Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

سپریم کورٹ کا مذاق نہیں اڑایا جا سکتا، چیف جسٹس پاکستان

چیف جسٹس پاکستان نے ایڈشنل اٹارنی جنرل کو متعلقہ ایس ایچ او کے ذریعے درخواست گزار کو عدالت میں پیش کرانے کا حکم دے دیا۔

انتخابات کالعدم قراردینے کی درخواست پر دوبارہ سماعت کرتے ہوئے عدالت نے درخواست گزارکو 21 فروری کیلئے دوبارہ نوٹس جاری کردیا۔ درخواست گزار کو دوبارہ نوٹس بذریعہ ایس ایچ او اور وزارت دفاع جاری کیا گیا۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ درخواست پراعتراضات عائد کیے گئے تھے، درخواست کی اہمیت کے پیش نظراعتراضات کیساتھ سماعت کیلئے مقررکیا گیا۔ درخواست گزارکے دیے گئے ایڈریس پر نوٹس بھیجا گیا تو وہاں کوئی موجود نہیں تھا، درخواست گزارکے دیے گئے موبائل نمبر پربھی رابطہ نہیں ہوسکا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عام حالات میں درخواست گزارکیس واپس لینے کا مجاز ہوتا ہے، موجودہ کیس میں صورتحال کا فائدہ اٹھانے کیلئےعدالتی عمل کا استعمال کیا گیا، عدالت نظام انصاف کے اس قسم کے استحصال کی اجازت نہیں دے گی۔

چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے نے عام انتخابات کالعدم قراردینے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

اس سے قبل دوران سماعت درخواست گزارعلی خان پیش نہ ہوا، جس پرعدالت نے برہمی کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ کیا یہ کوئی مذاق ہے؟درخواست دائرکی خبریں لگوائیں اور پیش نہیں ہو رہے۔

سپریم کورٹ نے متعلقہ ایس ایچ او کو درخواست گزارکو پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ رجسڑار آفس بھی درخواست گزار سے رابطہ کرے۔ درخواست گزارعلی خان کہاں ہے؟

جسٹس محمد علی مظہرنے کہا کہ درخواست گزارنے تو درخواست واپس لینے کی اپیل دائر کرنے کے دوسرے ہی روز 13 فروری کو کردی تھی۔

کورٹ ایسوسی ایٹ نے بتایا کہ درخواست گزارسے نوٹس کی تعمیل کے لیے بذریعہ فون اور ایڈریس پر رابطہ کرنے کی کوشش کی جس پرچیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ پہلے درخواست دائر کرتے ہیں اور پھرغائب ہو جاتے ہیں، یہ کیا محض تشہیرکے لیے درخواست دائر کی گئی تھی؟

چیف جسٹس نے کہا کہ درخواست گزارکو کسی بھی طرح پیش کریں، یہ کیس چلائیں گے، درخواست گزار نے درخواست دائر کرتے ہی خود میڈیا پر جاری کردی۔

جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ انتخابات کے حوالے سے درخواست ٹیلی ویژن کے لیے دائر ہوئی تھی۔

چیف جسٹس قاضی فائزعیسی نے ایڈشنل اٹارنی جنرل سے مکالمہ کیا کہ ایسے نہیں چلے گا، عام طور پر درخواست دائر ہوتے ہی میڈیا پر جاری نہیں ہو جاتی،درخواست گزارسے بذریعہ فون دوبارہ رابطہ کریں، اس طرح سے سپریم کورٹ کا مذاق نہیں بنایا جا سکتا، کیا پتا درخواست گزار نے خود درخواست فائل کی بھی یا نہیں، کیا پتا بعد میں آ کردرخواست گزار کہہ دے کہ میں نے واپس نہیں لی۔

چیف جسٹس نے ایڈشنل اٹارنی جنرل کو متعلقہ ایس ایچ او کے ذریعے درخواست گزار کو پیش کرانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ کیس کی سماعت آج ہی درخواست گزارکے آنے پر ہوگی۔

متعلقہ خبریں