مونال ریسٹورنٹ کی لیز سے متعلق کیس میں ملٹری اسٹیٹ کے افسران سپریم کورٹ میں پیش ہوئے۔
تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں مونال ریسٹورنٹ کی لیز سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
اٹارنی جنرل منصورعثمان اعوان، وکیل مخدوم علی، وکیل سلمان اکرم راجہ عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کا آخری آرڈر کیا تھا پڑھیں جس کے بعد اٹارنی جنرل نے گزشتہ سماعت کا حکمنامہ پڑھ کرسنایا۔
چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ ملٹری اسٹیٹ ڈائریکٹریٹ کی طرف سے کون آیا ہے؟ اس کے ساتھ ہی ملٹری اسٹیٹ آفیسر عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ پاکستان واحد ملک ہے جہاں فوج اور سی ڈی اے ڈائریکٹریٹ آپس میں لڑائی کررہے ہیں۔ انھوں نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کیا کہ مونال کے ساتھ ملٹری اسٹیٹ ڈائریکٹریٹ کا اوریجنل ایگریمنٹ ریکارڈ کہا ہے۔ سارے لوگ جھوٹ بولنے کیلئے آئے ہیں یا کوئی سچ بھی بولے گا۔
چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے ریمارکس دیے کہ ریکارڈ فوراً وقفے میں پیش کریں ورنہ توہین عدالت کا نوٹس کریں گے۔




















