Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

کھڑے رہنا بھی بیٹھنے کی طرح صحت کے لیے مضر ہے، تحقیق

ماضی میں کیے جانے والے کئی مطالعوں میں زیادہ دیر بیٹھنےکے نقصانات سامنے آچکے ہیں تاہم کھڑا رہنا بھی صحت کے مفید نہیں ہے، یہ بات حال ہی میں کی جانے والی ایک تحقیق میں سامنے آئی ہے۔

ایک نئی تحقیق کے مطابق زیادہ دیر تک کھڑے رہنے سے دوران خون کی بیماری کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا حل صرف حرکت کرنا ہے۔

کئی سالوں سے تحقیق یہ بتاتی رہی ہے کہ سارا دن بیٹھنا صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ مسلسل بیٹھنے کا تعلق موٹاپا، قلبی امراض اور ٹائپ 2 ذیابیطس جیسی کئی سنگین بیماریوں سے ہے، تاہم ان خطرات کو کم کرنے کے لیے، لوگوں کی بڑی تعداد کھڑے ہوکر کام کرتی ہے یہی وجہ ہے  کہ دنیا بھر کے مختلف دفاتر میں اس مقصد کے لیے اسٹینڈک ڈیسک متعارف کرائی گئی ہیں، تاکہ دن کا زیادہ  وقت کھڑے رہ کر گزار سکیں۔

انٹرنیشنل جرنل آف ایپیڈیمیالوجی میں شائع ہونے والی یہ تحقیق دعویٰ کرتی ہے کہ زیادہ دیر تک کھڑے رہنے سے قلبی بیماری کا خطرہ کم نہیں ہوتا بلکہ بڑھ سکتا ہے۔

سڈنی یونیورسٹی کے محققین یہ جاننا چاہتے تھے کہ آیا کھڑے ہونا بیٹھنے کا صحت مند متبادل ہے جیسا کہ پچھلی تحقیقات نے تجویز کیا تھا۔ تاہم ٹیم نے پایا کہ زیادہ دیر تک کھڑے رہنے سے کسی شخص کے قلبی بیماری کے خطرے میں کمی نہیں آتی۔ زیادہ دیر کھڑے رہنا ڈیپ وین تھرومبوسس  اور ویریکوس وین کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ یہ دونوں امراض خون کی رگوں سے متعلق ہے وین تھرومبوسس میں خون جمنےلگتا ہے جبکہ ویریکوس وین میں پیر کی رگوں میں سوجن آجاتی ہے اور وہ ابھری ہوئی محسوس ہوتی ہیں، یہ دونوں ہی امراض قلب کا سبب بن سکتی ہیں۔

زیادہ دیر کھڑے رہنے سے کیا مراد ہے؟

محققین نے 83,000 سے زیادہ بالغ افراد کے دل کی حالت اور دوران خون کی بیماری کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا اور یہ نوٹ کیا کہ دو گھنٹے سے زیادہ کھڑے رہنے پر ہر اضافی 30 منٹ کھڑے رہنے سے دوران خون کی بیماری کا خطرہ 11 فیصد بڑھ جاتا ہے۔

تو کیا آپ کو بیٹھنا چاہیے یا کھڑا رہنا چاہیے؟

بہت سارے مطالعوں سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ زیادہ دیر تک بیٹھنا آپ کی صحت کے لیے اچھا نہیں ہے اور یہ جلد موت کا بھی سبب بن سکتا ہے۔ اس لیے کوشش کریں کہ کھڑے رہنے کے بجائے دن بھر فعال رہیں۔