Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

یہ ایئر رنگ آپ کو بیماری کی علامات سے بروقت آگاہ کر سکتے ہیں

گزشتہ کئی برسوں سے صحت کی نگرانی کے لیے مختلف الیکٹرانک ڈیوائسز متعارف کرائی جاچکی ہیں اورہر ایک کا یہی دعویٰ ہے کہ وہ بہت سی بیماریوں کی علامات کی نگرانی کر کے آپ کو صحت کی حالت سے بروقت آگاہ کر سکتی ہے اسی میں اب تھرمل ایئر رنگ بھی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ اب تک جتنی بھی صحت کی نگرانی کرنے والی ڈیوائسز متعارف کرائی گئی ہیں ان میں زیادہ تر کلائی گھڑیاں، لاکٹ یا بیج ہیں تاہم بطور ڈیوائس پہلی بار ایئر رنگز تیار کیے گئے ہیں، جو صحت کو ٹریک کرنے میں مدد کرسکتی ہیں۔

اس منفرد ڈیوائس کو بنانے والے یونیورسٹی آف واشنگٹن کے محققین کے مطابق یہ تھرمل بالی صارف کے کان کی لو کے درجہ حرارت کی مسلسل نگرانی کرکے درست پیمائش کر سکتی ہے۔

اس ڈیوائس کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے ایک چھوٹے پیمانے پر تحقیق کی گئی جس میں ان ایئر رنگز کو چھ شرکاء کے کانوں میں پہنایا گیا۔نتائج کے مطابق، ایئر رنگ نے آرام دہ حالت کے دوران جلد کے درجہ حرارت کو محسوس کرنے میں ایک اسمارٹ واچ  سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

محققین نے کہا کہ اس طرح کی ریڈنگ سے صارفین کو بیماری، تناؤ، کھانے، ورزش اور بیضہ دانی کی علامات کی نگرانی میں مدد مل سکتی ہے۔ یہ اسمارٹ بالی کا پروٹو ٹائپ سائز اور وزن میں ایک چھوٹے پیپر کلپ سے ملتا جلتا ہے اور اس کی بیٹری 28 دن تک چلتی ہے۔

واضح رہے کہ اس ایئر رنگ میں کان کی جانب ایک مقناطیسی کلپ کے ساتھ درجہ حرارت نوٹ کرنے والا ایک سینسر نصب ہے جو نہ صرف آسانی سے پہنا جاسکتا ہے بلکہ یہ کان کی لو سے مس ہوکر بہتر انداز میں درجہ حرارت کو نوٹ کر سکتا ہے، جبکہ دوسرا سینسر کمرے کے درجہ حرارت کا اندازہ لگانے کے لیے اس سے تقریباً ایک انچ نیچے لٹکایا گیا ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ صحت کی نگرانی کرنے والے اس ایئر رنگز نما ٹریک کو موتیوں اور دیدہ زیب پھروں سے سجا کر مزید خوشنما بنا یا جاسکتا ہے جس سے اس درستگی پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

اس تحقیق کے دوران محققین نے یہ بھی محسوس کیا کہ ہاتھ یا کلائی کے بجائے کان کی لو پر جلد کے درجہ حرارت کو محسوس کرنا زیادہ درست ثابت ہوا۔ جبکہ اتنا چھوٹا ٹریکر جو نہ صرف مضبوط اور قابل عمل ہے اور جسے روازنہ جارج کرنے بھی ضرورت نہیں ہے ایک عظیم کارنامہ ہے۔

ٹیم نے اس کی تیاری میں نہ صرف سائز کو چھوٹا رکھا بلکہ اسے بار بارجارچ کرنے جیسے جھنجھٹ سے بھی آزاد کیاہے، اور اس ایئر رنگ کی تیاری میں انہوں ایک بلوٹوتھ چپ، ایک بیٹری، دو ٹمپریچر سینسرز اور ایک اینٹینا کا استعمال کیا ہے، یہ ایئر رنگ ڈیٹا کو منتقل کرنے کے لیے کسی ڈیوائس کے ساتھ براہ راست جڑنے کے بجائے بلوٹوتھ ایڈورٹائزنگ موڈ کا استعمال کرتا ہے۔ البتہ بلوٹوتھ ڈیوائس کو دکھانے کے لیے استعمال ہونے والی ٹرانسمیشنز کو جوڑا جا سکتا ہے۔

یہ ایئر رنگ کسی بھی شخص کے درجہ حرارت کو پڑھنے اور ڈیٹا کو منتقل کرنے کے بعد، بجلی بچانے کے لیے سلپ موڈ میں چلا جاتا ہے۔

بخار میں مبتلا پانچ مریضوں پر کی گئی ایک تحقیق سے معلوم ہوا کہ ان کے کان کی لو کا اوسط درجہ حرارت 20 صحت مند مریضوں کے درجہ حرارت کے مقابلے میں تقریباً 11 ڈگری فارن ہائیٹ سے بڑھا ہوا تھا جو بخار کی نگرانی کے لیے اس کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔

کان کی لو کا درجہ حرارت بھی بنیادی جسمانی درجہ حرارت سے زیادہ مختلف ہوتا ہے۔ محققین نے بتایا کہ ٹیسٹوں میں، بالی نے کھانے، ورزش، تناؤ اور بیضہ دانی سے متعلق درجہ حرارت کی تبدیلیوں کا کامیابی سے پتہ لگایا ۔