دنیا بھر میں لوگوں ایک بڑی تعداد مختلف ملازمت کی نتیجے میں سارادن بیٹھ کر گزارنے پر مجبور ہیں اور دوسری طرف بچے اور بڑے موبائل پر اپنا وقت گزارتے ہیں وجہ کوئی بھی ہوبیٹھا صحت کے لیے انتہائی نقصان کا باعث بنتا ہے۔ ماہرین صحت اس عادت کو تمباکونوشی کی طرح خطرناک قرار دیتے ہیں۔
تاہم اچھی خبر یہ ہے کہ آپ روزانہ مختصر دورانیے کی ورزش کر کے پورے دن بیٹھنے کے مضر صحت اثرات کو دور کرسکتے ہیں۔
اگرچہ کیوبیکل کی ملازمت کئی طرح کے امراض اور قبل از موت کا باعث بن سکتی ہے تاہم ایک نئی تحقیق میں نے سارا دن بیٹھنے کے منفی اثرات کو دور کرنے کے طریقے تلاش کیے گئے ہیں۔
ایک اوسطا امریکی اگر وہ جاگ رہا ہے تو تقریباً نو گھنٹے بیٹھ کر گزارتا ہے، سابقہ تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ دن بھر بیٹھ کر گزارنا ڈیمنشیا، موٹاپا، دل کی بیماری اور یہاں تک کہ موت کے بڑھتے ہوئے خطرے سے منسلک ہے۔
تاہم برٹش جرنل آف اسپورٹس میڈیسن میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق، محض 22 منٹ کی اعتدال سے لے کر بھرپور جسمانی سرگرمیاں دن بھر بیٹھے رہنے کے مضر صحت اثرات کے خطرے کو کم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
![]()
مطالعہ کے مصنف ایڈورڈ سیگلو، جو آرکٹک یونیورسٹی آف ناروے کے ایک محقق ہیں کا کہنا ہے کہ تھوڑی سی مشقت بہت زیادہ کار آمد ثابت ہوسکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ایسی سرگرمیاں جس کے کرنے پر دل کی دھڑکن کو بڑھتا ہوا محسوس کریں جیسے تیز چلنا، باغبانی کرنا، پہاڑی پر چلنا۔ تاہم دن میں دوبار 10 منٹ کے لیے کی جانے والی چہل قدمی جیسے بس سے سفر کرتے ہوئے کام کی جگہ جاتے یا گھر واپس آتے ہوئے ایک اسٹاپ پہلے اتر جانا آپ کو کافی فائدہ پہنچا سکتی ہے۔
اس تحقیق میں محققین نے 2003 اور 2019 کے درمیان 11,989 مریضوں کے اکٹھے کیے گئے ڈیٹا کا تجزیہ کیا، جنہوں نے ایکٹیویٹی ٹریکر پہنا ہوا تھا۔
سویڈن، ناروے اور امریکہ سے تعلق رکھنے والے یہ تمام شرکاء جن کی عمر کم از کم 50 سال تھی اور یہ ہفتے میں چار دن 10 گھنٹے بیٹھ کر کام کرتے تھے اور یہ سلسلہ کم از کم دو برس تک جاری رہا۔
پانچ سالوں کے دوران 805 افراد کا انتقال ہوگیا جن میں سے آدھے سے زیادہ روزانہ 10.5 گھنٹے یا اس سے زیادہ بیٹھے رہتے تھے۔
ایسے افراد جو روزانہ 12 گھنٹے یا اس سے زیادہ بیٹھے رہتے تھے اور روزانہ 22 منٹ سے زیادہ ورزش نہیں کرتے تھے ان لوگوں میں اموات کا خطرہ 38 فیصد بڑھ گیا تھا۔
تاہم، ہر روز 22 منٹ یا اس سے زیادہ اعتدال سے لے کر بھرپور جسمانی سرگرمی موت کے خطرے کو کم کرنے سے منسلک تھی، جس سے عندیہ ملتا ہے کہ جتنی زیادہ ورزش کی جائے گی اتنے ہی زیادہ فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔
“اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص روزانہ 22 منٹ یا اس سے زیادہ ورزش کرتا ہے تو اسے بیٹھنے کے وقت سے کوئی زیادہ خطرہ نہیں ہوگا، اور اس طرح مجموعی طور پر موت کا خطرہ کم ہوجائے گا۔
تاہم ماہرین نے یہ مشورہ دیا کہ ہر 10 منٹ کی زیادہ سخت ورزش کو شروع کرنے سے پہلے تین منٹ کے وارم اپ کیا جائے اور اس کے بعد 30 سیکنڈ کا آرام کریں، پھر دہرائیں، اور پھر آخر میں تین منٹ کے کول ڈاؤن کے ساتھ ورزش کو ختم کریں۔
اس طرح یہ جسمانی سرگرمی آپ کے دل کی دھڑکن کو بڑھائے گی، اور ساتھ ہی آپ کو قوت فراہم کرنے، پٹھوں کو تناؤ میں رکھنے اور آپ کے قلبی نظام کو بہتر بنانے میں مدد فراہم کرے گی۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے فیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں




















