ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے کہا ہے کہ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان تنازع کے مذاکرات کے ذریعے حل، براہ راست رابطوں کے فروغ اور کشیدگی میں کمی کا خواہاں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ضرورت پڑنے پر پاکستان دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ ثالثی کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان سات نکات پر بات چیت جاری ہے اور امریکا نے بھی ایران کے سات نکات پر اپنا مؤقف شیئر کیا ہے۔
دفتر خارجہ کی ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران سجاد حیدر خان نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست رابطے پاکستان کی ثالثی کوششوں کا نتیجہ ہیں۔ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پہلے سے موجود ہے اور زیر بحث بعض نکات اس سے مطابقت رکھتے ہیں۔ امریکا اور ایران کے تنازع کے حل کے لیے پاکستان سمیت دیگر اہم ممالک کا کردار اب بھی موجود ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان براہ راست تعاون اور کشیدگی میں کمی چاہتا ہے اور مذاکرات کے ذریعے تنازع کا پُرامن حل اس کی ترجیح ہے۔
سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت
سجاد حیدر خان نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت کی ہے۔ پاکستان اس سے قبل 2 ستمبر کو مدینہ منورہ پر ہونے والے حملوں کی بھی مذمت کر چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان مکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے اور سعودی عرب اور اس کے عوام کے دفاع کے حق سے متعلق اپنے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔
ترجمان کے مطابق مکہ دفاعی معاہدے کی اسٹریٹجک، سیاسی اور دفاعی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں پاکستان کے وزیر خارجہ، وزیر دفاع اور فیلڈ مارشل نے شرکت کی۔ اجلاس میں دفاعی تعاون کو مزید مؤثر بنانے کے لیے عملی اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا۔
افغانستان سے دہشت گردی پر پاکستان کا مؤقف
ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان نے افغانستان سے متعلق ماسکو فارمیٹ اجلاس میں شرکت کی اور دہشت گردی کے معاملے پر اپنا مؤقف واضح طور پر پیش کیا۔ پاکستان نے مؤقف اختیار کیا کہ افغانستان کے اندر سے پاکستان میں دہشت گردی ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی سے متعلق یہ نکات ماسکو فارمیٹ کے سابقہ مشترکہ اعلامیوں میں بھی شامل رہے ہیں، تاہم طالبان نے مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے سے انکار کر دیا۔ ان کے مطابق مشترکہ اعلامیہ جاری نہ ہونے سے خطے کے حقائق تبدیل نہیں کیے جا سکتے۔
بھارت میں پاکستانی ویب سائٹس اور فنکاروں کا مواد بلاک کرنے پر تنقید
سجاد حیدر خان نے بھارت میں آزادی اظہار کی صورت حال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی فوجیوں کو زندہ دکھانے والی سوشل میڈیا پوسٹس بھارت نے بلاک کیں۔ ان کے مطابق بھارت میں آزادی اظہار اور مختلف نقطہ نظر پیش کرنے کی گنجائش محدود کی جا رہی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ بھارت میں ہزاروں پاکستانی ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بلاک ہیں، جبکہ پاکستانی ٹی وی چینلز بھی مکمل طور پر بند ہیں۔ راحت فتح علی خان سمیت پاکستانی فنکاروں اور گلوکاروں کی ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پوسٹس بھی بھارت میں بلاک کی گئی ہیں۔
عالمی پابندیوں کی پاسداری جاری رکھنے کا اعلان
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان عالمی پابندیوں کے نظام اور متعلقہ بین الاقوامی و قابل اطلاق تجارتی پابندیوں کی پاسداری جاری رکھے گا۔ غیر قانونی ٹرانزٹ روٹس کے ذریعے تجارت سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ انہیں اس معاملے کی مخصوص تفصیلات کا علم نہیں، تاہم پاکستان قابل اطلاق بین الاقوامی ضوابط اور پابندیوں کی پابندی کرتا رہے گا۔
















