اینٹی ریبیز ویکسین کی عدم دستیابی اورکتوں کیخلاف کارروائی سے متعلق شکایتی ہیلپ لائن غیرمؤثرہونے پرعدالت نے اظہارِ برہمی کیا۔
سندھ ہائی کورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے سندھ میں آوارہ کتوں کی بھرماراوراینٹی ریبیز ویکسین کی عدم دستابی پر برہمی کا اظہارکرتے ہوئے سیکرٹری لوکل گورنمنٹ، پروجیکٹ ڈائریکٹر اینٹی ریبیز پروگرام سندھ کو طلب کرلیا۔
طارق منصور ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیارکیا کہ کراچی میں روزانہ دو سے زائد شہریوں کو کتوں کے کاٹنے کے واقعات رپورٹ ہورہے ہیں، شہر کو کیا سندھ ہائیکورٹ کے احاطے میں کتوں کی بھرمار ہے، کتوں کو ویکیسن لگانے کا حکم دیا گیا تھا۔
چیف جسٹس عقیل احمد عباسی نے کہا کہ کسی کو کتا کاٹ لے تو یہ لوگ انسانوں کو ویکیسن نہیں لگاتے کتوں کو کیا ویکسین لگائیں گے؟
سندھ میں آوارہ کتوں کی بھر مار
اینٹی ریبیز ویکسین کی عدم دستیابی پر عدالت کا اظہار برہمی
براہ راست دیکھیں:https://t.co/vJHfveCbX5#BOLNews #SindhHighCourt pic.twitter.com/ZGiKmb50dt— BOL Network (@BOLNETWORK) January 29, 2024
کتوں کے خلاف کارروائی سے متعلق شکایتی ہیلپ لائن غیر مؤثر ہونے پربھی عدالت نے برہمی کا اظہار کیا، سماعت کے دوران ہیلپ لائن 1093 پرکال کرکے چیک کیا گیا۔ درخواست گزار طارق منصورکی جانب سے سماعت کے دوران کال کرنے پر کسی نے ہیلپ لائن پر فون ریسیو نہیں کیا۔
چیف جسٹس عقیل احمد عباسی نے استفسار کیا کہ کتوں کی روک تھام اورعوام کو تحفظ فراہم کرنے کا ذمہ دار کون ہے؟ جس پر سرکاری وکیل نے جواب دیا کہ پروجیکٹ پر کام جاری ہے، فنڈز بھی جاری کیے گئے ہیں، کئی کتے مارے بھی جا چکے ہیں۔
چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے کہا کہ کتوں کو دیکھنا ہے ہائیکورٹ کے احاطے میں جاکر دیکھیں، کتوں کو مارنا مناسب نہیں تو ویکیسن لگانے سے تعداد تو کم کی جاسکتی ہے، کون بندہ زمہ دار ہے، کون کنٹرول کرسکتا ہے؟
ایڈووکیٹ طارق منصور نے کہا کہ عدالت کے حکم پر اینٹی ریبیز پروگرام سندھ بنایا گیا کئی سالوں سےغیرفعال ہے جس پرعدالت نے کہا کہ عدالتی احکامات کے باوجود پروگرام پرعملدرآمد نہیں کیا گیا۔
سندھ ہائی کورٹ نے 10 فروری کو تفصیلات طلب کرلیں۔




















