ریسٹ لیس لیگ سنڈروم (RLS) ایک نیورولوجیکل مرض ہے جو ٹانگوں میں بے آرامی کا سبب بنتا ہے اور ان کو حرکت دینے کی شدید خواہش پیدا کرتا ہے۔ دنیا بھر میں لاکھوں افراد اس مرض میں مبتلا ہونے باوجود اکثر اسے غلط تشخیص کیا جاتا ہے۔
گزشتہ ماہ ریسٹ لیس لیگ سنڈروم کی آگاہی کا دن منایا گیا، اس دن کے منانے کا مقصد عوام کو اس بیماری کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا ہے۔
ڈاکٹر جینیفر گولڈشمید جو کہ اس مرض کے علاج کرتی ہیں کا کہنا ہے کہ اس بیماری کی آگاہی کی اشد ضرورت ہے۔ بہت سے لوگ اس بیماری سے لاعلم ہیں۔ اکثر لوگ اسے اعصابی تناؤ یا عادت سمجھتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ اس سے کہیں زیادہ ہے۔
ڈاکٹرز حضرات کے مطابق ریست لیس لیگ سنڈروم ایک حقیقی مرض ہے جبکہ مختلف عوامل اس مرض کا سبب بن سکتے ہیں یا اس کی شدت میں اضافہ کر سکتے ہیں وہ کیا ہیں جانتے ہیں۔
آئرن کی کمی ایک بڑی وجہ
آر ایل ایس کے مریضوں میں اکثر آئرن کی کمی پائی جاتی ہے۔ ڈاکٹر اینڈریو سپیکٹر کے مطابق، کچھ لوگوں کو آئرن سپلیمنٹس لینے سے بہتری محسوس ہوتی ہے، یہاں تک کہ اگر ان کے خون میں آئرن کی سطح معمول کے مطابق ہی کیوں نہ ہو۔
مخصوص ادویات اس کو بڑھا سکتی ہیں
کچھ ادویات، جیسے اینٹی ڈپریسنٹس اور درد کش ادویات، اس مرض کو بڑھا سکتی ہیں۔ اس کا تعلق جسم میں ڈوپامین کے توازن سے ہو سکتا ہے، جو اس بیماری کا ایک بڑا عنصر سمجھا جاتا ہے۔
خواتین مرد حضرات کی نسبت زیادہ متاثر ہوتی ہیں
تحقیق سے پتا چلا ہے کہ خواتین میں اس مرض کا امکان زیادہ ہوتا ہے، جس کی وجہ ابھی تک واضح نہیں ہے۔
عمر کے ساتھ اس کا امکان بڑھ جاتا ہے
آر ایل ایس زیادہ تر 45 سال یا اس سے بڑی عمر کے افراد میں عام ہے، اور اس کی وجہ دیگر صحت کے مسائل بھی ہو سکتے ہیں جو عمر بڑھنے کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ اگر آپ اس مرض کی علامات سے پریشان ہیں تو مدد طلب کریں، کیونکہ اس کا علاج ممکن ہے۔




















