Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

کیس عام بنچ سنے گا یا آئینی بنچ سنے گا؟ جسٹس منصورعلی شاہ

جسٹس منصورعلی شاہ نے ریمارکس دیے کہ اب لگتا ہے یہ سوال سپریم کورٹ میں ہر روز اٹھے گا کہ کیس عام بنچ سنے گا یا آئینی بنچ سنے گا۔

موسمیاتی تبدیلی اتھارٹی کے قیام سے متعلق کیس پرسماعت کے دوران جسٹس منصورعلی شاہ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے دلچسپ مکالمہ کرتے ہوئے استفسارکیا کہ کیا موسمیاتی تبدیلی کےچیئرمین کا نوٹیفکیشن جاری ہوچکا ہے؟

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ابھی نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا، جس پرجسٹس منصورعلی شاہ نے پوچھا کہ اٹارنی جنرل کدھر ہیں؟ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ اٹارنی جنرل گزشتہ رات مصروف رہے اس لیے نہیں آئے۔

جسٹس منصورعلی شاہ نے مسکراتے ہوئے استفسارکیا کہ اب تو ساری مصروفیت ختم ہو چکی ہوگی۔

اس کے ساتھ ہی عدالت نے کیس کی سماعت دو ہفتوں کیلئے ملتوی کرتے ہوئے حکم دیا کہ آئندہ سماعت پراٹارنی جنرل پیش ہوں۔

سپریم کورٹ میں 26 ویں آئینی ترمیم سے متعلق جسٹس منصورعلی شاہ اورجسٹس عائشہ ملک نے دلچسپ ریمارکس دیے۔

مسابقتی کمیشن سے متعلق ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف اپیل پرسماعت کے دوران جسٹس منصورعلی شاہ نےآئینی بنچ کا تذکرہ کیا اور مسکرا کر سوال کیا کہ کیا یہ کیس اب آئینی بنچ میں جائے گا یا ہم بھی سن سکتے ہیں۔

جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ اب لگتا ہے یہ سوال سپریم کورٹ میں ہر روز اٹھے گا کہ کیس عام بنچ سنے گا یا آئینی بنچ سنے گا۔

فروع نسیم نے جواب دیا کہ سیاسی کیسزاب آئینی کیسز بن چکے ہیں، اس پر جسٹس عائشہ ملک نے مسکراتے ہوئے ریمارکس دیے کہ چلیں جی اب آپ جانیں اورآپکے آئینی بنچ جانیں۔

جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ تین ہفتوں تک کیس کی سماعت ملتوی کر رہے ہیں تب تک صورتحال واضح ہو جائے گی۔

جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ نئی ترمیم پڑھ لیں، آرٹیکل 199 والا کیس یہاں نہیں سن سکتے۔

جسٹس منصورعلی شاہ نے مسکراتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ویسے بھی ہمیں خود سمجھنے میں ذرا وقت لگے گا۔

متعلقہ خبریں