Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

سائفرکیس کے فیصلے کے خلاف اپیلوں پرسماعت کل تک ملتوی

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سائفرکیس کے فیصلے کے خلاف اپیلوں پرسماعت کل تک ملتوی کردی۔ 

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں سائفر اپیلوں کی سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی، شاہ محمودکی سائفرکیس میں سزاکےخلاف اپیلوں پرسماعت ہوئی۔

اسلام آبادہائیکورٹ نےایڈووکیٹ جنرل کوروسٹرم پرطلب کرلیا۔ گزشتہ روزکےواقعےپرآئی جی اورایس ایس پی آپریشنزکو بھی فوری ہائیکورٹ طلب کیا گیا۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایڈووکیٹ جنرل کوہدایت کی کہ آئی جی، ایس ایس پی آپریشنزکوبلالیں۔

بیرسٹر سلمان صفدر نے اپنے دلائل کا آغازکرتے ہوئے کہا کہ آخری جرح دونوں فریق کرتے ہیں کہ کیس کیا ہے، 342کابیان پڑھ کرسنایاگیاتوبانی پی ٹی آئی، شاہ محمود2,2سوال پوچھےگئے۔ سوال پوچھنےکےفوری بعدسزاسنادی گئی۔

بیرسٹرسلمان نے کہا کہ 342کےبیان میں لکھاہےجج سزاسناکرفوری کورٹ سےروانہ ہوگئے، کیسےہوسکتاہےکہ342کےبیان میں یہ کس طرح لکھاہواہے، 342کابیان ایک مکالمہ ہوتاہےجوججمنٹ سےپہلےہوتا۔

چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آپ نے342کےبیان کوکنفرنٹ کردیااوربیان سامنےبھی آگیا، اس ججمنٹ میں پراسکیوشن اورڈیفنس کےدلائل موجودہیں۔

بیرسٹرسلمان صفدر نے جواب دیا کہ نہیں ججمنٹ میں دلائل نہیں ہیں، ججمنٹ میں ایک پیراگراف موجودہےجس میں دلائل کاذکرکیاگیاہے، ڈیفنس کونسل دلائل سےثابت نہیں کرسکے۔

سماعت کے دوران بیرسٹر سلمان صفدرنے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو عدالت کے سامنے پڑھ کر سنایا۔

ججز کو موصول دھمکی آمیز خطوط کے معاملے پر ڈی آئی جی آپریشنز شہزاد بخاری اورڈی آئی جی آپریشنز چیف جسٹس کی عدالت میں پیش ہوئے۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسارکیا کہ ٹرائل کورٹ جج نے اپنے فیصلے میں یہ فائنڈنگ دی کہ پاکستان امریکہ تعلقات ختم ہو گئے، ٹرائل جج نے کِس بنیاد پر یہ لکھا کہ تعلقات ختم ہو گئے؟ سائفر اگر سائفر کے طور پر نہ آتا اور عمومی طور پر بھیجا جاتا تو پھر کیا ہوتا؟ اگر سائفر ڈپلومیٹک بیگ کے طور پر آتا تو کیا پھر وزیراعظم اُسے سامنے لا سکتا تھا؟

چیف جسٹس نے کہا کہ لیکن پھر مسئلہ وہی ہے کہ سائفر میں تھا کیا، وکیل سلمان صفدرنے جواب دیا کہ سائفر ایک سفید کوا ہے۔

جسٹس حسن اورنگزیب نے کہا کہ ایک طرف آپ ایک ملک کو ڈی مارش کر رہے ہیں اور دوسری طرف کہہ رہے ہیں کہ اس سے تعلقات خراب نہ ہوں، آپ اس ملک سے تعلقات خراب نہ کرنے کیلئے سابق وزیراعظم کو جیل میں ڈال دیا، ایک دوسرے ملک نے آپکو بہت خوفناک بات کہی ہے اور وہ سائفر میں آئی تو آپ کسی کو بتا نہیں سکتے؟

اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججز کو موصول دھمکی آمیز خطوط کے معاملے پر ڈی آئی جی آپریشنز شہزاد بخاری کے ساتھ ایس ایس پی سی ٹی ڈی ہمایوں حمزہ بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

ڈی آئی جی نے عدالت کو بتایا کہ ابھی تک کسی کے پاس آئی جی کا ایکٹنگ چارج ںہیں، اسلام آباد پولیس کے تمام آپریشنز میں دیکھ رہا ہوں، کیمکل معائنے کے لیے بھجوا دیے ہیں، تین سے چار دن میں رپورٹ آ جائے گی۔

عدالت نے استفسار کیا کہ کہاں سے خطوط پوسٹ کیا گیا تھا؟ ڈی آئی جی نے جواب دیا کہ اسٹیمپ نہیں پڑھیں جارہی، آج لاہور ہائی کورٹ کے ججز کو بھی اسی نام سے خطوط ملے ہیں۔

چیف جسٹس عامرفاروق نے اسلام آباد پولیس پر شدید اظہارِ برہمی کرتے ہوئے کہا کہ ‏عید قریب آ رہی ہے مگر ناکے پر کھڑے والوں کو ہدایات دیں، جو ناکے پر کچھ دے رہا ہے اس کی بھی عید ہے، اس کا بھی خیال کریں، ناکوں پر کھڑے اہلکاروں کو سمجھائیں کہ لوگوں کے منہ سونگھنا چھوڑ دیں۔

ڈی آئی آپریشنز نے کہا کہ ‏ہم نے پرانے کرپٹ پولیس افسران و اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی ہے، میں نے اپنے موبائل نمبرز دیے ہیں، کسی کو بھی شکایت ہو تو وہ رابطہ کر سکتا ہے۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ آپ نے10سال سزاکوڈی مولش کرنےکی کوشش کی، آپ نےاچھےدلائل دیے،ایک چیزپاس آتی ہے، وکیل سلمان صفدرنے کہا کہ وہ واپس نہیں کی جس پر صرف بانی پی ٹی آئی نےنہیں دینی تھی اوروں کےپاس بھی کاپیاں تھیں۔

چیف جسٹس عامر فاروق نے بیرسٹرسلمان سےمکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہاتھی نکال دیاہے تودم بھی نکال دیں، آپ کومزیدکل سن لیں گے۔

بیرسٹرسلمان صفدرنے کہا کہ وقت دے دیں 15منٹ میں دلائل مکمل کرلوں گا۔ اس کے ساتھ ہی اسلام آباد ہائی کورٹ نے سائفرکیس کے فیصلے کے خلاف اپیلوں پرسماعت کل تک ملتوی کردی۔

متعلقہ خبریں