سپریم کورٹ میں ممنوعہ بورکے اسلحہ لائسنس کیخلاف کیس میں 6 مارچ کی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا۔
حکم نامے میں عدالت عظمٰی نے کہا کہ عوام کو آزادانہ طور پر ممنوعہ اسلحہ لہرانے والوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا، بظاہر پولیس، صوبائی ہوم ڈیپارٹمنٹس اور وزارت داخلہ لوگوں کی زندگیوں کو محفوظ بنانے میں دلچسپی نہیں رکھتی۔
حکمنامہ میں کہا گیا کہ شادی ہالز، بازاروں، سکولوں اور ہسپتالوں کے باہر بھی ایس ایم جیز کھلے عام نظر آتی ہیں، ڈالوں میں مجرمانہ مقاصد کیلئے اسلحہ اٹھائے لوگ نظر آتے ہیں مگر پولیس انھیں نظر انداز کرتی ہے۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ قانون کی پاسداری کرنے والے شہری اسلحہ کی نمائش سے خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں، ایسے ماحول میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کی مثال والی فضا پیدا ہوتی ہے۔
حکم نامے کہا گیا کہ حیران کن بات ہے کہ پولیس کے پاس کسی اسلحہ کی تصدیق کا کوئی طریقہ کار ہی موجود نہیں، بتایا جائے کیا وفاقی حکومت کی یہ پالیسی ہے کہ آتشی اسلحہ کی عوامی سطح پر نمائش کرنی ہے؟ کیا عوامی مقامات پر اسلحہ کی نمائش پر پابندی نہیں۔
سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے بذریعہ سیکرٹری داخلہ تحریری جواب طلب کر لیا اوراٹارنی جنرل کو بھی نوٹس جاری کردیا۔




















