Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

اسٹریس ریشیز کسے کہتے ہیں، اور اس سے کیسے نجات حاصل کی جائے؟

آپ کس ذہنی کیفیت سے گرتے ہیں اور دماگ اپنے افعال کو کس طرح  انجام دیتا ہے کا اظہار آپ کی جلد سے بخوبی ہوتا ہے۔ روساکا، ایکنی، ایکزیما اورپسوریسزان تمام جلدی مراض کا براہ راست تعلق بہت زیادہ ذہنی تناؤ سے ہیں۔

یہاں یہ جاننا بہت ضرروی ہے کہ  اسٹریس دو طرح کے ہوتے ہیں، ان میں ایک ایکیوٹ اسٹریس اور دوسرا کرونک اسٹریس۔

کرونک اسٹریس جیسا کہ نام سے ظاہر ہے یہ ایک دائمی ذہنی تناؤ ہوتا ہے جس میں آپ کئی برس سے مبتلا رہیں ہیں یا جوکئی برس سے جاری رہے۔ ایسا تناؤ جلد کے مائیکروبایوم اور پی ایچ لیول  کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔

جلد کے اس طرح کے مسائل کا عموماً حل مصنوعات میں تلاش کیا جاتا ہے  وہ اس کی اوپری سطح پر کام کرتی تاہم اس کے بنیادی وجہ پر اثر انداز نہیں ہوتیں، اس طرح وہ جلد کی اس کیفیت کی بنیادی وجہ کو  دور نہیں کرپا تی، اس طرح جلد مسائل بڑھنے لگتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹریس کو کم کرنے سے جلد بہتر ہوسکتی ہے۔ معالج کے مطابق مراقبہ اور سانس کی مشقیں تناؤ سے نجات دلانے میں معاون ثابت ہوتی ہیں، ساتھ پرسکون نیند، کھی فضا میں ورزش اور رونا تناؤ کو کم کرنے کے بہترن طریقوں میں سے ایک ہے اس طرح آپ اپنی جلد پر حیرت انگیز اثرات محسوس کریں گے۔

اسٹریس کی صورت میں جسم پر ریشیز ہونے لگتے ہیں یہ ایک طرح کی الرجی ہے جو ذہنی تناؤ کے نتیجے میں جنم لیتی ہے جس سے جلد پر خارش، سرخی اور سوجے ہوئے داد نمودار ہونے لگتے ہیں۔

ڈاکٹروں کے مطابق اسے یورٹیکیریا کہا جاتا ہے، جلد پر ان ریشیز کی کئی اور وجوہات بھی ہوسکتی ہیں جن میں مصالحہ دار کھانے، بہت زیادہ گرمی یا سردی، جلد کی مصنوعات، کپڑے دھونے والے صابن یا زیادہ تناؤ شامل ہیں۔

کیا تناؤ ان ریشیز کا سبب بن سکتا ہے؟

اگرچہ ڈرمیٹولوجسٹ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ یہ ریشیز تناؤ کی صورت میں جنم لے سکتے ہیں تاہم ضرروی نہیں کہ یہ اسی کی وجہ سے ہی ہو۔ لیکن اگر اس کی کوئی اور وجہ نہ ہوتو تب تناؤ پر غور کرنا مناسب ہے۔

استریس ریشیز عموماً جلد پر ابھرے ہوئے ہلکے گلابی یا سرخی مائل دکھائی دیتے ہیں یہ جسم کے کسی بھی حصے میں ظاہر ہوسکتے ہیں، تاہم گردن، سینے، چہرے اور بازوؤں پر زیادہ عام ہیں۔ جبکہ کچھ لوگوں میں، یہ ہونٹوں یا پلکوں کی سوجن کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔

 یہ سائز میں چھوٹے اور بڑے ہوتے ہیں اور ان میں جلن اور خارش بہت زیادہ ہوتی ہے۔ ایسے افراد جن میں یہ ریشیز جنم لیتے ہیں ان میں تناؤ زیادہ پایا جاتا ہے۔

اسٹریس ریشیز سے کیسے نجات حاصل کی جائے؟

جب آپ تناؤ میں ہوتے ہیں، تو آپ کا جسم کورٹیسول جسے’’اسٹریس ہارمون‘‘کہا جاتا ہے جاری کرنا شروع کردیتا ہے اس کے ساتھ ہی ہسٹامائنز سمیت دیگر مرکبات کا بھی اخراج ہونے لگتا ہے۔

یہ بات ابھی تک معلوم نہیں ہے کہ جلد اس تناؤ کے ہارمونز کا کیسے اور کیوں رد عمل ظاہر کرتی ہے۔  تاہم یہ تعلق براہ راست نہیں ہے لیکن یہاں یہ جاننا ضروری ہے کہ اسے ٹھیک کیسے کرنا ہے۔

خوش قسمتی سے، اسٹریس ریشیز عارضی ہوتے ہیں تناؤ کم ہونے پر خود ہی ٹھیک ہوجاتے ہیں،

تاہم کچھ افراد ایسے بھی ہیں جن کو ہسٹامین کے اخراج کو کنٹرول کرنے کے لیے ادوات کی ضرورت ہوتی ہے ، اس لیے معالج ان کے لیے  اینٹی ہسٹامائن اینٹی کورٹیسون کریم تجویز کر سکتے ہیں۔

آپ اپنی زندگی میں تناؤ کو دور کرکے اسٹریس ریشیز سے محفوظ رہ سکتے ہیں یہاں تناؤ کو کم کرنے کے لیے کچھ تجاویز دی جارہی ہیں۔

ورزش اور کھیل میں وقت صرف کریں

اسکرین ٹائم اور سوشل میڈیا کے استعمال کو محدود کریں

یوگا، تائی چی اور گہری سانس کی مشق کریں

مراقبہ

کسی دوست کے ساتھ چہل قدمی یا دوسری سرگرمیوں میں حصہ لیں

 کتاب پڑھیں

ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹریس کو کم کرنے سے جلد بہتر ہوسکتی ہے۔ معالج کے مطابق مراقبہ اور سانس کی مشقیں، پر سکون، کھلی فضا میں ورزش اور رونا  تناؤ سے نجات دلانے میں معاون ثابت ہوسکتی ہیں۔ اس طرح آپ اپنی جلد پر حیرت انگیز اثرات محسوس کریں گے۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے فیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں

ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں​