Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

سندھ ہائی کورٹ میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس کیخلاف درخواست پرعدالت نے دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔

سندھ ہائیکورٹ میں سماعت کے دوران جسٹس یوسف علی سعید نے کہا کہ درخواست پر فیصلہ آج ہی جاری کیا جائے گا۔

ابراہیم سیف الدین ایڈووکیٹ نے دلائل دیے کہ صدرپاکستان نے 20 ستمبر کو پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ ترمیمی آرڈریننس پر دستخط کئے، پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی ایکٹ اسمبلی میں پیش ہی نہیں کیا گیا ہے۔

ابراہیم سیف الدین ایڈووکیٹ نے کہا کہ قومی اسمبلی نے ایک سال قبل ہی پریکٹس اینڈ پروسیجرایکٹ نافذ کیا ہے، پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ میں ترمیم عدلیہ پر براہِ راست حملہ ہے۔

جسٹس یوسف علی سعید نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجرترمیمی ایکٹ پرسپریم کورٹ نے خود عملدرآمد شروع کردیا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے باقاعدہ نیا نوٹیفکیشن بھی جاری کیا ہے، سندھ ہائیکورٹ سپریم کورٹ کے معاملات میں کیسے مداخلت کرسکتی ہے؟

ابراہیم سیف الدین ایڈووکیٹ نے کہا کہ جسٹس منصورعلی شاہ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی ایکٹ کی مخالفت کی ہے، سپریم کورٹ تقسیم ہوچکی ہے۔

وکیل درخواست گزار نے کہا کہ آرٹیکل 199 کے تحت سندھ ہائیکورٹ غیر قانونی طور پر منظور ایکٹ کے خلاف درخواست سننے کی مجاز ہے۔

متعلقہ خبریں