حکومت نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو میڈیا رائٹس فروخت کرنے سے روک دیا ہے جب کہ ہر فیصلے سے قبل منظوری کو لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔
خبر رساں ادارے کے مطابق پی سی بی کی انتظامی کمیٹی صرف روزمرہ کے معاملات کو ہینڈل کرنے تک محدود ہو کر رہ گئی ہے جس کی وجہ سے اہم معاملات تعطل کا شکار ہیں۔
فروری میں شیڈول پاکستان سپر لیگ کے میڈیا رائٹس میں تاخیر کی وجہ سے خدشات جنم لینے لگے ہیں جب کہ حکومت نے مداخلت کرتے ہوئے پی سی بی کو ایک خط جاری کیا ہے۔
حکومت کی جانب سے دیے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی کام کرنے سے قبل اجازت لینا ضروری ہوگا جب کہ ہر فیصلے کے لیے وزیر اعظم کی منظوری کی وجہ سے فیصلہ سازی میں تاخیر کا خدشہ ہے۔
پی ایس ایل کے میڈیا رائٹس کی فروخت لیگ کی کامیابی کے لیے بہت اہمیت رکھتی ہے جب کہ حکومت نے طویل مدتی معاہدوں پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
اس حوالے سے پی سی بی کو ہدایت کی گئی ہے کہ مختصر معاہدوں پر توجہ مرکوز کرے جب کہ طویل تاخیر کی وجہ سے پی ایس ایل کے میڈیا رائٹس کی قدر میں ممکنہ کمی پر تشویش بڑھ رہی ہے۔
غیر یقینی صورت حال کے باعث پی ایس ایل 9 کے شیڈول کے اجراء کو بھی روک دیا گیا ہے اور میڈیا رائٹس کے کامیابی سے فروخت کے بعد ہی اسے حتمی شکل دی جائے گی۔
واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کو پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) اور بین الاقوامی کرکٹ کے میڈیا حقوق کی فروخت سے 8 سے 10 ارب روپے کے ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے۔




















