Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے بینچ کی تشکیل پر اعتراض مسترد کردیا

چیف جسٹس پاکستان نے بینچ کی تشکیل پربیرسٹرعلی ظفر کا اعتراض مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے کہا فیصلہ سنادیں تو ہم نے سنا دیا، ہم سب کا مشترکہ فیصلہ ہے بینچ کے اعتراض کو مسترد کرتے ہیں۔

سپریم کورٹ آف پاکستان میں آرٹیکل 63 اے تشریح نظرِثانی کیس کی سماعت ہوئی، چیف جسٹس پاکستان قاضی فائزعیسیٰ کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی۔ بینچ میں جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس نعیم افغان، جسٹس امین الدین اور جسٹس مظہرعالم شامل تھے۔ جسٹس نعیم اختر افغان، جسٹس مظہرعالم میاں خیل بھی بنچ کا حصہ تھے۔

رجسٹرار کی رپورٹ پیش

63 اے تفصیلی فیصلے سے متعلق رجسٹرار کی رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی جس میں بتایا گیا کہ تفصیلی فیصلہ 14 اکتوبر 2022 کو جاری ہوا۔

دورانِ سماعت دلائل دیتے ہوئے سپریم کورٹ بار کے صدر شہزاد شوکت نے کہا کہ تفصیلی فیصلہ 14 اکتوبر 2022ء کو جاری ہوا، تفصیلی فیصلے کے انتظار میں نظرِ ثانی دائر کرنے میں تاخیر ہوئی۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ عام بندے کا کیس ہوتا تو بات اورتھی، کیا سپریم کورٹ بار کو بھی معلوم نہیں تھا کہ نظرِ ثانی کتنی مدت میں دائر کرنی ہے؟

شہزاد شوکت نے کہا کہ مختصر فیصلہ آ چکا تھا لیکن تفصیلی فیصلے کا انتظار کر رہے تھے، مفادِ عامہ کے مقدمات میں نظرِ ثانی کی تاخیر کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے، مفادِ عامہ کے مقدمات کو جلد مقرر بھی کیا جاسکتا ہے، نظرِ ثانی 2 سال سے سماعت کے لیے مقرر نہیں ہوئی تھی۔

پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر نے کہا کہ نظرِ ثانی درخواست تاخیر سے دائر ہوئی جس کے باعث مقرر نہیں ہوئی، میں پہلے ایک بیان دے دوں۔

چیف جسٹس نے علی ظفر سے کہا کہ عدالت میں بیان نہیں گزارشات سنتے ہیں، بیان ساتھ والی عمارت پارلیمنٹ میں جا کر دیں، آپ بتائیں نظرِ ثانی فیصلے کے خلاف ہوتی ہے یا اس کی وجوہات کے خلاف؟

’’آج کے دلائل کل سے بھی زیادہ میٹھے ہوں گے‘‘

وکیل علی ظفر نے کہا کہ کل کے دلائل بہت میٹھے تھے جس پر چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ آج کے دلائل کل سے بھی زیادہ میٹھے ہوں گے۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ یعنی آپ کو کل کے دلائل پسند آئے تھے۔ جسٹس نعیم افغان نے کہا کہ شیریں اور تلخ کی ملاوٹ سے ہی ذائقہ بنتا ہے۔

وکیل علی ظفر نے کہا کہ میں بتانا چاہتا ہوں کہ آج میں تلخ دلائل دوں گا، میں نے درخواست دائر کی لیکن سپریم کورٹ آفس نے منظور نہیں کی۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ ہمیں درخواست کا بتا دیں، آپ نے صبح دائرکی ہوگی۔ آپ اپنے دلائل شروع کریں۔

وکیل علی ظفرنے کہا کہ یعنی آپ میری بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست مسترد کر رہے ہیں۔ اس پرجسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ آپ کل بھی ملاقات کرسکتے تھے۔

وکیل علی ظفر نے جواب دیا کہ بانی پی ٹی آئی جیل میں ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے مشاورت کرنی تھی تو کل بتاتے، عدالت کوئی حکم جاری کردیتی، ماضی میں ویڈیو لنک پر بانی پی ٹی آئی کو بلایا تھا، وکلاء کی ملاقات بھی کرائی تھی۔

وکیل علی ظفر نے چیف جسٹس سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ مجھے یقین تھا آپ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست منظورنہیں کریں گے۔

چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ ججز سے بدتمیزی کا یہ طریقہ اب عام ہوگیا ہے، کمرہ عدالت سے یوٹیوبرز باہر جاکر اب شروع ہوجائیں گے۔  جسٹس نعیم اخترافغان نے کہا کہ اس پراب پروگرامز ہوں گے۔

بیرسٹرعلی ظفرنے کہا کہ جو 4 رکنی بینچ 30 ستمبر کو بیٹھا وہ بینچ کسی نے تشکیل دیا ہی نہیں تھا، اس پرچیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ علی ظفر صاحب آپ ججز کا انتخاب خود نہیں کرسکتے، ایسا طرزعمل تباہ کن ہے، کیا ماضی میں یہاں سینیارٹی پر بینچ بنتے رہے؟

چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نےکہا کہ آپ نے بارکی جانب سے کبھی شفافیت کی کوشش کیوں نہ کی؟ 63 اے پر آپ کا ریفرنس آیا، فوری سنا گیا،  اُس وقت 10 سال پرانا بھٹو ریفرنس زیر التوا تھا، بابراعوان دونوں ریفرنسز میں بطور وکیل پیش ہوئے، شفافیت کا تقاضا تھا بابراعوان پہلے دن کہتے پہلے پرانا ریفرنس سنیں۔

چیف جسٹس نے بینچ کی تشکیل پر اعتراض مسترد کردیا

چیف جسٹس نے بینچ کی تشکیل پراعتراض مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے کہا فیصلہ سنادیں تو ہم نے سنا دیا، ہم سب کا مشترکہ فیصلہ ہے بینچ کے اعتراض کو مسترد کرتے ہیں۔

بیرسٹرعلی ظفرنے کہا کہ بینچ تشکیل دینے والی کمیٹی کے ممبران بینچ کا حصہ ہیں، وہ خود کیسے بینچ کی تشکیل کو قانونی قراردے سکتے ہیں؟ اگرایسا ہو تو ججز کمیٹی کے ممبران کسی بینچ کا حصہ ہی نہ بن سکیں، پہلے یہ فیصلہ کیا جائے کہ بینچ قانونی ہے، یہ فیصلہ ہو جائے اس کے بعد ہی میں دلائل دے سکتا ہوں،

چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ ہم پاکستان بنانے والوں میں سے ہیں، توڑنے والوں میں سے نہیں، ہم نے وہ مقدمات بھی سنے جو کوئی سننا نہیں چاہتا تھا، پرویز مشرف کا کیس بھی ہم نے سنا۔ اگر ایسا ہو تو ججز کمیٹی کے ممبران کسی بینچ کا حصہ ہی نہ بن سکیں، آپ ہمیں باتیں سناتے ہیں تو پھرسنیں بھی۔

مصطفین کاظمی کو کمرۂ عدالت سے باہرنکالنے کا حکم

سماعت کے دوران پی ٹی آئی ورکرسید مصطفین کاظمی روسٹرم پر آگئے اورکہا کہ یہ سب غیرقانونی بینچ ہے، یہ سب کیا ہورہا ہے؟ سپریم کورٹ بار کا اس کیس سے کیا تعلق ہے؟

چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے سید مصطفین کاظمی کو کمرۂ عدالت سے باہر نکالنے کا حکم دے دیا اور پولیس اہلکاروں کو ہدایت کی کہ اس جینٹل مین کو باہر نکالیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے بیرسٹرعلی ظفرسے کہا علی ظفر صاحب! یہ کیا ہورہا ہے؟ آپ آئیں اورہمیں بے عزت کریں؟ ہم یہ ہرگز برداشت نہیں کریں گے۔

علی ظفرنے جواب دیا کہ میں تو بڑے آرام سے بحث کررہا تھا اورآپ بھی آرام سے سن رہے رہے تھے۔

 

علی ظفر کی استدعا

بیرسٹرعلی ظفرنے عدالت سے استدعا کی کہ مجھے اپنے کلائنٹ سے ملاقات کی اجازت دی جائے، تاکہ میں قانونی نقاط پر رہنمائی لے سکوں۔

سپریم کورٹ نے وکیل علی ظفرکی استدعا منظور کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی سے فوری ملاقات کرانے کے احکامات جاری کردیے۔

جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ میں 63 اے کیس میں بینچ کا حصہ تھا، کیا اب میں نظر ثانی بینچ میں بیٹھنے سے انکار کرسکتا ہوں؟  کیا ایسا کرنا حلف کی خلاف ورزی نہیں ہو گی؟

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ یہاں تو فیصلوں کو رجسٹرارسے ختم کروایا جاتا رہا، میں نے بینچ میں انہی ججز کو شامل کرنے کی کوشش کی، کسی کو مجبورنہیں کرسکتا، فل کورٹ سے مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے، لوگوں کو یہاں مگر مرضی کے بینچ کی عادت ہے، وہ زمانے چلے گئے، اب شفافیت آ چکی ہے، اب آمریت نہ ملک میں نہ ہی اداروں میں ہوگی۔

بیرسٹرعلی ظفر نے کہا کہ بہت اچھی بات ہے سر۔ اس پرچیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ اچھی بات نہ کہیں، پہلے سابقہ کاموں کا کفارہ کریں، اب ہم جو کرتے ہیں بتا دیتے ہیں، سابقہ دور واپس نہیں آنے دیں گے، کیا ہمارے پاس اختیار ہے کہ زبردستی کسی کو پکڑ کر بینچ میں لائیں؟

علی ظفر نے جواب دیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے موجود ہیں، نظر ثانی اپیل میں فیصلے لکھنے والے جج کی موجودگی لازم ہے۔ اس کیس میں اتنی جلدی کیا ہے؟ پہلے بیٹھ کر اپنے رولز بنا لیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہم نے سب نظر ثانی کے مقدمات لگا دیے ہیں، ڈیڑھ بج چکا، آپ نے میرٹ پر ایک بات نہیں کی۔

انھوں نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامررحمان کو ملاقات کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ کوشش کریں آج رات تک ملاقات ہو جائے۔

سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی۔

متعلقہ خبریں