فریئر ہال میں کمرشل سرگرمیوں کے معاملے پر صدرٹاؤن یوسی 11 کے کونسلر نے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا۔
درخواست گزارکونسلرفیصل بشیرنے مؤقف اپنایا کہ فریئر ہال عوام کی تفریحی سرگرمیوں کے لئے مختص ہے، ڈائریکٹر جنرل پارکس کی جانب سے آئے روز کسی نہ کسی پروڈکشن ہاؤس کو فریئر ہال میں شوٹنگ کی اجازت دی جارہی ہے۔
وکیل درخواست گزارکا مؤقف تھا کہ فریئر ہال میں تقاریب اورنمائشی پروگرامات کی اجازت بھی دے دی جاتی ہے، کمرشل سرگرمیوں سے عوام کی تفریح اور پارک میں لگے پودے و گھاس کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے، ڈی جی پارک نے 13 فروری کو پروڈکشن ہاؤس کو پارک کا بڑے حصے اور واکنگ ٹریک پر شوٹنگ کی اجازت دی۔
کونسلرفیصل بشیرکی جانب سے مؤقف اختیارکیا گیا کہ پروڈکشن ہاؤس نے پارک کے بڑے حصے کو ٹینٹ لگا کر بند کردیا جس سے عوامی تفریح متاثر ہوئی، کمرشل سرگرمیوں کی وجہ سے فیملیز متاثر ہورہے ہیں، ڈی جی پارکس کو کمرشل سرگرمیاں بند کروانے سے متعلق درخواست بھی کی گئی۔
درخواست گزارنے عدالت سے استدعا کی کہ ڈی جی پارکس کو فوری طورپرفریئر ہال میں کمرشل سرگرمیوں کو روکنے کا حکم دیا جائے، انتظامیہ کو ہدایت دی جائے کہ وہ پارک کو بحال رکھنے کے لئے اقدامات کرے۔
درخواست میں کے ایم سی کو بذریعہ میئر اور ڈی جی پارکس کو فریق بنایا گیا ہے۔




















