چھاتی کا سرطان خواتین میں سب عام کینسر میں سے ایک ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ہر آٹھ میں سے ایک عورت کو زندگی میں چھاتی کے سرطان ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ چھاتی کے سرطان کی بہت سے وجوہات ہیں جن میں ہارمون کا عدم توازن، مختلف اقسام کا نشہ، ذہنی تناؤ اور غیر صحت بخش غذا شامل ہیں۔
یہ بات سب ہی جانتے ہیں کہ شوگر، کاربوہائیڈریٹس، اور بہت زیادہ پراسیس شدہ غذاؤں کا استعمال عام طور پر کینسر کے بڑھتے ہوئے خطرے کے ساتھ ساتھ دیگر صحت کے مسائل کا سبب بنتا ہے۔
اس تیز رفتار زندگی میں جہاں ہر شخص کام کو فوری کرنا چاہتا ہے اسی طرح وہ بھوک لگنے کی صورت میں کھانا بھی عجلت میں کھانا چاہتا ہے جس کا سب سے آسان حل فاسٹ فوڈ ہے یہی وجہ ہے لوگ اسے کھانا پسند کرتے ہیں، تاہم نوعمر لڑکیوں کو اس کا استعمال کرتے وقت خاص طور پر محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔

بریسٹ کینسر ریسرچ جریدے میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق کے مطابق جنک فوڈ نوعمر لڑکیوں کے لیے جب وہ بلوغت کے مراحل سے گزرہی ہوتی ہیں جہاں دیگر اعضاء کی طرح چھاتی کی نشوونما ہورہی ہوتی ہے خاص طور پر خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، جس سے مستقبل میں چھاتی کے کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
ڈاکٹر سٹیون کوئے، ایم ڈی، پی ایچ ڈی جو اس تحقیق کی مرکزی مصنف ہیں کا کہنا ہے کہ چھاتی کے کینسر کا علاج آنکولوجی میں سب سے جدید اور کامیاب علاج کے طور موجود جانا جاتا ہے تاہم یہ غذائی پرہیز بیماری کی روک تھام کر کے خواتین کی صحت کو بدل دے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ بلوغت کے دوران چھاتی کی نشوونما کئی سالوں تک ایک حساس مرحلہ ہوتا ہے جو کسی بھی ماحولیاتی اثرات بشمول ضرورت سے زیادہ سینے کے ایکس رے یا فاسٹ فوڈ سے متاثر ہوسکتا ہے اگر بلوغت کے دوران ان دونوں میں سے کسی کا بھی سامنا کیا جائے تو یہ اس مرض کے خطرے کو کئی گنا بڑھا سکتا ہے

چھاتی کی نشوونما اور مستقبل میں چھاتی کے کینسر کے درمیان اس ربط کو سمجھ کر نوعمر لڑکیوں کے لیے غذائی رہنما اصولوں کو وضع کرنا چاہئے، تاکہ مستقبل میں اس خطرے کو کم کیا جاسکے۔
میڈیکل یونیورسٹی آف ساؤتھ کیرولائنا کے محققین کے مطابق فاسٹ فوڈز اور جنک فوڈز میں اعلی درجے کی گلیکشن اینڈ پروڈکٹس کی زیادہ مقدار ہوتی ہے، جو کہ نقصان دہ مرکبات ہیں اگر ان کا زائد مقدار میں استعمال کیا جائے تو یہ جسم میں جمع ہوکر کئی بیماریوں کے خطرے کو بڑھا سکتے ہیں۔
یہ اس وقت ہوتا ہے کہ جب شوگر خون کے دھارے میں موجود پروٹین یا چربی کے ساتھ تعامل کرکے تو اے جی ای ایس بناتے ہیں۔ مصنفین کے مطابق اے جی ای ایس کی بڑھتی ہوئی سطح چھاتی کے کینسر کے بڑھتے ہوئے خطرے سے منسلک ہے۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے فیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں




















