سندھ ہائیکورٹ میں لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران عدالت نے بیشترلاپتہ افرادکی بازیابی سے متعلق پولیس رپورٹس غیر تسلی بخش قرار دے دی۔
سنماعت کے دوران جسٹس نعمت پھلپھوٹو نے کہا کہ بتایا جائے، ایک مہینے کا وقت دیا تھا اتنے دنوں میں کیا اقدامات کئے؟ تفتیشی افسرنے جواب دیا کہ مختلف اداروں کو خطوط لکھے گئے جواب نہیں ملا۔
عدالت نے وفاقی سیکریٹری داخلہ کو لاپتہ افراد کے معاملے میں مداخلت کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ دیکھا جائے لاپتہ افراد کہاں گئے، کون لے گیا؟
جسٹس نعمت پھلپھوٹو نے لاپتہ شہری عمران، فیضان علی، بہادر، جنید احمد، محمد یونس، عمیرزمان، عبدالحسن، سعدیہ، زرداد خان کو بازیاب کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ لاپتہ افراد کا سراغ نہ لگائے جانے پر درخواست گزار مایوسی کا شکار ہیں۔
سندھ ہائی کورٹ نے کئی لاپتہ افراد کے اہلخانہ اور وکلا کی عدم پیشی پر سماعت چار ہفتوں کے لیے ملتوی کردی گئی۔




















