سابق کپتان راشد لطیف نے بابر اعظم کی قیادت میں پاکستانی ٹیم میں بدامنی کی افواہوں کو مسترد کر دیا۔
سابق کپتان راشد لطیف کا اپنے یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پاکستان کی موجودہ ٹیم میں بابر اعظم جیسا کوئی کھلاڑی موجود نہیں ہے اور نہ ہی ان کی کپتانی کو کوئی مسئلہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ بابر اعظم کے ساتھ آج جو کچھ ہورہا ہے وہی کچھ سال قبل سرفراز احمد کے ساتھ بھی ہوا تھا جو ایک بہت بڑی غلطی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے سرفراز کے وقت بھی آواز اٹھائی تھی کیونکہ یہ بڑا اقدام تھا اور ہم آج بھی اس طرح کی حرکتوں سے باز نہیں آرہے ہیں۔
راشد لطیف کہتے ہیں ’اگر آپ سوچتے ہیں ہے کہ بابر اعظم کو کپتانی سے ہٹاکر آپ ری سیٹ کرسکتے ہیں، آپ کہتے ہیں کہ کھلاڑی بابر کی شکایت کررہے ہیں لیکن اس وقت ان کے سامنے کوئی کھڑا نہیں ہوسکتا‘۔
سابق کپتان نے کہا کہ ’پاکستان کے پاس موجودہ کپتان کو تبدیل کرنے کے لیے متبادل کی کمی ہے، آپ مجھے آپشنز بتائیں۔ شاداب خان کتنا کھیلتا ہے؟ جب کہ وہ چوٹ کی وجہ سے 50 فیصد میچز سے بھی محروم ہے، اس لیے وہ آپشن نہیں ہے‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر شاداب ہر جگہ دستیاب ہوتا تو میں خود کہہ دیتا کہ بابر کو عہدہ چھوڑ دینا چاہیے جب کہ شاہین بھی انجری کی وجہ سے باہر ہے اور ایسے وقت میں صرف ایک ہی لڑکا بچتا ہے جو تمام میچز کھیلتا ہے اور وہ بابر اعظم ہے۔




















