دنیا بھر میں بہت سے بچے جنیاتی یا جسمانی بیماری کی سبب کچھ خاص علامات سے ساتھ جنم لیتے ہیں ان ہی میں امریکا کے شہر اوہائیو میں جنم لینے والی ارمانی ملبی بھی شامل ہیں۔
ارمانی، جو اب نو ماہ کی ہوچکی ہے اور اس کے غیر معمولی جسامت کے سبب کا عرفی نام “بیبی ہلک” یا “منی ہلک” ہے کیونکہ اس کا نایاب پیدائشی نقص کی وجہ سے باڈی بلڈر کی طرح دکھائی دیتی ہے۔


ارمانی ملبی لمف نالیوں میں پیدائشی نقص کے ساتھ پیدا ہوئی ہے جسے لیمفنگیوما کہتے ہیں تاہم اس بچی میں اس کی شدید قسم پائی جاتی ہے یہ ایک ایسی حالت ہے جس کی وجہ سے لمف کی نالیوں، ٹیوب نما ڈھانچے میں سومی ٹیومر بڑھتے ہیں جو جسم کے گرد سیال جمع کر لیتے ہیں جس سے جسم کا وہ حصہ سوجا ہوا محسوس ہوتا ہے جبکہ اصل میں اس میں سیال موجود ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے ارمانی کا اوپری دھڑ اور بازو سوجن کی وجہ سے اس کے باقی جسم کے مقابلے میں غیر معمولی طور پر بڑے دکھائی دیتے ہیں اسی لیے اس بچی کو بے بی ہلک کا نام دیا گیا ہے۔
ارمانی کی والدہ 33 سالہ چیلسی نے اپنی بیٹی کو پیدائش کے وقت دیکھ پیار بھرا عرفی نام ‘منی ہلک’ دیا کیونکہ وہ ‘منی باڈی بلڈر’ کی طرح نظر آتی تھی۔
ارمانی نے اپنی زندگی کے پہلے تین مہینے سنسناٹی، اوہائیو کے ہسپتال میں گزارے، جہاں بچی کے بازوؤں سے اضافی سیال نکالنے کے لیے علاج کیاگیا۔تاہم اب اس کے بازوؤں اور سینے کو نارمل سائز میں لانے کے لیے اضافی لمف کی نالیوں کو ہٹانے کے لیے سرجری کی جائے گی۔


ارمانی کی والدہ چیلسی کو حمل کے 17ویں ہفتے میں ڈاکٹروں نے بچی میں نقص کی تشخیص کر کے آگاہ کردیا تھا۔اور یہ بھی کہاتھا بچی کے بچنے کی کوئی امید نہیں ہے تاہم چیلسی نے بچی کو زندی حالت میں جنم دیا۔ بچی کی پیدائش وقت سے پہلے یعنی 33 ہفتوں میں سی سیکشن کے ذریعے ہوئی اور پیدا ہوتے ہی وہ رونے لگ گئی جس کی ڈاکڑوں کو کوئی امید نہیں تھی۔
ارمانی جب پیدا ہوئی تو اس کا وزن 12 پونڈ تھا جوکہ ایک نارمل بچے کے وزن سے تین گنا زیادہ تھا، اور جب اس کی ماں حاملہ تھی تو وہ اتنی بڑی دکھائی دیتی تھی کہ لوگ پوچھتے تھے کہ کیا ان کے تین بچے ہیں۔


لیمفنگیوما اس وقت ہوتا ہے جب جلد کے نیچے سیال سے بھرے دھبے یا سسٹ بن جاتے ہیں کیونکہ لمف کی نالیاں زیادہ بڑھ جاتی ہیں اور جسم سے سیال کا اخراج بند کر دیتی ہیں۔
یہ حالت نایاب ہے، 4,000 میں سے ایک بچے کو متاثر کرتی ہے، اور عام طور پر پیدائش کے وقت یا بچپن کے پہلے چند سالوں میں اس کی تشخیص ہوتی ہے۔
اس بیماری میں سر اور گردن کے حصے میں سوجن عام ہے – کیونکہ ان حصوں میں جسم کے دوسرے حصوں کے مقابلے میں لمف کی نالیاں زیادہ ہوتی ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اگر رحم اس بیماری کی تشخیص ہوجائے تو ایسی صورت میں صرف 22 فیصد بچے زندہ رہتے ہیں۔
چیلسی اپنے آپ کو خوش قسمت محسوس کرتی ہے کہ وہ ڈاکٹروں کو غلط ثابت کرنے میں کامیاب رہی جب انہوں نے اپنے بچے کو زندہ حالت میں جنم دیا۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے فیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں




















