سپریم کورٹ نے مرکزی شاہراوں پرہیوی ٹریفک کیخلاف درخواست پراٹارنی جنرل اورچاروں صوبائی ایڈووکیٹ جنرلزکو نوٹس جاری کردیے۔
سپریم کورٹ میں ملک کی مرکزی شاہراوں پرہیوی ٹریفک کیخلاف درخواست پرسماعت ہوئی۔ جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بنچ نے سماعت کی۔
درخواست گزارعباس آفریدی نے مؤقف اپنایا کہ روزانہ 70 لوگ ٹریفک حادثات میں مرتے ہیں اس پر جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ لوگ لٹک لٹک کرکیوں سفرکرتے ہیں؟
سپریم کورٹ نے رجسٹرارآفس کے اعتراضات ختم کرتے ہوئے درخواست منظورکرلی۔ سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے اٹارنی جنرل اورچاروں صوبائی ایڈووکیٹ جنرلزکو نوٹس جاری کردیے۔
عدالتِ عطمٰی نے این ایچ اے کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت غیرمعینہ مدت تک کیلئے ملتوی کر دی۔
جی ٹی روڈزپراوور لوڈڈ ٹرکس کو روکنے کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی۔




















