Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

سپریم کورٹ؛ پشاورہائیکورٹ کےفیصلےکیخلاف کیس میں نوازشریف کےکیس کا تذکرہ

سپریم کورٹ میں دوران سماعت سابق وزیراعظم نواز شریف کو پارٹی صدارت سے ہٹانے کے کیس کا تذکرہ کیا گیا۔

سپریم کورٹ میں پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن اورانتخابی نشان کی واپسی سے متعلق الیکشن کمیشن کی درخواست پر سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان نے علی ظفر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جب آپ اقتدارمیں ہوتے ہیں تو تب اصول کیوں نظر انداز کردیے جاتے ہیں؟ ہم یہ باتیں کرنا نہیں چاہتے تھے۔

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ 2018 میں ایک پارٹی صدارت کو سپریم کورٹ کے فیصلے سے ختم کردیا گیا، کچھ لوگ اس فیصلے کا شکار ہوئے، آپ نے اس فیصلے کے نتیجے میں وہ مطلوبہ نتائج حاصل کیئے جو آپ کو میسرنہیں تھے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ علی ظفر صاحب آپ اس ایوان کے رکن ہیں، آپ سمجھ گئے ہونگے، کسی کو لیول پلئنگ فیلڈ کے نام پر ترجیح نہیں دی جا سکتی۔

وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ سپریم کورٹ دو کیسز میں قرار دے چکی ہے کہ الیکشن کمیشن عدالت نہیں ہے، الیکشن کمیشن عدالت نہیں اس لیے ٹرائل کرنے کا اختیار نہیں رکھتا، انٹرا پارٹی انتخابات پر اعتراضات پر سول عدالت میں دعوی ہوسکتا ہے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کمیشن عدالت نہیں لیکن آئینی ادارہ ہے۔

متعلقہ خبریں