Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

دو ہرے یوٹرس کے ساتھ حاملہ ہونے والی دنیا کی منفرد خاتون

ماں بننا ہر عورت کی خواہش ہوتی ہے، تاہم دنیا کی تمام تر خواتین ایک ہی یوٹرس یا بچہ دانی کے ساتھ جنم لیتی ہیں اور ایک وقت میں ایک ہی یوٹرس سے حاملہ ہوتی ہیں لیکن کیلسی ہیچر دنیا کی وہ واحد خاتون ہیں جو دو یوٹرس کے ساتھ نہ صرف پیدا ہوئی ہیں بلکہ ایک ہی وقت میں دونوں سے حاملہ بھی ہیں۔

امریکا کی اسٹیٹ الاباما سے تعلق رکھنے والی کیلسی کا یہ کیس جس میں وہ دوہرے بچہ دانی کے ساتھ پیدا ہوئی ہے ’’انتہائی نایاب‘‘ ہے جس میں وہ دونوں بچہ دانی سے حاملہ بھی ہے یہ کیس دنیا میں اپنی نوعیت کا پہلا اور انتہائی منفرد کیس ہے جو کسی معجزے سے کم نہیں ہے۔ جبکہ دو بچہ دانی کے ساتھ پیدا ہونے والی کیسلی خاتون کے دونوں یوٹرس سے لڑکی کی پیدائش متوقع ہے۔

کیلسی ہیچر اور ان کے شوہر کیلب پہلے سے ہی تین بچوں کے والدین ہیں جن کی عمریں بلترتیب 7، 4 اور 2 سال ہیں۔ کیلسے کو رواں برس موسم بہار میں معلوم ہوا کہ وہ دوبارہ حاملہ ہو گئی ہے، جس کے بعد انہوں نے ماہر امراض نسواں سے رابطہ کیا جس دیکھ کر وہ چونکا گئی۔

جب یہ بات کیلسی کو بتائی گئی تو وہ حیران رہ گئی انہیں یہ تو علم تھا کہ ان کے جسم میں دو یوٹرس ہیں اور انہیں یقین ہی نہیں آیا کہ اس بار وہ دونوں یوٹرس سے ایک ساتھ حاملہ بھی ہیں اور دونوں سے ہی بیٹیوں کو پیدائش متوقع ہیں۔ ماہرین صحت کے مطابق اس طرح کا حمل خطرہ سمجھا جاتا ہے۔

میو کلینک نے دوہری بچہ دانی کو ایک ’’نادر حالت‘‘ قرار دیا ہے جو مادہ جنین کی نشوونما کے وقت ہوتی ہے، بعض اوقات دو چھوٹی ٹیوبیں جو بچہ دانی کو تشکیل دیتی ہیں ایک بڑا عضو بنانے کے لیے مکمل طور پر شامل نہیں ہوتی ہیں اور دو پچہ دانی بن جاتی ہیں۔

دوہری بچہ دانی والی خواتین میں اکثر کامیاب حمل ہوتے ہیں، لیکن ان میں اسقاط حمل یا قبل از وقت پیدائش کا بھی زیادہ امکان ہوتا ہے۔

دنیا بھر میں دوہری بچہ دانی کا تناسب تقرباً 1 فیصد سے بھی کم ہے، اوریہ 1000 خواتین میں سے صرف تین میں ایسا ہوتا ہے۔ اور اگر دونوں میں حمل ایک ساتھ ٹھہرتا ہے تو یہ اس میں خطرہ بھی زیادہ ہوتا ہے۔

کیلسی کی بچہ دانی مختلف اوقات میں سکڑ سکتی ہے ،اور وہ ہر بیٹی کو گھنٹوں یا دنوں کے وقفے سے جنم دے سکتی ہے۔

ماہرین  صحت کا کہنا ہے کہ کیلسی کےدونوں یوٹرس کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے دونوں میں بچے کی نشوونما ایک جیسی ہورہی ہے یا ان میں فرق ہے۔

کیلسی کی صورتحال اتنی غیر معمولی ہے کہ ڈاکٹروں کو یہ نہیں معلوم کہ دوہرے حمل کو جڑواں بچوں کے طور پر بیان کیا جائے گا یا ہر بچے کی اپنی الگ نال ہوگی۔

 ماہرین کے مطابق طبی لحاظ سے، یہ ایک ایسی نایاب چیز ہے کہ ان پاس اسے جڑواں کہنے کے علاوہ کوئی بہتر طریقہ نہیں ہے۔

کیلسی، دونوں بیٹیوں کو خوش آمدید کہنے کے لیے منتظر ہیں، جبکہ وہ یہ بات بھی تسلیم کرتی ہیں کہ وہ ایک کیس اسٹڈی ہو سکتی ہے۔

کیلسی کے مطابق وہ اپنی فیملی کو جلد مکمل کرنا چاہتی تھی اسی لیے وہ 8 سال سے کم عمر کے پانچ بچے پیدا کرنے کی خواہش مند تھی۔ یہ تیسرا ان کا آخری حمل تھا۔ لیکن وہ یقینی طور پر نعمتوں کے شکر گزار ہیں۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے فیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں

ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں​