Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت پیر تک ملتوی

چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے ریمارکس دیے کہ فیصلے کی غلط تشریح کا کسی کے پاس علاج نہیں ہے، بلے کے نشان اورپارٹی امیدوارکو نتھی کیوں کیا جارہاہے؟

سپریم کورٹ میں سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کیلئے دائر اپیلوں پر سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ پی ٹی آئی کوجماعتی انتخابات نہ کرانےکی سزاملی، بلے کا نشان الیکشن کمیشن نے کسی کوبھی الاٹ نہیں کیا۔

چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے ریمارکس دیے کہ فیصلے کی غلط تشریح کا کسی کے پاس علاج نہیں ہے، بلے کے نشان اورپارٹی امیدوارکو نتھی کیوں کیا جارہاہے؟ پی ٹی آئی کا امیدوارکیوں کوئی اورجماعت جوائن کرے؟

سکندرمہمند نے کہا کہ اس بات کا جواب پہلے دے چکا ہوں، مزید معاونت نہیں کروں گا۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ سیکشن 240 کے مطابق صدر سے رجوع کیا جاتا ہے، صدر کی مرضی ہے کب جواب دیں نہ دیں یا کوئی اور بات کردیں، صدرکے مطابق الیکشن کی تاریخ دیناانکی ذمے داری ہے لیکن دیتے نہیں۔

جسٹس منیب اخترنے کہا کہ جب امیدواروں کا تضاد سامنے آیا تو حکومت نگراں تھی، نگراں حکومت بھی الیکشن کمیشن کی طرح غیر جانبداراورآزاد ہوتی ہے۔

منصورعلی شاہ نے کہا کہ ای سی نے انتخابی نشان، امیدواروں کی حیثیت پرفیصلہ کب کیا؟  کیا اتنا بڑا معاملہ صرف ریٹرننگ افسران پرچھوڑ دیا گیا تھا؟

جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا ای سی کواختیارہے کسی پارٹی امیدوارکوآزاد قراردے؟ جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ ای سی نے امیدواروں کی پارٹی وابستگی کوکیوں تسلیم نہیں کیا؟ امیدواروں نے نہیں الیکشن کمیشن نےانکی حیثیت پارٹی سےآزادتبدیل کی۔

وکیل الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ کچھ امیدواروں نے تحریری نہیں زبانی پارٹی وابستگی واپس لی۔

جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے 22 دسمبرکے فیصلے سے کنفیوژن پیدا ہوئی، پی ٹی آئی الیکشن نہیں لڑسکتی تھی تو پارٹی ٹکٹ کہاں سےلاتے؟ امیدواربھی ایسے ہی کنفیوژ ہوئے جیسے الیکشن کمیشن ہے۔

سکندرمہمند نے جواب دیا کہ ای سی نے تضادات کے باوجودامیدواروں کوانتخاب لڑنے کی اجازت دی، اس پر جسٹس منیب اخترنے کہا کہ ای سی نے نامزدگی کے وقت ہی کہا پی ٹی آئی کونشان نہیں ملے گا، ای سی نے بعد میں پی ٹی آئی امیدواروں کے کاغذات منظور بھی کیے، الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کونان پارٹی انتخابی نشان دے سکتا تھا۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ امیدواروں کی حتمی فہرست 12 جنوری کو جاری ہونا تھی، کیا کاغذات واپسی کی تاریخ کے بعد امیدوارپارٹی تبدیل کرسکتا ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ انتخابی نشان کی الاٹمنٹ تک پارٹی ٹکٹ تبدیل کیاجاسکتاہے۔

عائشہ ملک نے پوچھا کہ الیکشن کمیشن نے امیدواروں کے فارم اےکاجائزہ کیوں نہیں لیا؟

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ امیدواراپنی وابستگی چاہےبتائےلیکن پارٹی کی رضامندی ضروری ہے، امیدواروں نے خود ٹکٹ اور پارٹی وابستگی میں تضاد قائم کیا، کیا قانون میں اس تضاد پر کوئی شق موجود ہے؟ کیابیان حلفی دیکردوسری جماعت کاٹکٹ دینے پر نااہلی نہیں ہوتی؟

سکندرمہمند نے جواب دیا کہ پارٹی ٹکٹ، وابستگی میں تضادات پر آزادامیدوارظاہرکرنا حل تھا۔

جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ کوئی امیدوارٹکٹ جمع کرائے توکیا آزاد ظاہرکیا جاسکتا ہے؟ جسٹم نعیم اختربولے کہ 81امیدواروں کی فہرست میں سے 35 نے وابستگی ظاہر نہیں کی۔ 65 امیدواروں نے ریٹرننگ افسر کو انتخابی نشان کیلئے درخواست ہی نہیں دی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کچھ امیدواروں نے پارٹی وابستگی، ٹکٹ دونوں پی ٹی آئی کے ظاہرکیے۔ انتخابی نشان الگ چیزہےان امیدواروں کوپی ٹی آئی کا کیوں تصورنہ کیاجائے۔

سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت پیرتک ملتوی کردی۔

متعلقہ خبریں