Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات اورانتخابی نشان کیس کا مختصرتحریری فیصلہ جاری

پشاورہائیکورٹ نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات اورانتخابی نشان کیس میں وجوہات کیساتھ مختصر تحریری فیصلہ جاری کردیا

پشاورہائی کورٹ کا 9 اور10 جنوری کی کارروائی اور وجوہات کیساتھ مختصرتحریری فیصلہ 26 صفحات پر مشتمل ہے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ عدالت نے خود کو دو سوالات تک محدود رکھا، پہلا سوال یہ کہ کیا پشاور ہائیکورٹ میں کیس قابل سماعت ہے؟ دوسرا سوال، کیا الیکشن کمیشن کے پاس انٹرا پارٹی پر فیصلہ کا اختیار ہے؟

مختصرفیصلہ جسٹس ارشد علی نے تحریری کیا جس میں کہا گیا کہ انتخابات خیبرپختونخوا میں ہوئے اور الیکشن کمیشن صوبے میں بھی ہے، سپریم کورٹ فیصلوں کی روشنی میں اسلام آباد ہائیکورٹ کیساتھ ساتھ پشاور ہائیکورٹ کے پاس بھی کیس سننے کا اختیار ہے، الیکشن ایکٹ کا سیکشن 209 کے مطابق الیکشن کمیشن کے پاس اختیار نہیں۔

پشاور ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا کہ سیاسی جماعت بنانا پاکستان کے ہر شہری کا بنیادی حق ہے، سیاسی جماعتوں کو سازگار ماحول فراہم کیا جانا چاہیئے، انتخابی نشان کے تحت الیکشن لڑنے کا حق بھی حاصل ہے، انتخابی نشان کے آئینی حق سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

جسٹس ارشد علی نے تحریری فیصلے میں لکھا کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ غیرقانونی ہے، پی ٹی آئی کا سرٹیفیک ویب سائٹ پر جاری کیا جائے، پی ٹی آئی انتخابی نشان کی بھی حقدارہے۔ تفصیلی فیصلہ مزید وجوہات اور وضاحت کے ساتھ بعد میں جاری کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں