Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

انٹرمٹنٹ فاسٹنگ کی افادیت بڑھانے کے لیے سنہری اصول دریافت

طویل وقفے کے بعد کھانا کھانے کو’انٹرمٹنٹ فاسٹنگ‘ کہا جاتا ہے جس کے صحت پر بے شمار فوائد مرتب ہوتے ہیں، تاہم اب سائنسدانوں نے اس کی افادیت بڑھانے کے لیے ایک سنہری اصول دریافت کیا ہے جو وقفے وقفے سے روزہ رکھنے والے اس ڈائیٹ پلان کو کامیاب بنا سکتا ہے۔

فی زمانہ انٹرمٹنٹ فاسٹنگ بے پناہ مقبولیت حاصل کر رہی ہے  جس پر ہالی ووڈ کے مشہور ستاروں سے لے کر عام افراد تک سب ہی اس پر عمل پیرا ہیں، تاہم وقفے وقفے سے روزہ رکھنے والا یہ ڈائٹ پلان ہر کسی کے لیے مؤثر ثابت نہیں ہوتا۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انٹر میٹنٹ فاسٹنگ  کے اثرات بڑھانے کے لیے ضروری ہے کہ اس بات پر توجہ مرکوزکی جائے کہ آپ کیا کھاتے ہیں، نہ کہ کب کھاتے ہیں۔

امریکی محققین کے ایک گروپ نے دریافت کیا کہ یہ ڈائیٹ وزن کم کرنے اور بلڈ شوگر کو مستحکم کرنے کے لیے صرف اس صورت میں مؤثر ہے جب لوگ اس دوران اپنی ضرورت سے کم کیلوریز کھاتے ہیں، جبکہ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جائے تو بے جانہ ہوگا کہ آپ کتنی کیلوریز لیتے ہیں نہ کہ کس وقت لیتے ہیں۔

اس تحقیق میں دو گرپوں کا موازنہ کیا گیا، اور انہیں ایک ماہر کی تجویز کردہ ڈائیٹ پرعمل کرنے کو کہا گیا۔ ایسے فربہ افراد جو صبح 8 بجے سے شام 6 بجے تک کے یعنی دن 10 گھنٹوں کے دوارن کھانا کھایا اور بقایا وقت میں روزہ رکھا، یعنی صبح کے وقت زیادہ کیلوریز لی انہوں نے 12 ہفتوں میں اوسطاً 2.3 کلوگرام (5.1 پاؤنڈ) وزن کم کیا، دوسری جانب وہ رضاکارجو صبح 8 بجے اور آدھی رات میں کھانے کے معمول پر قائم رہے اور زیادہ تر کیلوریز شام میں لیں، انہوں نے 2.6 کلوگرام (5.7 پاؤنڈ) وزن کم کیا۔

محققین کا کہنا ہے کہ محدود وقت میں کےکھانے کا عمل وزن  کم نہیں کرتا بلکہ اس کا دارومدار اس کیلوریز پر ہے جو آپ لیتے ہیں چاہے اسے کبھی بھی لیا جائے۔