کراچی: اغوا کے بعد شہید ہونے والے اہلکاروں کے ورثا نے حکومت پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مغویوں کی بازیابی کے لیے حکومت کی جانب سے کسی قسم کا تعاون نہیں کیا گیا جب کہ بحری قزاقوں نے رہائی کے بدلے 30 لاکھ ڈالر تاوان طلب کیا تھا۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مقتولین کے ورثا نے بتایا کہ اغوا کار مسلسل ان کے ساتھ رابطے میں تھے اور ان کا کہنا تھا کہ تاوان حکومت یا جہاز کے مالک کی جانب سے ادا کیا جائے گا۔
ورثا کے مطابق اغوا کاروں نے متعدد مرتبہ لواحقین کی مغوی اہلکاروں سے بات بھی کروائی تھی جس کے دوران اہل خانہ اپنے پیاروں سے رابطے میں رہے۔
انہوں نے کہا کہ مغویوں کی بازیابی کے لیے احتجاج کرنے پر انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا جب کہ اس مشکل وقت میں حکومت کی جانب سے کوئی تعاون نہیں کیا گیا۔
اہل خانہ نے الزام عائد کیا کہ اہلکاروں کی میتیں کراچی پہنچنے پر بعض افراد کریڈٹ لینے کے لیے بیانات دے رہے ہیں، حالانکہ مشکل وقت میں ان کے ساتھ کوئی کھڑا نہیں ہوا۔
ورثا کا کہنا تھا کہ ہمارے ساتھ جو سانحہ ہونا تھا، وہ ہوچکا ہے، اب ہم نے اپنا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا ہے۔
دوسری جانب شہید اہلکاروں کی میتیں وصول کرنے کے لیے ورثا کی بڑی تعداد کراچی کے کارگو ٹرمینل پر موجود تھی۔
زخمیوں کے استقبال کے لیے گورنر سندھ نہال ہاشمی بھی جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچے۔
















