرا پارٹی انتخابات جماعت کے آئین کے مطابق کرائے گئے ہیں، پی ٹی آئی نے پہلے 2022 میں انٹرا پارٹی انتخابات کرائے جو الیکشن کمیشن نے تسلیم نہیں کیے، الیکشن کمیشن نے 20 دن میں انتخابات کرانے کا حکم دیا، خدشہ تھا پی ٹی آئی کو انتخابات سے باہرنہ کر دیا جائے اس لئے عملدرآمد کیا، سپریم کورٹ اسی دوران آٹھ فروری کو انتخابات کا حکم دے چکی تھی، دو دسمبرکو پی ٹی آئی نے دوبارہ انٹرا پارٹی انتخابات کرائے۔

بیرسٹرعلی ظفرنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمشین میں پارٹی انتخابات کیخلاف 14 درخواستیں دائر ہوئیں، ہمارا بنیادی موقف تھا کہ درخواست گزار پارٹی ممبر نہیں ہیں، الیکشن کمیشن نے اپنے 32 سوالات بھیجے جن کا تحریری جواب دیا، جواب ملنے کے بعد الیکشن کمیشن نے پارٹی انتخابات کالعدم قرار دیکر انتخابی نشان واپس لے لیا، الیکشن کمشین کے حکم نامہ میں تسلیم شدہ ہے کہ انٹرا پارٹی انتخابات ہوئے تھے، الیکشن کمیشن نے فیصلے میں کسی بے ضابطگی کا ذکر نہیں کیا۔

علی ظفرنے کہا کہ الیکشن کمیشن نے فیصلے کی جو وجوہات دی ہیں وہ عجیب ہیں، الیکشن کمیشن نے انتخابات کو درست کہا چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی غلط قرار دی، الیکشن کمیشن نے کہا تعیناتی درست نہیں اس لئے انتخابات تسلیم کرینگے نہ ہی نشان دینگے،  کل مخدوم علی خان نے تکنیکی نوعیت کے اعتراضات کیے تھے، مخدوم علی خان کا نکتہ پارٹی کے اندر جمہوریت کا تھا۔

الیکشن کمیشن کی بدنیتی ثابت کرنا ہو گی، چیف جسٹس کے ریمارکس

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ جمہوریت ملک کیساتھ سیاسی جماعتوں کے اندر بھی ہونی چاہیے، بنیادی سوال جمہوریت کا ہے پارٹی آئین پر مکمل عملدرآمد کا نہیں، کم از کم اتنا تو نظر آئے کہ انتخابات ہوئے ہیں، اکبر بابر بانی رکن تھے وہ پسند نہیں تو الگ بات لیکن ان کی رکنیت تو تھی، صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ درخواست گزارپارٹی رکن نہیں تھے، اکبربابرنے اگر استعفی دیا یا دوسری پارٹی میں گئے تو وہ بھی دکھا دیں، الیکشن کمیشن کی بدنیتی ثابت کرنا ہوگی۔ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو اس وقت نوٹس کیا جب وہ حکومت میں تھی، الیکشن ایکٹ کی آئینی حیثیت پر تبصرہ نہیں کرینگے کیونکہ کسی نے چیلنج نہیں کیا۔

وکیل پی ٹی آئی نے دلائل دیے کہ الیکشن ایکٹ کو ہم بھی چیلنج نہیں کررہے۔

جسٹس محمدعلی مظہرنے کہا کہ کیا پی ٹی آئی نے اپنا جاری کردہ شیڈیول فالو کیا تھا؟ کیا انتخابات شفاف تھے، کچھ واضح تھا کہ کون الیکشن لڑسکتا ہے کون نہیں؟ آپ لیول پلیئنگ فیلڈ مانگتے ہیں اپنے ارکان کو بھی تو لیول پلیئنگ فیلڈ دینی ہوگی، الیکشن کمیشن نے ازخود تو کارروائی نہیں کی شکایات ملنے پر کارروائی کی۔

علی ظفر نے جواب دیا کہ الیکشن کمیشن نے ایسی کسی بے ضابطگی کی نشاندہی نہیں کی، تمام سوالات کے جواب دستاویزات کے ساتھ دوں گا جس پرچیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ انتخابی نشان کیا ہوتا ہے اچھے سے معلوم ہے۔

وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ پیپلزپارٹی سے ماضی میں تلوارکا نشان لیا گیا، پھر پی پی پارلیمنٹیرین بنی، اس پرعدالت نے کہا کہ مسلم لیگ نے ابھی ایسا ہی وقت دیکھا لیکن اس وقت حکومت میں کون تھا یہ بھی دیکھنا ہے، آج پی ٹی آئی کے مخالفین حکومت میں نہیں ہیں، اسٹبلشمنٹ کا لفظ استعمال کرتے ہیں اصل نام فوج ہے۔ اگر انٹراپارٹی انتخابات درست ثابت ہوئے تو انتخابی نشان کا مسئلہ ہی حل ہوجائے گا، کچھ تو دکھانا ہوگا تو کتنے لوگوں نے الیکشن لڑا اور کتنے لوگوں کو موقع دیا گیا۔

’’اسٹیبلشمنٹ کیوں الیکشن کمیشن پر دباؤ ڈالے گی؟‘‘

چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ آپ کہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کا الیکشن کمیشن پر دباؤ ہے تو اس کو بھی ثابت کریں، اسٹیبلشمنٹ کیوں الیکشن کمیشن پر دباؤ ڈالے گی؟ عدالت آئینی اداروں کو کنٹرول تو نہیں کرسکتی، آپ جب بدنیتی کا الزام لگاتے ہیں تو بتائیں کہ بدنیتی کہاں ہے۔

جسٹس محمدعلی مظہرنے کہا کہ الیکشن کمیشن نے جن بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی ہے وہ پی ٹی آئی آئین سے ہی کی ہیں، الیکشن کمیشن نے انتخابی شیڈیول اور مقام پر کسی بے ضابطگی کی نشاندہی نہیں کی۔

’’پی ٹی آئی کو اپنے ساڑھے آٹھ لاکھ ممبران پراعتماد کیوں نہیں ہے؟‘‘

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ بنیادی بات یہ ہے کہ پارٹی میں الیکشن ہوا ہے یا نہیں، اکبر بابر کو الیکشن لڑنے دیتے سپورٹ نہ ہوتی تو ہار جاتے، پی ٹی آئی کے بانی جیل میں ٹرائل کا سامنا کررہے ہیں، کل وہ باہرآ کر کہہ دیں کہ یہ عہدیدار کون ہیں تو کیا ہوگا؟ پی ٹی آئی کو اپنے ساڑھے آٹھ لاکھ ممبران پراعتماد کیوں نہیں ہے؟

وکیل پی ٹی آئی نے دلائل دیے کہ الیکشن کمیشن نے جو جن ضابطگیوں کی بنیاد پر نشان واپس لیا اس کی نشاندہی کر رہا ہوں۔

جسٹس محمد علی مظہرنے کہا کہ بنیاد نکتہ الیکشن کمیشن کا اختیار ہے اگر وہ ہی نہ ہوا تو باقی چیزیں خود ختم ہو جائیں گی جبکہ چیف جسٹس نے کہا کہ اگرانتخابات باقاعدہ طریقے کار سے کرائے ہیں تو انتخابی نشان ہر صورت ملنا چاہیے، انتخابات کی پیچیدگیوں میں نا جائیں، بس اتنا بتا دیں کہ کیا پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات میں تمام پارٹی اراکین کو یکساں موقع ملا یا نہیں، الیکشن کمیشن کو ایک کاغذ کا ٹکرا دکھا کر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ لو انتخابات کرا دیے، یہ دیکھنا ہے کہ انٹرا پارٹی الیکشن مروجہ طریقہ کار سے ہوئے یا نہیں۔

چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ اصل معاملہ انتخابی نشان کا نہیں پارٹی انتخابات کا ہے، پی ٹی آئی حکومت میں تھی تو الیکشن کمیشن نے پارٹی انتخابات کرانے کا کہا، پی ٹی آئی نے وقت مانگا یہ نہیں کہا کہ الیکشن کمیشن کا اختیار نہیں ہے، ماضی کو بھی دیکھنا ہوگا کہ کیسے سیاسی جماعتوں کو نقصان پہنچایا گیا، ماضی قریب کا جائزہ لے لیتے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آج پی سی او ججز نہیں نہ ہی الیکشن ایکٹ چیلنج کیا گیا ہے، تحریک انصاف کا کوئی مخالف آج حکومت میں نہیں جس پروکیل پی ٹی آئی نے جواب دیا کہ بالکل آج کوئی پی ٹی آئی مخالف اقتدارمیں نہیں۔

’’پی ٹی آئی اسٹیبلشمنٹ پرالزام لگاتی ہے، ثبوت نہیں دیتی‘‘

چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ اب صرف پی ٹی آئی اسٹیبلشمنٹ پرالزام لگاتی ہے، ثبوت نہیں دیتی، پی ٹی آئی اگر صرف الزام تراشی اورسیاسی ڈراما کرنا چاہتی ہے تو ادارے کمزور ہونگے، ہمیں اپنے تمام اداروں کی ضرورت ہے جنکو مضبوط کرنا ہوگا، اگر پی ٹی آئی اسٹیبلشمنٹ اورالیکشن کمیشن پر الزام لگاتی ہے تو ان کی حکومت میں کون تھا،

چیف جسٹس قاضی فائزعیسی نے کہا کہ کیا پی ٹی آئی نے خود چیف الیکشن کمشنر کا تقرر نہیں کیا، صرف سوشل میڈیا پر الزام تراشی سے ہمارے تمام اداروں کا نقصان ہوتا ہے، پی ٹی آئی اپنی حکومت والی اسٹیبلشمنٹ کا ذکر نہیں کرتی۔ اس وقت سب ٹھیک تھا اب پی ٹی آئی کہتی سب ادارے انکے خلاف ہوگئے، پارلیمنٹ پر الزام لگانا آسان ہے۔

وکیل علی ظفرنے کہا کہ الیکشن ایکٹ کے مطابق ہرسیاسی جماعت نے پارٹی انتخابات کے 7 دن میں سرٹیفکیٹ دینا ہے، جس پر جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ سرٹیفکیٹ پارٹی آئین کے مطابق انتخابات سے مشروط ہے۔

وکیل پی ٹی آئی نے دلائل دیے کہ الیکشن کمیشن کو انٹراپارٹی انتخابات کی اسکروٹنی کا اختیار نہیں ہے جس پر جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اصل مسئلہ ہی دائرہ اختیار کا بنا ہوا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا ایک ہی دکھڑا ہے کہ پارٹی انتخابات کرا لو، بیرسٹرعلی ظفرنے جواب دیا کہ پارٹی الیکشن کرائے لیکن وہ الیکشن کمیشن نے مانے نہیں۔ اس پرعدالت نے کہا کہ چودہ درخواست گزاروں کو الیکشن کیوں نہیں لڑنے دیا؟

بیرسٹرعلی ظفر نے جواب دیا کہ کسی کو اعتراض ہے تو سول کورٹ چلا جائے، یا تو کہہ دیں کہ جمہوریت گھرمیں نہیں چاہیے لیکن باہر چاہیے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہم جمہوریت کیساتھ کھڑے ہیں چاہے وہ گھر کے اندر ہو یا باہر ہو۔ وکیل نے دلائل دیے کہ کوئی پٹواری انٹراپارٹی انتخابات کا فیصلہ نہیں کرسکتا کیونکہ اسے اختیار نہیں ہے۔ جب انٹرا پارٹی الیکشن میں سب بلامقابلہ بھی ہو جائیں تب بھی اعتراض نہیں اٹھایا جا سکتا۔

’’ لولی لنگڑی جمہوریت نہیں پوری جمہوریت ہونی چاہیے‘‘

چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ بڑے بڑے عہدوں پرسب جانتے ہیں سیاسی جماعتوں پر کون عہدیدار ہیں، چھوٹے عہدوں پر تو لوگوں کو موقع ملنا چاہیے۔ جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ جب انٹرا پارٹی الیکشن ہی بلامقابلہ ہوا تو لوگ کیوں جمع ہوئے؟

وکیل پی ٹی آئی نے جواب دیا کہ جب بانی نے ایک پینل دے دیا تو احترام میں کوئی مقابلے میں نہیں آیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر آپ آٹھ  فروری 326 اراکین کو بلامقابلہ جتوا کرلے آئیں ایسے الیکشن کو میں نہیں مانتا، لولی لنگڑی جمہوریت نہیں پوری جمہوریت ہونی چاہیے، بس بہت ہو گیا، عقل و دانش بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ آپ کی درخواست پر بارہ دنوں میں انتخابات کی تاریخ دی گئی، آپ کی جماعت خوش تھی سب خوش تھے،  آج پاکستان میں عدالتوں تک رسائی حاصل ہے، ایسی بات نہیں ہے کہ کوئی درخواست دائر نہیں کرسکتا، جب آپ حکومت میں تھے ہمیں وہاں بھی جانا ہوگا، جب آپ کو الیکشن کمیشن نے پہلا نوٹس جاری کیا، میڈیا میں آ کرالزامات لگا دینے سے آئینی ادارے کمزور ہوتے ہیں۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ الزامات نہ لگائیں اگر وہ سچے ہیں، جب آپ حکومت میں تھے الیکشن کمیشن نے آپ کو نوٹس کیا تھا، ہمیں دیکھنا ہوگا اس وقت کیا بدنیتی کی گئی؟ ہمیں اس بات کا اندازہ لگانے کیلئے پوری ٹائم لائن دیکھنا ہوگی، اچانک سے یہ الزام لگا دینا اسٹیبلشمنٹ الیکشن کمیشن پراثرانداز ہو کر کچھ کر رہی ہے، ہم اس بات کو یقینی طور پر سنیں گے، مگر سوال یہ اٹھتا ہے انہیں اس وقت یہ سب کیسے معلوم تھا؟ اس اسٹیبلشمنٹ پر اس وقت آپ کا یہ الزام نہیں ہو گا کہ یہ الیکشن کمیشن کے ساتھ ملے ہوئے ہیں، اگرآپ اسے ڈرامائی اور سیاسی رنگ دینا چاہتے ہیں تو پورا متن بیان کریں، یا اپنے کیس کو قانون تک محدود رکھیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ الیکشن لڑنے کیلئے پچاس ہزار روپے جمع ہوئے، وہ فیس کدھر ہے؟ بانی پی ٹی آئی نے گوہر کو نامزد کیا یہ دستاویز کدھر ہے؟ علی ظفر نے جواب دیا کہ اخبار میں آیا تھا۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نیوزکی خبر کیسے مان لیں، ہم کیسے مان لیں بانی پی ٹی آئی گوہر کو نامزد کیا، آپ کو یا حامد خان کو کیوں نامزد نہیں کیا گیا، ہمارے پاس تو اس بارے میں کوئی دستاویزہی نہیں ہے۔

چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ کسی سیاسی جماعت کا سرٹیفیکیٹ یہ عکاسی کرتا ہے الیکشن ہوئے، آپ کی پارٹی انٹرا پارٹی الیکشن سے کیوں گھبرا رہی ہے، الیکشن کمیشن تو اس وقت سے کہہ رہی ہے انٹرا پارٹی الیکشن کرائیں جب آپکی حکومت تھی، الیکشن ایکٹ آج نہیں بنا، آپ ہمیں ایک دستاویز تک نہیں دکھا پا رہے، اگر چھ تک کیس چلانا ہے تو پھر فیصلہ معطل کرنا پڑے گا۔

چیف جسٹس پاکستان نے سوال کیا کہ آپ کو دلائل کیلئے کتنا وقت درکار ہوگا؟ وکیل پی ٹی آئی نے جواب دیا کہ
کوشش کروں گا ایک گھنٹے میں دلائل مکمل کر لوں، کاغذات نامزدگی جمع ہونا پہلا اور انتخابات کا مقام دوسرا مرحلہ تھا۔

بیرسٹرعلی ظفرنے دلائل دیے کہ پی ٹی آئی چاہتی تھی کہ پولنگ اسلام آباد میں ہو، شادی ہال سمیت کوئی بھی اپنی جگہ دینے کیلئے تیار نہیں تھا، جس پر جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ جہاں الیکشن ہوا کیا وہاں آپ کا دفتر ہے؟ وکیل نے جواب دیا کہ جس گرائونڈ میں الیکشن ہوا وہ ہمارے دفتر کےساتھ ہے، الیکشن کمیشن نے آئی جی پولیس کو پشاور میں سیکیورٹی فراہمی کیلئے خط لکھا۔

جسٹس محمد علی مظہرنے کہا کہ الیکشن کمیشن نے پولنگ کا مقام اوردیگر تفصیلات مانگی تھیں کیا وہ بتائی گئیں؟ وکیل پی ٹی آئی نے جواب دیا کہ الیکشن کمیشن کے اس خط کا جواب نہیں دیا لیکن پولیس کو آگاہ کر دیا تھا، میڈیا کے ذریعے پولنگ کے مقام سے بھی آگاہی فراہمی کر دی تھی، جو پینل سامنے آئے ان کی تفصیلات بھی ریکارڈ کا حصہ ہیں، اکبر ایس بابر جب آئے تو وقت ختم ہوچکا تھا، اکبر بابر نے آج تک اپنا پینل ہی نہیں دیا کہ وہ کہاں سےالیکشن لڑنا چاہتے تھے، اکبر بابر الیکشن لڑنا چاہتے تو ہمیں اعتراض نہ ہوتا۔

چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ پارٹی آئین میں کہاں لکھا ہے الیکشن اکیلا شخص نہیں لڑسکتا؟ تحریکِ انصاف کے وکیل نے جواب دیا کہ پارٹی آئین میں پینل انتخابات کا ذکر ہے۔

عدالت نے پوچھا کہ پارٹی آئین کے مطابق چیئرمین کا انتخاب ہو ہی ووٹ کیسے سکتا ہے، علی ظفرنے جواب دیا کہ کوئی مدمقابل نہ ہو تو انتخاب بلامقابلہ تصورہوگا، اس پرچیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ پارٹی آئین میں کہیں بلامقابلہ انتخاب کا نہیں لکھا۔

وکیل پی ٹی آئی نے دلائل دیے کہ ووٹنگ ہوتی ہی تب ہے جب ایک سے زیادہ امیدوار ہوں، عدالت نے کہا کہ اگر چیئرمین کے واحد امیدوار کو ہی لوگ پسند نہ کرتے ہوں تو کیا ہوگا۔ اس طرح تو آپ آمریت کی جانب جا رہے ہیں، اگر ایک ووٹ بھی نہ ڈلے تو سینٹر بھی منتخب نہیں ہوسکتا۔

علی ظفر نے جواب دیا کہ میں بلامقابلہ سینیٹر منتخب ہوا تھا۔ اس پرچیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ چیئرمین، سیکرٹری جنرل سمیت سب لوگ ایسے ہی آگئے یہ تو سلیکشن ہوگئی، پی ٹی آئی نے الیکشن کیوں نہیں کرایا آخر مسئلہ کیا تھا۔

مسلم لیگ ن کے بلامقابلہ انتخابات کا نوٹیفکیشن عدالت میں پیش

علی ظفر نے مسلم لیگ ن کے بلامقابلہ انتخابات کا نوٹیفکیشن پیش کرتے ہوئے کہا کہ ن لیگ میں بھی سب بلامقابلہ انتخابات ہوئے تھے جس پرعدالت نے کہا کہ بلامقابلہ انتخابات پارٹیوں میں ہوتے رہتے ہیں، اس پر تبصرہ نہیں کرینگے۔

وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ اے این پی کے ضلعی صدوربھی بلامقابلہ منتخب ہوئے تھے، اے این پی کو آج جرمانہ کرکے پارٹی انتخابات جنرل الیکشن کے بعد کرانے کا کہا گیا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ معاملہ فنڈنگ کا بھی 2014 سے پڑا ہے جو آپ چلنے نہیں دیتے، ملک چلانے والے کون ہوتے ہیں عوام کو پتا ہونا چاہیے۔ کل بیرسٹر گوہر وزیراعظم بن گئے تو کیا انہیں پارٹی کے لوگ جانتے ہونگے؟ علی ظفر نے جواب دیا کہ آپ اختلافی نکتہ نظر بھی سنتے ہیں جو اچھی بات ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ ہمیشہ پروفیشل اندازمیں دلائل دیتے ہیں، بغیر انتخاب بڑے لوگ آ جائیں تو بڑے فیصلے بھی کرینگے، آئی ایم ایف سے معاہدہ بھی ہوسکتا ہے کرنا پڑے، لوگ اپنے منتخب افراد کو جانتے تو ہوں، پی ٹی آئی انتخابات میں کسی نے ووٹ نہیں ڈالا۔ وکیل نے جواب دیا کہ مدمقابل کوئی نہیں تھا اس لئے ووٹنگ نہیں ہوئی تھی۔

’’چیئرمین بننے کا حق حامد خان کا زیادہ ہے یا بیرسٹر گوہر کا؟‘‘

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کرونا کے دوران بھی انتخابات ہوسکتے تھے، اگرکوئی پینل نہ سامنے آتا تو ایسے ہی بلامقابلہ الیکشن ہوجاتے، وکیل پی ٹی آئی نے جواب دیا کہ ماضی کو واپس کیا جا سکتا تو ضرور کر دیتے۔

چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے 2021 میں انتخابی نشان واپس لینے کا خط لکھا تھا، پرانے لوگوں کو ساتھ رکھیں تو انہیں تجربہ ہوتا ہے، اکبر ایس بابر کی دستاویزات کے مطابق پی ٹی آئی کے بارہ بانی ارکان تھے، پی ٹی آئی نے شاید بعد میں آئین بدل لیا، یہ تو ثابت ہوگیا کہ اکبر ایس بابر پی ٹی آئی کے بانی ممبر تھے، اکبر بابر کو پارٹی سے نکالنے کی دستاویزات دکھا دیں، پی ٹی آئی پر کوئی باہر سے تو نہیں حملہ کر رہا نا، چیئرمین بننے کا حق حامد خان کا زیادہ ہے یا بیرسٹر گوہر کا؟

بیرسٹرعلی ظفرنے دلائل دیے کہ الیکشن کمیشن کے پاس پارٹی انتخابات کے جائزے کا کوئی اختیار نہیں ہے، جس پرعدالت نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن کو فنڈنگ کا جائزہ لینے کا بھی اختیار نہیں؟ وکیل نے جواب دیا کہ فنڈنگ کا معاملہ مختلف ہے اس کی اسکروٹنی الیکشن کمیشن کرسکتا ہے جس پرعدالت نے کہا کہ اسکروٹنی کا اختیار الیکشن کمشین کو آئین نہیں قانون میں دیا گیا ہے، اس نکتے پر آپ کیوں نہیں کہتے کہ سول کورٹ کا اختیار ہے۔

علی ظفر نے جواب دیا کہ فنڈنگ کے ذرائع کے حوالے سے الیکشن ایکٹ بالکل واضح ہے۔ انتخابات لڑنے کا حق چھینا نہیں جا سکتا، تاحیات نااہلی کیس میں عدالت نے قرار دیا ہے، تحریک انصاف کو عملی طور پر غیرفعال کر دیا گیا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ لیول پلیئنگ فیلڈ کی بات کرتے ہیں، دوستانہ رویہ کسی کیساتھ رکھیں گے، تحریک عدم اعتماد آ جائے تو اسمبلی تحلیل نہیں ہوسکتی، انتخابات پر سب راضی ہوجاتے تو بھی اُس وقت ممکن نہیں تھے۔

علی ظفر نے کہا کہ عام انتخابات میں بھی کوئی تنازع آئے تو جائزہ ٹربیونل لے سکتا ہے الیکشن کمیشن نہیں۔ عدالت نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو سیاسی جماعت کی رجسٹریشن ختم کرنے کا بھی اختیار ہے، اس پروکیل نے دلائل دیے کہ پارٹی رجسٹریشن ختم کرنے کیلئے الگ شرائط موجود ہیں، انتخابی نشان واپس لینے سے تحریک انصاف عملی طور پر غیر فعال ہوجائے گی، انتخابی نشان کیساتھ ہی مخصوص نشستوں کی فہرست بھی دینی ہوتی ہے، قانون کے مطابق انتخابی نشان کے بغیر مخصوص نشستوں کی فہرست نہیں دی جا سکتی۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ فہرست جمع تو کرائیں اگر قبول نہ ہوئی تو عدالت سے رجوع کیا جا سکتا ہے، علی ظفرنے جواب دیا کہ انتخابی نشان کے بغیر سیاسی جماعت الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتی۔

چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ اس نکتے کو سمجھائیں کہ سیاسی جماعت نشان کے بغیر الیکشن نہیں لڑ سکتی، آپ الیکشن کمشین کو نیا آئیڈیا کیوں دے رہے ہیں؟ وکیل پی ٹی آئی نے جواب دیا کہ الیکشن کمیشن کو اچھے سے علم ہے کہ سیاسی جماعت کو کیسے انتخابات سے باہر رکھنا ہے۔

عدالت نے کہا کہ الیکشن کمیشن کہتا ہے کہ کسی کو الیکشن سے باہر نہیں رکھ سکتے، وکیل نے جواب دیا کہ انفرادی حیثیت میں الیکشن لڑا جا سکتا ہے لیکن پارٹی کی جانب سے بغیر انتخابی نشان نہیں۔

جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ آپ کے چیئرمین کہتے ہیں کوئی بھی نشان مل جائے، اس پروکیل نے جواب دیا کہ کوئی بھی انتخابی نشان دیدیں اس کیلئے بھی تیار ہیں، پارٹی اسی صورت میں الیکشن لڑ سکتی ہے جب انتخابی نشان ہو، پارٹی کے انتخابی نشان کے بغیر امیدوار آزاد حیثیت میں الیکشن لڑ سکتا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ اپنے لئے مسائل کوئی کھڑے کر رہے ہیں، سب کو پتا ہوگا کہ کون کس پارٹی سے الیکشن لڑ رہا ہے، وکیل نے جواب دیا کہ ہر امیدوار کا الگ نشان ہو تو مسئلہ ہوگا، الیکشن کمیشن سے پوچھ لیں وہ بھی مجھ سے اتفاق کرینگے۔

بیرسٹر گوہرنے علی ظفرسے گفتگو میں کہا کہ میرے بیٹوں اور بھتیجوں کو مارا جا رہا ہے، جس پرچیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ  جو بھی ہوا ہے ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا، پارٹی سربراہ کا تصور تو پی ٹی آئی کی وجہ سے ہی ختم ہوا ہے۔ الیکشن کمیشن بار بار کہ رہا تھا الیکشن کرا لو، یہ نہیں ہو سکتا کہ الیکشن نہ ہو اورانتخابی نشان بھی مل جائے۔

علی ظفرنے کہا کہ الیکشن کروایا لیکن وہ مانتے ہی نہیں، اس پرعدالت نے کہا کہ اس وقت معاملہ حالیہ انتخابات کا ہے پرانا نہیں۔ وکیل نے جواب دیا کہ انتخابی نشان پی ٹی آئی کا بنیادی حق ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے ان سے پوچھا کہ گوہر صاحب کیا پوزیشن ہے؟ بیرسٹرگوہر نے جواب دیا کہ حالات بہت سنگین ہیں۔ اس پر چیف جسٹس پاکستان نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ ابھی معاملے کو طے کریں۔

بیرسٹرگوہرنے عدالت کو بتایا کہ چارگڑیوں میں لوگ میرے گھر آئے، کسی پراعتماد نہیں ہے عدالت کو بتانا چاہتا ہوں کہ کیا ہوا۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ سیکرٹری داخلہ اور آئی جی سے بات ہوئی ہے، سیکرٹری داخلہ اورآئی جی معلوم کر رہے ہیں کہ کیا ہوا ہے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے بیرسٹر گوہر کو بات کرنے سے روک دیا اور کہا کہ پہلے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو بتائیں اگر بات نہ سنی جائےتوعدالت کو آگاہ کریں۔ اس پربیرسٹرگوہرنے کہا کہ اب تو حد سے بھی تجاوزہوگیا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم ایس ایچ او تو نہیں ہیں۔

علی ظفر نے دلائل دیے کہ لاہور ہائی کورٹ میں درخواست پارٹی کی جانب سے نہیں دی گئی، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ درخواست گزارپی ٹی آئی کا ضلعی صدر ہے۔

وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق ہائی کورٹ نے لکھا کہ معاملہ پشاور ہائی کورٹ میں زیرالتواء ہے۔ دوبارہ انتخابات کا الیکشن کمیشن کا حکم چیلنج کیا لیکن اس پر عمل بھی کر دیا، لاہورہائی کورٹ میں فل بنچ بنا ہوا تھا اس لئے وہاں سے رجوع کیا تھا۔

چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے پوچھا کہ لاہورمیں معاملہ چل رہا تھا تو پشاورکیوں گئے؟ لاہور ہائی کورٹ میں ابھی تک درخواست زیرالتوا ہے۔ اس پر وکیل نے جواب دیا کہ کل آپ کو غلط معلومات دی گئیں کہ میں نے التوامانگا تھا۔ میں پہنچا توبنچ پہلے ہی تحلیل ہوچکا تھا۔ بنچ لگتا تو درخواست غیرمؤثرہونے پر واپس لے لیتا۔ اگردو ہائی کورٹس بیک وقت کیس سننے کیلئے بااختیار ہوں تو کسی سے بھی رجوع کیا جا سکتا ہے۔ ایک ہائیکورٹ میں مقدمہ زیرالتواء ہو تو دوسری کو فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ایسا نہیں ہونے دینگے کہ ایک جگہ سے سٹے نہ ملے تو دوسری ہائیکورٹ چلے جاؤ، اگر کے پی کا صوبائی الیکشن ٹھیک نہ ہوتا تو پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کرنا بنتا تھا۔

وکیل علی ظفر نے جواب دیا کہ بیرسٹرگوہرالیکشن کمیشن کے حکم سے متاثرہ فریق ہیں، بیرسٹر گوہرکو پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کرنے سے کیسے روکا جا سکتا ہے۔ ہمایوں اختر کیس میں الیکشن کمیشن نے قرار دیا پارٹی انتخابات کیس میں مداخلت نہیں کر سکتے ، جس پر جسٹس محمدعلی مظہرنے کہا کہ جس فیصلے کا حوالہ دے رہے ہیں وہ 2009 کا ہے، کیا اس وقت اوران کے قانون میں فرق نہیں ہے؟ وکیل نے جواب دیا کہ قانون میں کوئی فرق نہیں آیا۔ ق لیگ میں بھی پارٹی انتخابات درست نہ ہونے کا سوال تھا۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو چیمبر میں بلایا۔ وکیل پی ٹی آئی نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اسد عمرکے مستعفی ہونے کے بعد ڈپٹی سیکرٹری جنرل عمرایوب کو سیکرٹری جنرل بنایا گیا، اسد عمر نے پہلے عہدہ بعد میں پارٹی چھوڑی۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اسد عمر نے نو مئی واقعات کی وجہ سے پارٹی چھوڑی، سارے مسئلے آپ کی پارٹی کےساتھ کیوں ہو رہے ہیں؟ جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ انٹرا پارٹی انتخابات میں مسئلہ ہو تو کہاں رجوع کیا جا سکتا ہے؟ وکیل نے جواب دیا کہ الیکشن کمیشن کا اپنا فیصلہ ہے کہ سول کورٹ سے رجوع کیا جائے۔

چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ پشاورہائی کورٹ میں تحریک انصاف نے انتخابات درست قراردینے کی استدعا نہیں کی تھی،  الیکشن درست ہو تو نشان کا مسئلہ خود حل ہو جائے گا۔

وکیل علی ظفر نے جواب دیا کہ الیکشن کمیشن کا حکم کالعدم قرار دینے کی استدعا کی تھی، الیکشن کمیشن کا حکم ہی کالعدم ہوگیا تو سب کچھ ختم۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس انتخابی نشان واپس لینے کے علاوہ کوئی ہتھیار نہیں ہے، آپ سوچ کر جواب دینا چاہیں تو مخدوم علی خان کے بعد دوبارہ سن لینگے۔

متعلقہ خبریں