لاہورہائیکورٹ نے جیلوں میں قیدیوں پرتشدر روکنے اور سہولیات کی فراہمی کےلئےدرخواست کاتحریری فیصلہ جاری کردیا۔
چیف جسٹس نے لاہور کی جیلوں میں ہلاک ہونے والے قیدیوں کی تفصیلات طلب کرلیں۔ عدالت نے قیدیوں پرتشدداور طبی ررپورٹس بھی طلب کرلیں۔ قیدیوں پر تشدد کی میڈیکولیگل رپورٹ بھی پیش کی جائے۔
تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ آئی جی جیل ہلاک ہونے اور تشدد کےشکار قیدیوں کی رپورٹ پیش کریں۔ لاہور کی جیلوں میں کتنے قیدی ہلاک ہوئے آگاہ کیا جائے۔ کتنے قیدیوں پرتشدد ہعا، تشدد کی کتنی درخواستیں موصول اور ان پرکیا کارروائی ہوئی بتایا جائے۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے عبوری تحریری فیصلہ جاری کیا۔ درخواست گزار آمنہ لیاقت کے وکیل محمد اظہر صدیق نے عدالت سے رجوع کررکھا ہے۔
وکیل درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ پنجاب کی جیلوں میں قیدیوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کے واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں۔ قیدیوں کو بھیڑبکریوں کی طرح جیلوں میں بند رکھا جاتا ہے۔
درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ قیدیوں کو جیلوں میں ناکافی سہولیات کا سامنا ہے۔ قیدیوں کا تحفظ اورسہولیات کی فراہمی ملکی اور بین الاقوامی قوانین کا تقاضا ہے۔ استدعا ہے کہ عدالت جیل حکام کو قیدیوں کے بنیادی حقوق کےتحفظ کا حکم دے۔




















