سوشل میڈیا پرعظمی بخاری کی فیک ویڈیو جاری کرنے کے خلاف درخواست کی سماعت 11 اکتوبرتک ملتوی کردی گئی۔
لاہورہائیکورٹ میں وزیراطلاعات پنجاب عظمی بخاری کی فیک ویڈیوسوشل میڈیا پرجاری کرنےکے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ سماعت چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ عالیہ نیلم نے کی۔
سماعت کے دوران عدالت نے ڈی جی ایف آئی آئی اے سے استفسارکیا کہ کب وطن واپسی ہوئی ہے؟ ڈی جی ایف آئی اے نے جواب دیا کہ میں پیر کے روز پاکستان واپس آیا۔ دوافسران کا رویہ غیرتسلی بخش ثابت ہوا۔ دواسسٹنٹ ڈائریکٹرزکی غیرتسلی بخش کارروائی پرمعطل کرکے کارروائی شروع کردی گئی ہے۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ خفیہ رپورٹ پیش کی گئی مگر مشتبہ بندی کو پھر بھی نہیں پکڑا جاسکا۔ ڈی جی نے جواب دیا کہ جے آئی ٹی کا لیول بڑھاکرتفتیش کو مؤثر بنایاجائے گا۔ دو تین ہفتے دے دیں اس کیس میں کارکردگی دکھائیں گے۔
وزیراطلاعات پنجاب نے میڈیا سے گفتگو میں کیا کہا؟ لنک کھولیں
چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ نے کہا کہ دوتین ہفتوں میں پتہ ہے کتنے گھنٹے ہوتے ہیں اور کتنا وقت ہوتاہے۔ اس پر ایف آئی اے کے ڈی جی نے جواب دیا کہ جو بھی ملوث ہے ان کا نام سٹاپ لسٹ میں ڈال دیے ہیں۔ بیرون ملک موجود افراد کے نام ریڈ وارنٹ جاری کررہے ہیں۔
عدالت نے کہا کہ پاکستان میں ایکس کیسے کام کررہا ہےعدالت کو آگاہ کیاجائے؟ ڈی جی نے جواب دیا کہ فیس بک، ٹوئیٹرکا حکومتی سطح پر کوئی معاہدہ نہیں ہے۔ اسی طرح کے معاہدوں کے نہ ہونے سے ہمیں مشکلات کا سامناکرنا پڑ رہا ہے۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ دس یوم میں قانونی پہلوون کےبارے میں آگاہ کیاجائے۔ اگرکام کرنا ہوتوچاردن بھی بڑے ہوتے ہیں نہ کرنا ہوتو دس دن بھی کم پڑ جاتے ہیں۔
لاہور ہائی کورٹ نے کیس کی مزید سماعت 11 اکتوبرتک ملتوی کردی۔




















