Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

سنگین بیماری کا شدید خوف جلد موت کا باعث بن سکتا ہے، تحقیق

سویڈن میں کی جانے والی حالیہ تحقیق کے مطابق ایسے افراد جو کسی بھی سنگین بیماری کا زیادہ خوف رکھتے ہیں وہ ان لوگوں کے مقابلے پہلے مرجاتے ہیں جو صحت کے خدشات کے بارے میں زیادہ محتاط نہیں ہوتے۔

ہائپوکونڈریاسس جسے بیماری کے اضطراب کا عارضہ کہا جاتا ہے ایک غیر معمولی حالت ہے جس کی علامات صحت کی پریشانیوں سے کہیں زیادہ ہوتی ہیں۔

اس عارضے میں مبتلا افراد معمول کے جسمانی معائنے اور لیبارٹری ٹیسٹ کے باوجود اپنے خوف کو دور کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔جبکہ ان میں کچھ ایسے افراد بھی ہیں جو ڈاکٹروں کو بار بار بدلتے ہیں۔

اس حوالے سے نیویارک کے مونٹیفور میڈیکل سینٹر کے ڈاکٹر جوناتھن ای الپرٹ کا کہنا ہےکہ ہم میں سے بہت سے لوگ کم ہائپوکونڈریا ہیں۔ لیکن اسپیکٹرم کی دوسری انتہا پر ایسے لوگ بھی ہیں جو ایک دائمی پریشانی اور تکلیف اور کسی سنگین بیماری کے بارے میں خوف کی حالت میں رہتے ہیں، اس عارضے میں مبتلا افراد کا علاج کرنا نہایت ضروری ہے، ان علاج میں سی بی ٹی، ، دماغ کو پرسکون رکھنے والی تکنیک، عارضے کے متعلق آگاہی، اور بعض اوقات اینٹی ڈپریسنٹ ادویات شامل ہو سکتی ہیں۔

محققین کے مطابق اس عارضے کی تشخیص کیے جانے  والے افراد میں قدرتی اور غیر فطری دونوں وجوہات سے موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، خاص طور پر خودکشی کے خطرات۔

تحقیق کی قیادت کرنے والے سویڈن میں کیرولنسکا انسٹی ٹیوٹ کے ڈیوڈ میٹائیکس کولس نے اس تحقیق کے دوارن 4,100 لوگوں کو دیکھا جن میں ہائپوکونڈریاسس تشخیص ہوئی تھی اور ان کا موازنہ دوسرے  41,000 لوگوں سے کیا جو جنس اور رہائش میں ان سے ملتے جلتے تھے اور یہ تحقیق 2017 سے 2020 تک جاری رہی۔

اس تحقیق کے مطابق ہائپوکونڈریاسس کی تشخیص کیے جانے افراد میں خودکشی سے موت کا خطرہ چار گنا زیادہ تھا، ہائپوکونڈریاسس والے لوگوں میں مجموعی طور پر موت کی شرح زیادہ تھی اور یہ شرح ایک سال میں، 8.5 بمقابلہ 5.5 فی 1,000 افراد تھی۔ اس طرح اس حالت میں مبتلا افراد دوسروں کے مقابلے میں کم زندہ رہے، جن کی اوسط عمر 70 کے مقابلے 75 سال تھی۔ اور ان میں دوران خون اور سانس کی بیماریوں سے موت کا خطرہ زیادہ تھا۔

امریکن سائیکیٹرک ایسوسی ایشن کی کونسل آن ریسرچ کی قیادت کرنے والے الپرٹ نے کہا کہ ذہنی صحت کے پیشہ ور افراد کو ضرورت سے زیادہ پریشان مریض کا خاص خیال رکھنے کو کہاجاتا ہے۔

اس علاج کے دوران اکثر مریض ناراض بھی ہوجاتے ہیں کیونکہ وہ یہ کہتے ہیں کہ ان پر علامات محسوس کرنے کا الزام لگایا جا رہا ہے اور ان سے نہایت محبت اور احترام سے یہ کہاجاتا ہے کہ جو کچھ بھی آپ محسوس کر رہے ہیں ایک قسم کی حالت کا نام ہے اور آپ کو اس وہم سے نجات دلانے کے لیے علاج کیا جارہاہے۔